میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
طباعت بند کرنیوالے ممالک آج دوبارہ کتابیں چھاپ رہے ہیں،سردار شاہ

طباعت بند کرنیوالے ممالک آج دوبارہ کتابیں چھاپ رہے ہیں،سردار شاہ

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۹ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

صوبائی وزیر تعلیم کا پانچ روزہ ورلڈ بک فیٔر 2025کی افتتاحی تقریب سے خطاب
احمد شاہ،کامران نوارنی اور وقار متین نے بھی خطاب کیا ،ادبی اور علمی شخصیات کی شرکت

صوبائی وزیر تعلیم سید سردار احمد شاہ نے کہا ہے کہ کتب سماجی زندگی کے ارتقائکی بنیاد ہے جن ممالک نے کتب کی چھپائی کا سلسہ ختم کردیا تھا اب ان ممالک نے کتب کی اہمیت کا اندازہ کر کے اسکی چھپائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا ۔ ورق گردانی تخلیق کا سفر ہے اگر کتاب مرگئی تو خواب مرجائے گا اس لیے کتاب کو مرنے نہیں دینا۔وہ جمعرات کو کراچی ایکسپو سینٹر میں پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے منعقدہ پانچ روزہ ورلڈ بک فیٔر 2025کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے ۔اس موقع پر مہمان اعزازی آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ ، پی پی بی ایس اے کے چیٔرمین کامران نورانی، کراچی ورلڈ بک فیٔر کے کنوینئر وقار متین نے بھی خطاب کیا جبکہ افتتاحی تقریب میں سماجی، ادبی، مذہبی، صحافتی اور علمی شخصیات بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں ۔صوبائی وزیر تعلیم سید سردار احمد شاہ نے اپنے خطاب میں کتب میلے کی انتظامیہ سے درخواست کی کہ سندھ کے دیگر شہروں تک کتابوں نمائش کو دائرہ بڑھائیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں لائبریری کے لیے جگہ مختص کررہے ہیں جبکہ پچھلے سال اسی کتب میلے کے بعد کاغذ پر ٹیکس ختم کرنے کیلئے ایف بی آر کو خط لکھا تھا انہوں نے کہا کہ کراچی عالمی کتب میلے میں شرکت کر کے مجھے ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔ پورے سال اس کراچی کتب میلہ کا انتظار کرتا ہوں۔ آرٹس کونسل کراچی کے صدر احمد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی کتب میلہ میں آکر بچوں کے جوش کو دیکھ کر زندگی کا احساس ہوتا ہے۔آرٹس کونسل آف پاکستان، ملک میں مثبت کام کی ہمیشہ حمایت کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ کتاب تہذیب کی کنجی ہے۔ پاکستان پبلیشرز اینڈ بک سیلرز ایسو سی ایشن کے چیٔرمین کامران نورانی نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ عالمی کتب میلہ کے سلسلہ کو سندھ کے دیگر شہروں تک پھیلایا جائے اگلے سال حیدرآباد، لاڑکانہ اور سکھر میں بک فیٔر کا انعقاد کرنے جارہے ہیں۔ نیشنل بک فاو ¿نڈیشن کا ہمیشہ تعاون رہا ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی تعاون جاری رہے گا۔ کتب بینی کے شوقین افراد کے لیے عالمی کتب میلہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کتب بینی سے قریب کریں۔ اسکولوں میں اچھی لائبریری ہونی چاہیے وہاں ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ موضوعات پر بحث ہو۔ کراچی ورلڈ بک فیٔر کے کنوینئر وقار متین نے کہا کہ عالمی کتب میلہ کراچی کی پہچان بن چکا ہے۔طلبہ، اساتذہ اور شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ اس جدید دور میں بھی کتب کی اہمیت ابھی بھی برقرار ہے۔ پانچ روزہ اس عالمی کتب میلے میں پاکستان کے 140 معروف پبلشرز اور کتاب فروشوں کے علاوہ 17 ممالک سے تعلق رکھنے والے 40 غیر ملکی نمائش کنندگان نے اپنے اسٹال لگائے ہیں بعد ازاں وقا ر متین نے تقریب کے مہمان خصوصی سید سردار علی سمیت تمام شرکائکا شکریہ ادا کیا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں