میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ،رہائشی پلاٹوں پر تجارتی سرگرمیاں، متعلقہ حکام کی پراسرارخاموشی

سندھ بلڈنگ،رہائشی پلاٹوں پر تجارتی سرگرمیاں، متعلقہ حکام کی پراسرارخاموشی

ویب ڈیسک
پیر, ۲۲ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز شیخ پر تعمیراتی لاقانونیت کی سرپرستی کا الزام، ڈی جی کی چشم پوشی
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 کے پلاٹ نمبر 23 آئی اور 24 جے پر کمرشل یونٹس تعمیر

کراچی کے رہائشی علاقوں میں کمرشل تعمیرات کے بڑھتے رجحان نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے ۔ جرأت سروے کے مطابق پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 میں واقع پلاٹ نمبر 23 آئی پر کمرشل پورشن یونٹس کی تعمیر تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکی ہے جبکہ اسی کے بلمقابل پلاٹ 24 جے پر رہائشی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرانی عمارت پر غیر قانونی پینٹ ہاؤس کی تعمیر شروع ہو چکی ہے ، جس پر مقامی مکینوں نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ سروے پر موجود نمائندہ سے بات کرتے ہوئے مقامی مکین آصف شہزاد کا کہنا ہے کہ رہائشی پلاٹوں کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے نہ صرف علاقے کا انفراسٹرکچر متاثر ہو رہا ہے بلکہ ٹریفک، پارکنگ اور سیکیورٹی کے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ مکینوں کے مطابق متعدد شکایات کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران کی مبینہ سرپرستی کے باعث غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ خاص طور پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز شیخ پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے تعمیراتی مافیا کو غیر معمولی سہولتیں فراہم کیں، جبکہ ڈی جی کی جانب سے بھی صورتحال کا نوٹس نہ لینے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔مقامی رہائشیوں نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں جاری غیرقانونی کمرشل تعمیرات کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہری قوانین اور ماسٹر پلان پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں