میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
زمین سے ڈھائی گنا بڑا اور 23 گنا بھاری سیارہ دریافت

زمین سے ڈھائی گنا بڑا اور 23 گنا بھاری سیارہ دریافت

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۰ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

نئے دریافت ہونے والے سیارے کو جی جے 523 بی کا نام دیا گیا ہے، غیر معمولی کثافت نے ماہرین فلکیات کو حیران کردیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہرین فلکیات نے زمین سے تقریباً ڈھائی گنا بڑا لیکن اس کے مقابلے میں 23 گنا زیادہ کمیت رکھنے والا ایک غیر معمولی سیارہ دریافت کرلیا، جس کی غیر معمولی کثافت نے سائنس دانوں کو حیران کردیا ہے۔نئے دریافت ہونے والے سیارے کو جی جے 523 بی کا نام دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کا حجم زمین سے تقریباً 2.55 گنا بڑا ہے، جبکہ اس کی کمیت زمین کے مقابلے میں تقریباً 23.5 گنا زیادہ ہے۔سائنس دانوں نے کہا کہ سیارہ جی جے 523 بی اپنی جسامت کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر گھنا ہے۔

اس کی کثافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے گرد گیسوں کی تہہ انتہائی کم ہے اور یہ زیادہ تر چٹانی مادے پر مشتمل ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ سیارہ ابتدائی طور پر ناسا کی خلائی دوربین کی مدد سے دریافت کیا گیا، جو دور دراز ستاروں کی روشنی میں معمولی کمی کا مشاہدہ کرکے ان کے گرد گردش کرنے والے سیاروں کا سراغ لگاتی ہے۔

بعد ازاں امریکی ریاست ایریزونا میں قائم رصدگاہ سے مزید مشاہدات کیے گئے، جن کی مدد سے سائنس دانوں نے سیارے کے حجم، کمیت اور کثافت کا تعین کیا۔ماہرین کے مطابق جی جے 523 بی اپنے ستارے کے گرد ایک چکر تقریباً 17.75 دن میں مکمل کرتا ہے، جبکہ اس پورے سیاروی نظام کی عمر تقریباً 17 کروڑ سال بتائی گئی ہے۔

سائنس دانوں نے کہا کہ اس سیارے کی دریافت نے سیاروں کی تشکیل سے متعلق موجودہ تصورات کو چیلنج کردیا ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ جب کسی چٹانی سیارے کا مرکزی حصہ زمین کے مقابلے میں تقریباً 20 گنا زیادہ مادے پر مشتمل ہوجائے تو وہ ہائیڈروجن اور ہیلیم جیسی گیسوں کی بڑی مقدار اپنے گرد جمع کرنا شروع کردیتا ہے۔

تاہم جی جے 523 بی میں کمیت اس حد سے زیادہ ہونے کے باوجود یہ گیسوں سے بھرپور سیارہ نہیں بنا بلکہ اس کی کثافت ظاہر کرتی ہے کہ یہ زیادہ تر چٹانی ساخت رکھتا ہے۔

ماہرین فلکیات کے مطابق ممکن ہے کہ اس سیارے کے گرد ابتدا میں گیسوں کی موٹی تہہ موجود ہو جو بعد میں ختم ہوگئی ہو، یا پھر دو بڑے سیاروں کے شدید تصادم کے نتیجے میں یہ غیر معمولی چٹانی دنیا وجود میں آئی ہو۔سائنس دانوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسے مزید سیاروں کی دریافت سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ اس نوعیت کی غیر معمولی دنیا کائنات میں انتہائی نایاب ہے یا اس کی تعداد توقع سے کہیں زیادہ ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں