اقتدار کا نشہ انسان کو کہاں لے جاتا ہے؟
شیئر کریں
انسان کی تاریخ دراصل طاقت کی تلاش میں بھٹکتی ہوئی انسانی نفسیات کی تاریخ ہے۔ انسان نے غار سے نکل کر تہذیب بنائی، مگر اپنے اندر چھپی ہوئی غلبے کی خواہش کو کبھی غار سے باہر نہیں نکال سکا۔ تخت بدلے، تاج بدلے، سلطنتیں بدلیں، پرچم بدل گئے، مگر انسان کے اندر دوسرے انسان پر اختیار حاصل کرنے کی وہ قدیم خواہش آج بھی زندہ ہے۔ شاید انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ اسے طاقت پسند ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت ملتے ہی وہ اپنے آپ کو بدلتا ہوا محسوس نہیں کرتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اختیار اس کے ہاتھ میں ہے، حالانکہ آہستہ آہستہ اختیار اس کے ذہن، اس کے ضمیر اور اس کی شخصیت پر قبضہ کر رہا ہوتا ہے۔ پہلے انسان طاقت کو استعمال کرتا ہے، پھر طاقت انسان کو استعمال کرنے لگتی ہے۔ پہلے وہ قانون سے ڈرتا ہے، پھر قانون کو اپنے خوف سے ڈرانے لگتا ہے۔ پہلے وہ دوسروں کے فیصلوں کا محتاج ہوتا ہے، پھر ایک دن اسے گمان ہونے لگتا ہے کہ اس کا فیصلہ ہی حقیقت ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں اقتدار سیاست نہیں رہتا، نفسیاتی بیماری کی ایک شکل بننا شروع ہو جاتا ہے۔
لارڈ ایکٹن نے 1887ء میں لکھا تھا:طاقت انسان کو بدعنوان کرنے کی طرف مائل ہوتی ہے اور مطلق طاقت مطلق بدعنوانی کی طرف
لے جاتی ہے۔ ایکٹن کے نزدیک مسئلہ صرف طاقت کا استعمال نہیں بلکہ وہ نفسیاتی تبدیلی تھی جو طاقت انسان کے اندر پیدا کرتی ہے۔یہیں سےPower Corrupts محض سیاسی اصطلاح نہیں رہتی، بلکہ انسانی نفسیات کی ایک خوفناک کہانی بن جاتی ہے۔انسان جب بے
اختیار ہوتا ہے تو اسے قانون یاد رہتا ہے، اخلاق یاد رہتے ہیں، خدا یاد رہتا ہے، مظلوم یاد رہتا ہے؛ لیکن جب اختیار اس کے ہاتھ میں آتا
ہے تو آہستہ آہستہ ایک خطرناک تبدیلی شروع ہوتی ہے۔ پہلے وہ طاقت کو ایک ذمہ داری سمجھتا ہے، پھر حق سمجھتا ہے، پھر اپنی ملکیت سمجھتا
ہے اور آخرکار یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ خود قانون ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اقتدار انسان کے کردار کو تبدیل کرنا شروع کرتا ہے۔فلپ
زمبارڈو نے اپنی معروف کتاب The Lucifer Effect میں اسی انسانی تبدیلی کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ عام انسان کن حالات، گروہی دباؤ اور طاقت کے نظام کے تحت ایسے کام کرنے لگتا ہے جنہیں وہ عام حالات میں اخلاقاً غلط سمجھتا ہے۔یہاں نفسیات ہمیں ایک تلخ حقیقت بتاتی ہے: ہر برائی کسی پیدائشی برے انسان سے پیدا نہیں ہوتی؛ بعض اوقات برائی ایک ایسے نظام سے پیدا ہوتی ہے جو انسان کو اپنی طاقت کا نشہ پلا دیتا ہے۔روم کے شہنشاہ ہوں، یورپ کے مطلق العنان بادشاہ، نوآبادیاتی حکمران، فوجی آمریتیں یا جدید سیاسی اشرافیہ-97تاریخ بار بار ایک ہی نفسیاتی منظر دکھاتی ہے۔ اقتدار کے گرد چاپلوس جمع ہوتے ہیں، اختلاف دشمنی بن جاتا ہے، تنقید بغاوت بن جاتی ہے، سوال گستاخی بن جاتا ہے اور قانون آہستہ آہستہ طاقتور شخص کی خواہش کا دوسرا نام بن جاتا ہے۔پھر سب سے خطرناک مرحلہ آتا ہے: حاکم کو جھوٹ سچ لگنے لگتا ہے۔کیونکہ اس کے اردگرد ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو اسے سچ نہیں بتاتے۔اقتدار کا سب سے بڑا نشہ شراب یا دولت نہیں؛ تصدیق کا نشہ ہے۔جب ہر طرف سے انسان کو بتایا جائے کہ آپ عظیم ہیں، آپ درست ہیں، آپ کے فیصلے تاریخی ہیں، آپ کے مخالف ملک دشمن ہیں، آپ کے بغیر نظام نہیں چل سکتا-97تو انسانی ذہن اپنے لیے ایک مصنوعی حقیقت
تعمیر کر لیتا ہے۔ پھر وہ اپنے ظلم کو ظلم نہیں سمجھتا؛ اسے ضرورت سمجھتا ہے۔ اپنی کرپشن کو کرپشن نہیں سمجھتا؛ اسے حق سمجھتا ہے۔ اپنی ناکامی کو ناکامی نہیں سمجھتا؛ اسے سازش کہتا ہے۔یہی نفسیاتی جواز سازی ہے۔انسان اپنے اعمال کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے اپنے ضمیر کی زبان بدل لیتا ہے۔
تاریخ میں شاید سب سے زیادہ خوفناک سیاسی جرائم اسی وقت ہوئے جب مجرم خود کو مجرم نہیں سمجھتا تھا۔اور یہی انسانی تاریخ کا المیہ ہے
کہ طاقت اکثر انسان کو پہلے دوسروں سے دور کرتی ہے، پھر حقیقت سے، اور آخرکار خود اپنے ضمیر سے۔پاکستان کی تاریخ کو بھی اگر صرف
حکومتوں، وزرائے اعظم، آمروں، انتخابات اور آئینی ترامیم کی فہرست کے طور پر نہ پڑھا جائے بلکہ نفسیاتی تاریخ کے طور پر پڑھا جائے تو
ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔یہاں بھی اقتدار بار بار ایک مخصوص نفسیاتی کلچر پیدا کرتا رہا: شخصیت پرستی، خوف، خاموشی، وفاداری،
چاپلوسی، مفاد، سرپرستی اور طاقتور کے سامنے سچ بولنے سے گریز۔پاکستانی انسان نے صرف حکومتیں نہیں دیکھیں؛ اس نے طاقت کے
سامنے اپنی نفسیات کو بدلتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ایک عام آدمی جب تھانے میں داخل ہوتا ہے تو اس کی آواز بدل جاتی ہے۔ دفتر میں
افسر کے سامنے اس کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ طاقتور سیاست دان کے سامنے اس کی زبان بدل جاتی ہے۔ بااثر شخص کے سامنے اس کا اصول
بدل جاتا ہے۔یہ محض بزدلی نہیں؛ یہ طویل المدت طاقت کے تجربے سے پیدا ہونے والی نفسیاتی conditioning بھی ہے۔جب
ایک معاشرہ مسلسل یہ دیکھتا رہے کہ قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہے، تو انسان کے اندر ایک خطرناک یقین پیدا ہوتا
ہے:حق وہ نہیں جس کا قانون ساتھ دے؛ حق وہ ہے جس کے ساتھ طاقت ہو۔یہ یقین کسی بھی معاشرے کے اخلاقی نظام کے لیے زہر
ہے۔پھر کرپشن صرف پیسہ چوری کرنے کا عمل نہیں رہتی؛ وہ ایک نفسیاتی رویہ بن جاتی ہے۔پہلے انسان رشوت لیتے ہوئے شرمندہ ہوتا
ہے۔ پھر وہ اسے معمول سمجھتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے سب لیتے ہیں۔ پھر وہ کہتا ہے اگر میں نہیں لوں گا تو دوسرا لے گا۔ اور آخرکار وہ اپنی
بدعنوانی کو نظام کا حصہ سمجھ کر اپنے ضمیر کو بری کر دیتا ہے۔یہاں جرم سے زیادہ خطرناک چیز جرم کی normalization ہے۔زمبارڈو کی
بحث ہمیں یہی سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ انسان کے رویے کو صرف اس کی انفرادی شخصیت سے نہیں سمجھا جا سکتا؛ حالات، ادارے، گروہ اور
طاقت کے نظام بھی انسان کو تبدیل کرتے ہیں۔اسی لیے ایک کرپٹ نظام میں صرف چند افراد کرپٹ نہیں ہوتے؛ پورا ماحول کرپشن کو قابلِ
قبول بنانا شروع کر دیتا ہے۔پھر ایماندار انسان احمق کہلاتا ہے۔اصول پسند انسان ناکام سمجھا جاتا ہے۔سچ بولنے والا خطرناک قرار پاتا
ہے۔اور خاموش رہنے والا -93سمجھدار-94۔یہ کسی قوم کے اخلاقی زوال کی آخری علامتوں میں سے ایک ہے۔
پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ یہاں طاقتور لوگوں نے طاقت کا غلط استعمال کیا؛ اصل المیہ یہ ہے کہ طاقت کے غلط
استعمال کو کئی مرتبہ معاشرتی طور پر برداشت بھی کیا گیا۔کیونکہ طاقت صرف اوپر بیٹھے ہوئے شخص کو فاسد نہیں کرتی؛ اس کے نیچے کھڑے
لوگوں کی نفسیات بھی بدل دیتی ہے۔ چاپلوس اقتدار کا پہلا محافظ ہوتا ہے۔خوفزدہ انسان دوسرا۔مفاد پرست تیسرا۔اور خاموش اکثریت
چوتھی دیوار۔جب یہ چاروں موجود ہوں تو طاقتور کو کسی فوج کی ضرورت نہیں رہتی؛ معاشرہ خود اس کی حفاظت کرنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ
تاریخ میں ظالم حکومتیں صرف ظلم سے نہیں چلیں؛ وہ خوف، عادت، مفاد، خاموشی اور اجتماعی نفسیات کے امتزاج سے چلیں۔لیکن تاریخ کا
ایک دوسرا سبق بھی ہے۔کوئی اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔بادشاہ مر جاتے ہیں، سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں، آمر رخصت ہو جاتے ہیں، محلات کھنڈر بن جاتے ہیں، مجسمے ٹوٹ جاتے ہیں اور وہ لوگ جنہیں کبھی ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا، تاریخ کے حاشیے پر چند سطروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔باقی رہتا ہے تو صرف ایک سوال:انہوں نے اپنی طاقت کے ساتھ کیا کیا؟اور شاید یہی انسانی تاریخ کا سب سے بڑا نفسیاتی آئینہ ہے۔
طاقت انسان کو لازماً بدعنوان نہیں بناتی؛ بے لگام طاقت، بے حساب طاقت اور بے خوف طاقت انسان کے اندر موجود کمزوریوں کو بڑا
کر دیتی ہے۔جس انسان کے اندر لالچ ہے، اقتدار اسے بڑا لالچی بنا سکتا ہے۔جس کے اندر احساسِ کمتری ہے، اقتدار اسے تکبر دے سکتا
ہے۔جس کے اندر خوف ہے، اقتدار اسے دوسروں کو خوفزدہ کرنے کا اختیار دے سکتا ہے۔اور جس کے اندر اخلاق ہے، وہی طاقت کو ذمہ
داری میں بدل سکتا ہے۔اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے؟اصل سوال یہ ہے:اقتدار نے اس انسان کے اندر کیا
پیدا کر دیا ہے؟کیونکہ تاریخ میں سلطنتیں پہلے باہر سے نہیں ٹوٹتیں؛ وہ اکثر اندر سے ٹوٹتی ہیں۔جب حکمران حقیقت سننا چھوڑ دے، جب
ادارے سوال کرنا چھوڑ دیں، جب عوام خوف کو تقدیر سمجھ لیں، جب کرپشن معمول بن جائے اور جب ظلم کے خلاف آواز اٹھانا حماقت سمجھا
جانے لگے، تو ریاست کی عمارت شاید باہر سے کھڑی نظر آئے، مگر اس کی اخلاقی بنیاد اندر سے گل چکی ہوتی ہے۔
Power Corrupts دراصل اقتدار کے بارے میں جملہ نہیں؛ یہ انسان کے بارے میں سب سے تلخ سوال ہے:اگر تمہیں مکمل اختیار دے دیا جائے اور کوئی تم سے حساب نہ مانگے، تو تم اپنے اندر کے انسان کو بچا سکو گے؟تاریخ کا جواب ہمیشہ تسلی بخش نہیں رہا۔اور شاید اسی لیے ایک زندہ معاشرے کا سب سے ضروری ادارہ صرف پارلیمنٹ، عدالت یا حکومت نہیں ہوتا؛ احتساب کا زندہ شعور ہوتا ہے۔ کیونکہ جس دن انسان طاقتور سے سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے، اسی دن طاقتور خود کو انسان سے کچھ زیادہ سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔اور شاید کرپشن کی آخری منزل پیسہ نہیں انسان کا اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھ لینا ہے۔
٭٭٭


