میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
دریائے سندھ میں پانی کی کمی، زرعی زمینیں بنجر ہونے لگیں

دریائے سندھ میں پانی کی کمی، زرعی زمینیں بنجر ہونے لگیں

ویب ڈیسک
پیر, ۲۴ مارچ ۲۰۲۵

شیئر کریں

 

دریا ئے سندھ میں پانی کی کمی 52 فیصد ہوگئی اورسکھربیراج پر69 فیصد تک پہنچ گئی
کوٹری نہرمیں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی، ٹھٹھہ ، سجاول میں دریا کی زمین خشک

دریائے سندھ میں کوٹری کے مقام پر پانی سطح گر گئی، پانی کی کمی کے باعث زرعی زمینیں بنجر ہونے لگیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ جو کبھی سندھ کی زرخیزی کی پہچان تھا، آج پانی کی کمی کا شکار ہو چکا ہے، کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے جس کے باعث ٹھٹھہ ، سجاول پل کے اطراف دریا کی زمین خشک ہو چکی ہے اورزرعی زمینیں بھی بنجر ہونے لگی ہیں۔ دریا ئے سندھ میں پانی کی کمی 52 فیصد ہوچکی ہے۔سکھربیراج پر ریکارڈ پانی کی کمی 69 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کی سطح میں تشویشناک حد تک کمی ہوئی ہے۔ انچارج کنٹرول روم نے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کی اتنی کمی پہلے کبھی نہیں دیکھی، پانی اتنا کم ہے کہ نہروں میں چھوڑے جانے کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔گڈو بیراج پر پانی کی سطح 20 ہزار اور سکھر بیراج پر 15 ہزار کیوسک رہ گئی ہے،سکھر، دادو کینال میں پانی ختم ہوگیا ہے جبکہ بیگاری کینال میں ہر طرف زمین خشک نظر آ رہی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں