سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج
شیئر کریں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
انہوں نے ہاتھ ملائے، طویل چہل قدمی کی۔ایک نے دوسرے کے بازو کو چھوا۔ پھر دوبارہ ایسا کیا۔بعد ازاں دونوں نے کئی بار ہاتھ ملائے۔دونوں رہنما ئوں میںکئی محاذوں پر اختلاف پایا جاتا ہے جن میں تائیوان،نایاب معدنیات کے وسائل شامل ہیں۔اس گزشتہ ہفتے میں صدر ٹرمپ اور چینی رہنما شی جن پنگ کے درمیان ملاقاتوںسے واضح ہے کہ وہ رقابت کو زیادہ دوستانہ بنانا چاہتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ باڈی لینگویج سے واضح ہے کہ ٹرمپ اورشی اپنے اپنے اسٹائل میں مصالحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے تھے اور اپنے ممالک کے پیچیدہ تعلق کو ظاہر کررہے تھے۔گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ کے چین کے خلاف جارحانہ تجارتی اقدامات اور چین کے جوابی اقدامات کے بعد سے دونوں ممالک نے عارضی مصالحانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔
کیا امریکی فوجیں تائیوان کا دفاع کر سکیں گی؟
ایران میں جنگ نے امریکہ کی فائر پاور میں اتنی کمی کردی ہے کہ چینی تجزیہ کار کھلم کھلا تائیوان کا دفاع کرنے کی امریکی اہلیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال نے آنے والے دنوں میں چینی راہنما شی جن پنگ سے ملاقات میں صدر ٹرمپ کا اثر انداز ہونا کمزور پڑ جائے گا۔اس جنگ نے امریکہ کی برتری کے تصور کو چکنا چور کردیا ہے۔ چینی انتہا پسند تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر کبھی امریکہ اور چین کے درمیان تائیوان پر جنگ ہوئی تو امریکی فوجیں تائیوان کاموثر دفاع نہیں کر سکیں گی۔ان کا کہنا ہے کہ چونکہ امریکہ ایران کے خلاف جلد فتح حاصل نہیں کر سکا جو ایک علاقائی فوجی قوت ہے تو وہ چین کے خلاف کم کامیابی حاصل کر سکے گا جسے تجزیہ نگار ہم رتبہ مدمقابل سمجھتے ہیں۔اس نقطہ نظر سے شی کے ساتھ مذاکرات میں ٹرمپ کی پوزیشن کمزور ہوگی۔ٹرمپ پہلے والے تکبر کا مظاہرہ نہیں کرسکیں گے۔
ٹرمپ چین کے ساتھ امریکی تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے شی کے ساتھ ڈیل کر نا چاہتے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیںکہ چین زیادہ امریکی سویابین اور بوئنگ طیارے خریدے جبکہ ٹرمپ شی پر چین کی ایرانی تیل کی مسلسل خریداری کے بارے میں دبائو ڈالیںگے جبکہ چین ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتا ہے اور تجارتی صلح میں توسیع چاہتا ہے تاکہ اپنی معیشت پر توجہ مرکوزکرسکے اور اپنی ٹیکنالوجیز کو ترقی دے سکے۔چین ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ چاہتا ہے کہ وہ تائیوان کیلئے اپنی مدد میں کمی کرے۔ فروری میں شی نے ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ چین کبھی بھی تائیوان کو اجازت نہیں دے گا کہ وہ چین سے الگ ہو جائے اور کہا تھا کہ وہ تائیوان کیلئے امریکی اسلحہ کی فروخت کے سلسلے میں محتاط رویہ اپنائیں۔
امریکہ لنگڑاتی چال والا دیو
ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل چینی تجزیہ نگار کھلم کھلاکہاکہ امریکہ میں تائیوان کا دفاع کرنے کی استعداد نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی گولہ بارود کے ذخائر ختم کر دیے ہیں۔جنگ نے امریکہ کی بالادستی کی فضا ختم کردی ہے۔چین کے قوم پرستوں کی منطق یہ ہے کہ چونکہ امریکہ علاقائی فوجی ظاقت ایران کے خلاف جلد فتح حاصل نہیں کرسکا ہے تو اسے چین کے خلاف کم کامیابی کا امکان ہے جو تجزیہ نگار ہم رتبہ مد مقابل سمجھتے ہیں۔کمیونسٹ پارٹی کے اخبار گلوبل ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھاہے کہ اگر امریکی فوج دنیا بھر میں اسلحہ بروئے کار لانے کے قابل نہیں ہے تو امریکہ لنگڑاتی چال والادیو ہوگا۔
ایرانیوں نے شاہ ایران کی حکومت زیادہ سستے خربوزوں کیلئے نہیں گرائی
10 مئی کوٹروتھ سوشل پوسٹ میں ٹرمپ نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کی طرف سے ان کی امن تجاویز کے جواب کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔نیو یارک ٹائمز کے کالم نویس تھامس ایل فرائیڈ مین نے ٹرمپ سے پوچھا ہے، اگر وہ نام نہاد نمائندے ہیں تو آپ کئی ہفتوں سے ان سے کیوں مذاکرات کر رہے ہیں؟ اور کونسامثبت جواب اچھا ہوتا؟ اور ہو سکتا ہے وہ نام نہاد ہو ں، آپ نے اور نیتن یاہو نے ان کے نام نہاد رہنمائوں کو قتل کیا جن کے پاس سنجیدہ ڈیل کرنے کا اختیا رتھا۔ آپ نے سمجھا کہ حکومت گر جا ئے گی۔ اس کے بجائے آپ نے انہیں زیادہ سخت رویہ اپنانے پر مجبور کردیا۔
یہ امر حیران کن نہیں ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے رہنمائوں کو پاگل کہا ہے۔ فرائیڈ مین کا کہنا ہے کہ مسٹر پریزیڈنٹ ! آپ کو یہ جاننے میں اتنا عرصہ لگا۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ آیت اللہ خامنہ ای کا یہ اعلان کہ ایرانیوں نے 1979 میں شاہ ایران کی حکومت زیادہ سستے خربوزے حاصل کرنے کیلئے نہیں گرائی تھی۔
چین ایران کی مدد کو نہیں آیا
انٹر نیشنل انرجی ایجنسی کے ایکزیکٹو ڈائریٹر فاتح بیرول کا کہنا ہے کہ توانائی میں خلل کا عالمی زراعت پر اثر پڑ سکتا ہے جس میں مصنوعی کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمت سے مستقبل میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔آج اس مسئلے کا واحد حل مکمل اور غیر مشروط طور پر آبنائے ہرمز کا کھلنا ہے۔فاتح بیرول نے دی ٹائمز کو بتایا کہ ٹرمپ نے اس ہفتے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو لائف اسپورٹ پر بتایا۔ چین جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، ایران کی مدد کو نہیں آیا،نہ ہی اس نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے کوئی پلان کی پیش کش نہیں کی ہے۔ وجوہ واضح ہیں۔چین میں نصف سے زائد کار سیلز کی فروخت الیکٹرک گاڑیاں ہیں۔یہ توانائی کی واضح پالیسی ہے۔ چین کے پاس تیل کے ذخائر میں 1.2 بلین بیرل موجود ہے جو انٹر نیشنل انرجی ایجنسی کے رکن ممالک کی مجموعی سطح کے مساوی ہے۔
شی جن پنگ کی شخصیت کے مختلف پہلو
شی جن پنگ وہ رہنما ہیںجن کا چین میں پاور کیلئے کوئی قریبی حریف نہیں ہے۔ وہ کم طاقتور رہنمائوں کو لیکچر دینے سے نہیں ہچکچاتے۔ وہ قدیم چینی حکمرانوں کے سانچے میں اپنے آپ کو فلسفی بادشاہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔شی جن پنگ نے صدر بائیڈن سے کہا تھا کہ21 ویں صدی میں جمہوریتیں برقرار نہیں رہ سکتیں کیونکہ انہیں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے جس پر پہنچنا مشکل ہوتاہے۔2025 میں بیجنگ میں فوجی پریڈ میں شی جن پنگ اور پوٹن کیمرے پر بقائے دائمی اور بائیو ٹیکنالوجی میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کرتے دیکھے گئے۔ شی جن پنگ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ اس صدی میں انسان150 سال تک زندہ رہ سکیں گے۔
٭٭٭


