سندھ بلڈنگ، سوسائٹیوں پر کمرشل مافیا کا راج،رہائشی علاقے خطرے میں
شیئر کریں
آصف شیخ کے نافذ کردہ انتظامی ماڈل میں تعمیراتی مافیا بے لگام، ضابطے اور قوانین نظر انداز
کراچی ایڈمن سوسائٹی بلاک 5کے پلاٹس B-165اور B-170پر تجارتی تعمیرات جاری
کراچی کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے ۔ رہائشی پلاٹوں پر تجارتی منصوبوں کی تعمیرات تیزی سے جاری ہیں جبکہ متعلقہ ادارے مبینہ طور پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بااثر تعمیراتی گروہوں نے قوانین کو خاطر میں لائے بغیر رہائشی علاقوں کو تجارتی مراکز میں تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق کراچی ایڈمنسٹریشن ایمپلائز کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی(KAECHS)بلاک 5میں واقع پلاٹ نمبر B-165اور B-170 پر تجارتی مقاصد کے لیے تعمیراتی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں۔ مقامی مکینوں کے مطابق مذکورہ تعمیرات سے نہ صرف سوسائٹی کا رہائشی تشخص متاثر ہو رہا ہے بلکہ ٹریفک، پارکنگ، سیوریج اور دیگر بنیادی سہولتوں پر بھی اضافی دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ آصف شیخ کے دور میں رائج انتظامی نظام نے تعمیراتی مافیا کو ایسی گنجائش فراہم کر دی ہے جس کے باعث قوانین کی خلاف ورزیاں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا یہ رجحان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے ۔مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیں، تعمیراتی سرگرمیوں کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیں اور اگر کسی قسم کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے ۔اس حوالے سے متعلقہ افسران اور ذمہ دار حکام سے مؤقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل ہونے تک ان سے رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔


