میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مسلمان کی حاجت روائی کرنا

مسلمان کی حاجت روائی کرنا

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

 

اپنے مسلمان بھائی مدد کرنا ،حاجت روائی کرنا اس کے کام آنا اللہ تعالیٰ کو انتہائی محبوب ہے ،مسلمان بھائی کے ساتھ نیکی کا معاملہ اللہ تعالیٰ
کو بے حد پسند ہے ،مسلمان کو چاہیے ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی مد د کرے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے، نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی معاونت کرو (سورۃ المائدہ)

ارشاد ربانی ہے‘‘اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسائے سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور اُن خدمت گاروں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو۔ یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے’’ (سورۃالنساء)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے ‘‘نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے،اور مال سے محبت کے باوجود اسے قرابت داروں، یتیموں، محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ سختی، مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں(سورۃ البقرہ )سورۃ البقرہ ہی میں ارشاد ہے ‘‘لوگ آپﷺ سے پوچھتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں کیا خرچ کریں؟ فرما دیجئے کہ جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست ہے) مگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتے دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو، بے شک، اللہ تعالیٰ اسے خوب جاننے والا ہے۔’’ (سورۃ البقرہ)

حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کی مدد اور فائدے کے لیے قدم اٹھاتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ایسی مخلوق کو پیدافرمایا ہے جن کا کام لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ انھیں عذاب نہیں کرے گا جب کا قیامت کا دن ہو گا ان کے لیے نور کے منبر رکھے جائیں گے وہ اللہ تعالیٰ سے گفتگو کر رہے ہوں گے حالانکہ لوگ ابھی حساب میں ہوں گے۔ نبی کریمﷺ نے اشاد فرمایا: جو کسی مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے چاہے اس کی حاجت پوری ہو یا نہ ہو اللہ تعالیٰ کوشش کرنے والے کے اگلے پچھلے سب گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے لیے دو باتیں لکھ دی جاتی ہیں جہنم سے رہائی اور منافقت سے برات۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص مسلمان بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر قدم کے بدلے اس کے نامہ اعمال میں ستر نیکیاں لکھ دیتا ہے اور ستر گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اگر وہ حاجت اس کے ہاتھوں پوری ہو جائے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے آیا تھا اور اگر اسی دوران اس کی موت واقع ہو جائے تو بلا حساب جنت میں جائے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے انعامات ہیں جو ان لوگوں کے لیے مخصوص ہیں جو لوگوں کی حاجت روائی کرتے رہتے ہیں اور جب وہ یہ طریقہ چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ وہ انعامات دوسروں کو منتقل کر دیتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کسی مسلمان کی پریشانی کو دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا۔ (مسلم شریف)

صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ‘‘صرف دوہی لوگ قابل رشک ہیں، ایک تو وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت عطا کیا اور اسے خیروبھلائی اورنیکی کے کاموں میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت یعنی عقل ودانائی اور معاملہ فہمی دی اور وہ اپنی حکمت کے مطابق درست فیصلے کرتا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے’’خصوصاً اہل و عیال کی ضرویات پر خرچ کرنے کو حدیث میں صدقہ شمار فرمایا گیا ہے۔صحیح بخاری میں ہے، حضرت سیدنا ابومسعود انصاری ؓنبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ‘‘جو مسلمان اپنے اہل و عیال پر اللہ کا حکم ادا کرنے کی نیت سے خرچ کرے تو اسے اس میں صدقہ کا ثواب ملے گا’’۔ صحیح بخاری میں حضرت سید نا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بیوہ عورت اور مسکین کے ساتھ (اچھا) سلوک کرنے والا ایسا ہے، جیسا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا یا جیسے رات کو عبادت کرنے والا اور دن کو روزہ رکھنے والا’’اس کے علاوہ ان آیات میں لوگوں کو متنبہ کیا گیا کہ اگر تنگ دستی کی وجہ سے تم کسی کی مالی اعانت نہیں کر سکو تو ان سے سختی سے بات نہ کرواوران کی دل آزاری نہ کرو، بلکہ انہیں کسی مناسب وقت تک کے انتظار کا کہہ کر نرم بات کرو۔ آگے خرچ کرنے کاانداز بتایا کہ جب مالی وسعت ہو اور لوگوں کی ضروریات کے حوالے سے مدد کے طور پر خرچ کرنے کا جذبہ ہو تو اپنا ہاتھ اتنا کھلا نہ کرو کہ سب کچھ دے بیٹھو اور پھر ایمان کی کمزوری کی وجہ سے تنگ دستی کارونا رؤو۔ اور نہ اپنا ہاتھ اتنا پیچھے کھینچو کہ بالکل گلے ہی سے لگا لو، بلکہ درمیانی روش اختیا ر کرو۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: ‘‘تمام مخلوق اللہ کی عیال (کنبہ) ہے، سو ان میں سے اللہ کو سب سے پیارا شخص وہ ہے جو اُس کے عیال کو زیادہ نفع پہنچانے والا ہے’’۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:‘‘جو شخص دنیا میں کسی مومن کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دُور کرے گا، جو شخص کسی مشکل میں پھنسے ہوئے آدمی کو آسانی فراہم کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی فراہم کرے گا۔ جو کسی مسلمان کی سترپوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی سترپوشی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگارہتا ہے’’۔ (مسلم، کتاب الذکر والدعاء)نبی کریم ﷺ نے نہ صرف حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کا حکم دیا، بلکہ عملی طور پر آپﷺ خود بھی ہمیشہ غریبوں،یتیموں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کی مدد کرتے۔ایک مرتبہ آپﷺ مسجد نبوی میں صحابہ کرام ؓکے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپﷺ کے پاس آئی، آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنیں اور
اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر مطمئن کر کے بھیجا۔حدیث نبویﷺ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے،وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے،اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا۔حضورﷺ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے۔

حضوراکرمﷺ نے فرمایا: تمہارے خادم محتاج تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کردیا ہے۔پس جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو،توجو کھانا خودکھائے، اس میں سے اسے کھلائے اور جو کپڑا خود پہنے،ویسا ہی اسے پہنائے اور اس سے ایسی مشقت نہ لے جو اس کی طاقت سے باہر ہو اوراگر اس کی طاقت سے بڑھ کر کوئی کام اس کے سپر د کر ے تو خود بھی اس کی مدد کر ے۔ (بخاری ومسلم)رسول اکرم ﷺ کا ارشادگرامی ہے: لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہے جو لوگوں کو نفع اور فائدہ پہنچائے’’(جامع ترمذی) مخلوق خدا کے مالی حقوق ادا کرنا، ان کے کام آنا، ان کے مصائب و آلام کو دور کرنا، ان کے دکھ درد کو بانٹنا اور ان کے ساتھ ہمدردی و غم خواری اور شفقت کرنے پر شریعت نے زور دیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک اور حاجت روائی اور ان کی مدد و کام میں آنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔آمین
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں