میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی رو سکتے ہیں؟

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی رو سکتے ہیں؟

ویب ڈیسک
جمعرات, ۱۸ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

انسانی تاریخ کو اگر چند تصویروں میں سمیٹنا ممکن ہوتا تو ان میں بادشاہوں کے تاج، فاتحین کی تلواریں، جنگوں کے میدان، جلتے ہوئے شہر اور تعمیر ہوتی ہوئی تہذیبیں ضرور شامل ہوتیں، مگر شاید ان سب کے درمیان ایک اور تصویر بھی ہوتی ایک کمزور گھوڑا، ایک ظالم کوچوان، اور ایک فلسفی جو گھوڑے کی گردن سے لپٹ کر بچوں کی طرح رو رہا ہے۔ یہ منظر 1889ء میں اٹلی کے شہر ٹورین میں پیش آیا ۔وہ فلسفی فریڈرک نطشے تھا ،وہی نطشے جسے دنیا طاقت، ارادے اور فوق الانسان کے فلسفے کے حوالے سے جانتی ہے ۔مگر تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جس شخص کو اکثر طاقت کا فلسفی کہا جاتا ہے، اس کی زندگی کا آخری عظیم منظر طاقت کے نہیں بلکہ رحم، درد اور ہمدردی کے نام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نطشے نے ایک کوچوان کو گھوڑے پر کوڑے برساتے دیکھا ،گھوڑا تھک چکا تھا ۔اس کے جسم میں مزید طاقت نہیں تھی، مگر انسان ہمیشہ سے کمزوروں سے زیادہ توقعات وابستہ کرتا آیا ہے۔ چنانچہ کوچوان اسے مسلسل مارتا رہا۔نطشے دوڑا، گھوڑے کے گلے سے لپٹ گیا اور زاروقطار رونے لگا۔ پھر وہ کبھی پہلے والا نطشے نہ بن سکا۔یہ محض ایک واقعہ نہیں۔ یہ پوری انسانی تاریخ کا استعارہ ہے۔
انسانی تاریخ کا بڑا حصہ طاقتوروں اور کمزوروں کی کہانی ہے۔ اہرامِ مصر ہوں یا دیوارِ چین، عظیم محلات ہوں یا وسیع سلطنتیں، ان کی بنیادوں میں اکثر بے شمار گمنام انسانوں کی محنت، تکلیف اور قربانیاں دفن ہیں ۔تاریخ فاتحین کے نام یاد رکھتی ہے، مگر ان گھوڑوں کو بھول جاتی ہے جو صدیوں سے تہذیب کا بوجھ کھینچتے رہے۔ہر دور کا ایک گھوڑا ہوتا ہے ،کبھی وہ غلام ہوتا ہے، کبھی کسان، کبھی مزدور، کبھی عورت، کبھی کوئی محکوم قوم، اور کبھی سچ بولنے والا فرد۔اور ہر دور کا ایک کوچوان بھی ہوتا ہے جو کوڑا ہاتھ میں لیے یہ سمجھتا ہے کہ طاقت ہی زندگی کی آخری حقیقت ہے مگر تہذیب کی اصل عظمت کوچوان میں نہیں، نطشے میں ہے۔انسان اس دن انسان بنا تھا جب اس نے دوسرے کے درد کو اپنا درد سمجھنا سیکھا۔ فلسفہ، ادب، مذہب اور اخلاقیات کی پوری تاریخ دراصل اسی ایک صلاحیت کی داستان ہے۔ دوسروں کے دکھ کو محسوس کرناشاید اسی لیے دنیا کے تمام عظیم معلمین، انبیائ، فلسفی اور شاعر آخرکار رحم کی طرف لوٹتے ہیں۔ ان کی تعلیمات کے مرکز میں طاقت نہیں بلکہ انسانیت ہوتی ہے۔ وہ انسان کو فتح کرنا نہیں سکھاتے بلکہ محسوس کرنا سکھاتے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ انسانی تاریخ نے بے شمار فاتح
پیدا کیے، مگر دنیا آج سکندر اعظم کے گھوڑے کا نام تو جانتی ہے، ان ہزاروں گھوڑوں کا نہیں جو جنگوں میں مارے گئے ۔ہم سلطنتوں کے نام
یاد رکھتے ہیں مگر ان مزدوروں کے نام نہیں جانتے جنہوں نے انہیں تعمیر کیا۔ ہم حکمرانوں کی داستانیں لکھتے ہیں مگر ان لوگوں کی چیخیں تاریخ
کے حاشیوں میں گم ہو جاتی ہیں جنہوں نے ان حکمرانوں کی قیمت ادا کی۔ٹورین کی وہ گلی دراصل پوری انسانی تاریخ کا آئینہ ہے۔ ایک
طرف طاقت ہے، دوسری طرف کمزوری۔ ایک طرف کوڑا ہے، دوسری طرف زخم۔ ایک طرف ظلم ہے، دوسری طرف درد۔اور پھر ان
دونوں کے درمیان ایک روتا ہوا انسان کھڑا ہے۔شاید انسانیت کی پوری امید اسی تیسرے کردار میں پوشیدہ ہے کیونکہ جب تک دنیا میں
ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی اجنبی کے درد پر رو سکتے ہیں، تب تک تہذیب مکمل طور پر مردہ نہیں ہوئی۔نطشے کا گھوڑے سے لپٹ کر رونا
دراصل فلسفے کی سب سے خوبصورت تعریف ہے۔ فلسفہ صرف سوچنے کا نام نہیں، محسوس کرنے کا نام بھی ہے۔ علم صرف ذہن کی روشنی نہیں،
دل کی بیداری بھی ہے اور انسان ہونے کا مطلب صرف زندہ رہنا نہیں، بلکہ دوسروں کے زخموں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھنا بھی ہے۔ شاید اسی لیے ٹورین کی اس خاموش گلی کا وہ منظر آج بھی ہزاروں جنگوں، فتوحات اور سلطنتوں سے زیادہ طاقتور محسوس ہوتا ہے کیونکہ تاریخ کے سب سے بڑے لوگ وہ نہیں جو دنیا کو فتح کرتے ہیں، بلکہ وہ ہیں جو ایک لمحے کے لیے کسی بے زبان مخلوق کے درد کو اپنے دل میں اتار لیتے ہیںاور شاید انسانی تاریخ کا اصل سفر بھی یہی ہے؛ طاقت سے رحم تک، غلبے سے شعور تک، اور انسان سے انسانیت تک یہ واقعہ محض ایک فلسفی اور ایک گھوڑے کا واقعہ نہیں تھا۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک استعارہ تھا، ایک طرف طاقت تھی، دوسری طرف کمزوری ایک طرف کوڑا تھا، دوسری طرف زخم؛ ایک طرف اختیار تھا، دوسری طرف خاموشی۔ اور شاید یہی وہ منظر ہے جو پاکستان کی تاریخ اور پاکستانی سماج کو سمجھنے کے لیے بھی ایک طاقتور علامت بن سکتا ہے۔
پاکستان کی 77 سالہ تاریخ کو اگر ایک تصویر میں سمیٹنا ہو تو شاید وہ بھی کسی حد تک ٹورین کی اسی گلی سے ملتی جلتی ہوگی۔ ایک طرف ریاستی، سیاسی، معاشی اور سماجی طاقت کے مراکز، اور دوسری طرف عام آدمی جو مسلسل بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک چکا ہے، مگر اس سے مزید دوڑنے
کی توقع کی جاتی ہے۔یہ ملک بے شمار قربانیوں کے بعد وجود میں آیا تھا۔ خواب یہ تھا کہ یہاں انصاف ہوگا، برابری ہوگی، قانون کی حکمرانی
ہوگی اور عام انسان عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے گا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریاست اور عوام کے درمیان ایک ایسا فاصلہ پیدا
ہوتا گیا جس نے پاکستانی معاشرے کو گہری بے یقینی میں مبتلا کر دیا۔پاکستانی کسان کو دیکھیے۔ وہ زمین کو زندگی دیتا ہے مگر خود اکثر قرضوں،
پانی کی قلت اور غیر یقینی مستقبل کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ پاکستانی مزدور کو دیکھیے۔ وہ شہروں کی بلند عمارتیں تعمیر کرتا ہے مگر خود کچی
بستیوں میں رہنے پر مجبور ہے۔ پاکستانی استاد قوم کے مستقبل کو تعلیم دیتا ہے مگر اپنی معاشی مشکلات سے نجات نہیں پا سکتا۔ نوجوان ڈگریاں
حاصل کرتا ہے مگر روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتا رہتا ہے۔گویا ہر طرف ایسے لوگ موجود ہیں جو اس گھوڑے کی طرح مسلسل بوجھ
اٹھا رہے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ بھی رہا ہے کہ یہاں اکثر مسائل کا علاج مسائل پیدا کرنے والے طریقوں سے ہی تلاش کیا گیا۔
جمہوریت کمزور ہوئی تو آمریت آئی، آمریت ناکام ہوئی تو جمہوریت واپس آئی، مگر عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی محدود رہی۔
اقتدار کے ایوان بدلتے رہے مگر عوام کی بڑی تعداد کے لیے غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور محرومی مستقل حقیقت بنی رہی۔سماجی سطح پر بھی
صورت حال مختلف نہیں۔ پاکستانی معاشرہ بظاہر مذہبی، اخلاقی اور خاندانی اقدار کا دعوے دار ہے، مگر عملی زندگی میں عدم برداشت، طبقاتی
تقسیم، سفارش، اقربا پروری اور طاقت کے سامنے خاموشی عام نظر آتی ہے۔ ہم اکثر کمزور سے سختی اور طاقتور سے نرمی کا رویہ اختیار کرتے
ہیں۔ یہی رویہ ہر اس معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے جہاں انصاف کی جگہ طاقت معیار بن جائے۔نطشے کے واقعے کا سب سے اہم
پہلو یہ نہیں کہ ایک گھوڑے پر ظلم ہو رہا تھا؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ایک انسان نے اس ظلم کو محسوس کیا۔ آج پاکستان کا سب سے بڑا
مسئلہ صرف معاشی یا سیاسی بحران نہیں بلکہ احساس کا بحران بھی ہے۔ ہم آہستہ آہستہ دوسروں کے دکھ کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ اخبار
میں خودکشی کی خبر آتی ہے، ہم اگلا صفحہ پلٹ دیتے ہیں۔ کسی کسان کی فصل تباہ ہوتی ہے، کسی مزدور کا بچہ بھوک سے سوتا ہے، کسی نوجوان کا
خواب بے روزگاری کے ہاتھوں ٹوٹ جاتا ہے، اور یہ سب ہمارے روزمرہ معمول کا حصہ بن جاتا ہے۔کسی بھی قوم کی اصل زوال پذیری
اس وقت شروع نہیں ہوتی جب اس کی معیشت کمزور ہوتی ہے؛ بلکہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس کا اجتماعی ضمیر کمزور ہو جاتا ہے۔
پاکستان کو آج نئے نعروں سے زیادہ نئے احساس کی ضرورت ہے۔ ایسے احساس کی جو عام آدمی کے درد کو سمجھے، کسان کے مسئلے کو اپنا مسئلہ
سمجھے، مزدور کی تکلیف کو اپنی تکلیف جانے، طالب علم کے خوابوں کی قدر کرے اور قانون کو طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں بنائے۔
دنیا کی کامیاب ریاستوں کی بنیاد صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں پر نہیں رکھی گئی؛ ان کی بنیاد انصاف، شفافیت، انسانی وقار اور سماجی
ہمدردی پر رکھی گئی۔ ریاستیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے شہری خود کو محض رعایا نہیں بلکہ باعزت انسان محسوس کریں۔ٹورین کی گلی
میں نطشے ایک گھوڑے سے لپٹ کر رو رہا تھا۔ اگر وہ آج کے پاکستان میں آتا تو شاید اسے صرف ایک گھوڑا نہیں بلکہ کروڑوں ایسے لوگ
دکھائی دیتے جو زندگی کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہیں۔ شاید وہ پھر رو پڑتا۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی رو سکتے ہیں؟ کیا ہم اب
بھی دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ یا ہم اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ کوڑوں کی آواز بھی ہمیں معمول لگنے لگی ہے؟
قوموں کی تقدیر اس وقت بدلتی ہے جب وہ طاقت کے نہیں بلکہ انسانیت کے فلسفے کو اپناتی ہیں۔ پاکستان کا مستقبل بھی کسی نئے مسیحا، کسی
نئے نعرے یا کسی نئے تجربے میں نہیں، بلکہ اس دن میں پوشیدہ ہے جب یہ معاشرہ کمزور انسان کے زخم کو دیکھ کر بے حس نہ رہے۔کیونکہ
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ تہذیبیں طاقت سے قائم ہو سکتی ہیں، مگر صرف انسانیت ہی انہیں زندہ رکھ سکتی ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں