سندھ بلڈنگ، قواعد کی خلاف ورزی یا انتظامیہ کی چشم پوشی؟
شیئر کریں
پی ای سی ایچ ایس میں قبضے، پلاٹ نمبر86-Oاور 89-Qپر کمرشل تعمیرات
ڈائریکٹر سمیع جملانی کی عدم توجہی کے باعث غیر قانونی تعمیرات کی حوصلہ افزائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی علاقوں میں مبینہ طور پر کمرشل سرگرمیوں اور تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ، جس کے باعث علاقے کے رہائشی تشخص اور شہری سہولیات کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق پلاٹ نمبر 86-O اور 89-Q پر کمرشل نوعیت کی تعمیرات جاری ہیں، جنہیں روکنے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے مؤثر کارروائی دکھائی نہیں دے رہی۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹس کا استعمال رہائشی مقاصد کے بجائے مبینہ طور پر کاروباری سرگرمیوں کے لیے کیا جا رہا ہے ، جس سے نہ صرف تعمیراتی قواعد کی پاسداری سے متعلق سوالات پیدا ہوئے ہیں بلکہ علاقے میں ٹریفک، پارکنگ، شور اور دیگر شہری مسائل میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے ۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ رہائشی پلاٹوں کو بتدریج کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا رجحان جاری رہا تو پی ای سی ایچ ایس کے کئی علاقوں کا بنیادی رہائشی ڈھانچہ متاثر ہوسکتا ہے ۔
ان کے مطابق کمرشل تعمیرات کے نتیجے میں آبادی کے لیے مختص سڑکوں، پارکنگ اور دیگر سہولیات پر اضافی دباؤ پڑتا ہے ، جس کا براہِ راست اثر مکینوں کے روزمرہ معمولات پر پڑتا ہے ۔علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ انتظامی افسران کی مبینہ عدم توجہی کے باعث ایسی تعمیرات کو بروقت روکنے کے بجائے معاملہ نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ خاص طور پر ڈائریکٹر سمیع جملانی کی مبینہ عدم توجہی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
مکینوں کا مطالبہ ہے کہ پلاٹ نمبر 86-O اور 89-Q سمیت رہائشی علاقوں میں جاری تمام تعمیرات کی قانونی حیثیت، منظور شدہ نقشوں اور استعمالِ اراضی کے قواعد کی مکمل جانچ کی جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تعمیرات قواعد کے برخلاف ثابت ہوں تو متعلقہ ادارے بلاامتیاز کارروائی کریں اور رہائشی علاقوں کے اصل تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ پی ای سی ایچ ایس میں رہائشی پلاٹوں کے کمرشل استعمال سے متعلق شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف انکوائری کرائی جائے ، تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ مبینہ غیر قانونی تعمیرات کس مرحلے پر پہنچیں اور متعلقہ نگرانی کا نظام انہیں بروقت روکنے میں کیوں ناکام رہا۔واضح رہے کہ مذکورہ الزامات اور دعووں پر متعلقہ انتظامیہ یا ڈائریکٹر سمیع جملانی کا مؤقف اس خبر کی تیاری کے وقت دستیاب نہیں ہوسکا۔ ان کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔


