میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
شہریوں کوملٹری کورٹ سے سزائین عالمی معاہدے سے متصام ہیں،یورپی یونین کااظہارتشویش

شہریوں کوملٹری کورٹ سے سزائین عالمی معاہدے سے متصام ہیں،یورپی یونین کااظہارتشویش

Author One
پیر, ۲۳ دسمبر ۲۰۲۴

شیئر کریں

برسلز:یورپی یونین نے 9 مئی کے مقدمات میں شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق21 دسمبر کو یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی سزاں کے یہ فیصلے پاکستان کی شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) سے متصادم ہیں، جسے پاکستان نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت تسلیم کیا ہے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ آئی سی سی پی آر کے آرٹیکل 14 کے تحت ہر فرد کو منصفانہ اور عوامی مقدمے کی سماعت کا حق حاصل ہے، جس میں آزاد، غیر جانبدار اور اہل شامل ہیں۔

مزید برآں، آرٹیکل 14 میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ فوجداری مقدمات کے فیصلے عوامی سطح پر دیے جائیں گے۔اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے یورپی یونین کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز (GSP+) کے تحت 27 بین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری کی ہے، جن میں ICCPR بھی شامل ہے۔

اس اسکیم کے تحت پاکستان کو تجارتی مراعات حاصل ہیں۔یاد رہے کہ 20 دسمبر کو پاکستان میں سانحہ 9 مئی میں ملوث 25 افراد کو فوجی عدالتوں کی جانب سے 2 سے 10 سال تک قید بامشقت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف کارروائی کی تھی، جس کے نتیجے میں فوجی عدالتوں نے ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کی اور سزائیں سنائیں۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں