22 جولائی، پی ٹی آئی کا احتجاجی حکمت عملی طے کرنے کا اعلان
شیئر کریں
عمران خان کی رہائی ہماری واحد منزل، حصول کیلئے ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہیں، جنید اکبر
شانگلہ، عمران خان رہائی ورکرز کنونشن میں پی ٹی آئی قیادت کا کارکنوں سے متحد رہنے کا عزم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریک انصاف خیبرپختونخوا ہ کے صوبائی صدر جنید اکبر خان نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی ہماری جدوجہد کا واحد مقصد ہیں اور اس مقصد کے حصول کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔
پارٹی کارکنوں کو جھوٹے مقدمات، گرفتاریوں اور دباؤ سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کے روز ضلع شانگلہ کے علاقے ڈھیری میں منعقدہ ”عمران خان رہائی ورکرز کنونشن” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کنونشن میں پارٹی ترجمان و سابق صوبائی وزیر شوکت علی یوسفزئی، صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری نواز محمود خان، پی ٹی آئی ملاکنڈ ڈویژن کے صدر فضل حکیم خان،تحریک انصاف کی سینئررہنما فواد علی نور ، انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن خیبرپختونخوا کے جنرل سیکرٹری شفقت آیاز،حاجی سدید الرحمان، عبدالمولاخان سمیت دیگر مقامی و صوبائی رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
صوبائی صدر جنید اکبر خان نے کہا کہ وہ گزشتہ تیس برس سے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے عوامی حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف متعدد ایف آئی آرز درج کی گئیں، انہیں اشتہاری قرار دیا گیا، لیکن وہ اپنے مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان کئی ماہ سے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ پارٹی کارکنوں کو اپنے قائد سے ملاقات تک کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ملک کے طاقتور حلقوں نے ہر ادارے پر ایسے افراد مسلط کر رکھے ہیں جو عوامی مینڈیٹ کی توہین کر رہے ہیں۔ ان حالات کے باوجود تحریک انصاف اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی۔
22 جولائی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سربراہی میں پارٹی اجلاس منعقد ہوگا جسمیں آئندہ احتجاجی تحریک اور سیاسی لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔پارٹی ترجمان شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ڈھیری شانگلہ سے شروع ہونے والی یہ تحریک عمران خان کی رہائی کی ملک گیر تحریک کا اہم مرحلہ ثابت ہوگی۔
شوکت یوسفزئی نے کامیاب کنونشن پر کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف ایک جمہوری جماعت ہے اور ملک میں آئین، قانون اور عوام کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ عمران خان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور عوام جلد حقیقی تبدیلی دیکھیں گے۔نواز محمود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انھوں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے بنیادی حقوق اور جمہوری اقدار کے تحفظ کیلئے تحریک انصاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
فضل حکیم خان نے کہا کہ اگر کسی سرکاری افسر نے پارٹی کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا یا اختیارات کا ناجائز استعمال کیا تو اس کے خلاف ہر قانونی اور آئینی فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
انھوں نے مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے حوالے سے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور وفاقی سطح پر بھی ٹیکسوں کے خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔
کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے دیگر رہنماؤں وقار احمد خان، حاجی سدید الرحمان، عبدالمولا، شاہد علی، کفایت اللہ، نثار خان مارتونگ، قاری اسلام زادہ، زید اللہ خان اور شفقت آیاز نے بھی عمران خان کی رہائی کے لیے پارٹی کارکنوں کو متحد رہنے کی تلقین کی اور کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن ہر مشکل وقت میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
مقررین نے کہا کہ پارٹی کارکنوں کے خلاف مختلف علاقوں میں مقدمات درج کیے گئے اور انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ 8 فروری کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے تحریک انصاف کے کارکنوں کے اہل خانہ کو شہداء پیکج دیا جائے اور تمام سیاسی کارکنوں کے خلاف قائم مقدمات واپس لیے جائیں۔
مقررین نے اعلان کیا کہ 5 اگست کو اسلام آباد میں ڈی چوک یا اڈیالہ جیل کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور عمران خان کی رہائی تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ انھوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پارٹی قیادت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے آئندہ سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کریں۔
22 جولائی، پی ٹی آئی کا احتجاجی حکمت عملی طے کرنے کا اعلان
کنونشن کے اختتام پر عمران خان کی جلد رہائی، ملک میں آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات کے خاتمے کے حق میں قرارداد منظور کی گئی، جبکہ شرکاء نے پارٹی قیادت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ تحریک میں بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔


