میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ماسٹر پلان کی دھجیاں،لطیف آباد غیرقانونی پلازہ آسمان چھونے لگا

ماسٹر پلان کی دھجیاں،لطیف آباد غیرقانونی پلازہ آسمان چھونے لگا

ویب ڈیسک
پیر, ۲۲ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

لطیف آباد یونٹ نمبر 10میں رہائشی پلاٹ پر غیر قانونی کمرشل عمارت کی تعمیرات
ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی تعمیراتی لاقانونیت کے ذمہ دار ، تحقیقات کا مطالبہ

حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد یونٹ نمبر 10میں رہائشی پلاٹ پر تعمیر ہونے والی کثیر المنزلہ کمرشل عمارت تیزی سے تکمیل کے مراحل کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ تازہ تصاویر کے مطابق عمارت پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہو چکی ہے ، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین کھلے عام پامال کیے جا رہے ہیں اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔علاقہ مکینوں اور مقامی ذرائع کے مطابق متعدد شکایات کے باوجود تعمیراتی کام بلا رکاوٹ جاری ہے ، جس کے باعث سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مقامی حکام، خصوصاً ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کی نگرانی اور کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر تعمیرات قواعد و ضوابط کے خلاف ہیں تو متعلقہ افسران نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ نئی تصاویر واضح کرتی ہیں کہ عمارت روز بروز بلندیوں کو چھو رہی ہے ، جبکہ دوسری جانب شہر کا ماسٹر پلان اور بلڈنگ قوانین زمین بوس ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جاتا تو یہ تعمیرات اس مرحلے تک نہ پہنچتیں۔علاقہ مکینوں نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ بعض بااثر عناصر کی مبینہ سرپرستی کے باعث رہائشی پلاٹس کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ، جس سے ٹریفک، سیوریج، پارکنگ اور دیگر بنیادی شہری سہولیات شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، کمشنر حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تعمیرات کی قانونی حیثیت، نقشوں اور منظوریوں کا مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے ، اور اگر کسی بھی افسر یا متعلقہ شخص کی غفلت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا کسی دوسری بے ضابطگی کا تعین ہو تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی متعلقہ اداروں نے خاموشی اختیار کیے رکھی تو غیرقانونی تعمیرات کا یہ سلسلہ شہر کے ماسٹر پلان، شہری انفراسٹرکچر اور قانون کی عملداری کے لیے ایک سنگین چیلنج بن جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں