میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سینیٹ انتخابات کے لیے ن لیگ کی حکمت عملی تیار

سینیٹ انتخابات کے لیے ن لیگ کی حکمت عملی تیار

ویب ڈیسک
جمعرات, ۲۱ جنوری ۲۰۲۱

شیئر کریں

کراچی (رپورٹ: شعیب مختار) سینیٹ انتخابات میں 17 سینیٹرز کی ریٹائرمنٹ نے ن لیگ کو سیاسی طور پر کمزور کر دیا ایوانِ بالا میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے حکمت عملی مرتب کر لی گئی چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں ہارس ٹریڈنگ کا حصہ بننے والے سینیٹرز ریڈار پر آگئے پی ڈی ایم جلسوں میں عدم دلچسپی رکھنے والے سابق و موجودہ اراکین اسمبلی کی فہرست تیار کر لی گئی آئندہ چند روز میں پارٹی کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر کارروائیوں کو یقینی بنایا جائے گا ذرائع کے مطابق سینیٹ میں اگلے ماہ ن لیگ کے سترہ سینیٹرز ریٹائر ہونے جا رہے ہیں جن میں سے 11 پنجاب,اور دو دو سینیٹرز بلوچستان,پنجاب اور اسلام آباد سے تعلق رکھتے ہیں اس ضمن میں مسلم لیگ نے ایوان ِبالا میں اگست 2019 کو چیئرمین سینیٹ کیخلاف ناکام ہونے والی تحریک عدم اعتماد میں بغاوت کا حصہ بننے والے اور مشکوک کردار کے حامل امیدواروں کو سینیٹ انتخابات میں ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ پی ڈی ایم جلسوں میں دلچسپی نہ رکھنے اور اپنے حلقے کے کارکنان نہ لانے والے ذمہ داران کی بھی ایک فہرست تیار کی گئی ہے جن میں میں سابق و موجودہ اراکین پنجاب اسمبلی میاں نصیر،میاں مرغوب،سمیع اللہ خان،کرنل (ر) طارق،مرزا جاوید،رانا مشہود،رمضان صدیق بھٹی اور سابق رکن قومی اسمبلی مہر اشتیاق شامل ہیں تمام تر ذمہ داران کے ناموں کی فہرست مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو بھجوائی جا چکی ہے تاہم ان کی ہدایات پر آئندہ چند روز میں مذکورہ عناصر کیخلاف پارٹی کی جانب سے سخت ایکشن  لیے جانے کا امکان ہے۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں