مریم نواز کا نجی دورہ ، سرکاری طیارہ، حکمران خاندان اور موروثی استحقاق کی کہانی
شیئر کریں
نجم انوار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٔ٭مریم نوازنجی دورے پر پنجاب حکومت کے طیارے میں لندن گئیں، جس کے استعمال پر قانونی اختیار، انتظامی منظوری، اخراجات اور ادائیگی کے طریقہ کار سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں
٭2008 سے 2013تک آصف علی زرداری صدر پاکستان رہے ۔قومی اسمبلی میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق انہوں نے پانچ برس میں 93غیر ملکی دورے کیے ، جن میں صرف دبئی کے 25 دورے شامل تھے
٭نواز شریف کے 2013سے 2017 کے تیسرے دورِ وزارت عظمیٰ کے اعداد و شمار کے مطابق انہوں نے 64غیر ملکی دورے کیے جن پر قومی خزانے سے تقریباً 1.013ارب روپے خرچ ہوئے
٭پنجاب حکومت نے جاتی امرا میں شریف خاندان کی سکیورٹی کے لیے تقریباً 36کروڑ 44 لاکھ روپے جاری کیے ،اس رقم میں تقریباً 28کروڑ 32 لاکھ روپے 4.4کلومیٹر طویل حفاظتی دیوار پر خرچ ہوئے
٭ مریم نواز کا لندن سفر معمولی خبر نہیں۔کیونکہ یہ سوال ایک ایسے خاندان کی اگلی نسل سے متعلق ہے جس نے پاکستان کی سیاست میں کئی دہائیاں اقتدار کے مرکز میں گزاری ہیں
٭موروثی سیاست میں خطرہ صرف یہ نہیں کہ اگلی نسل اقتدار میں آ گئی، اصل خطرہ اس سے آگے ہے کہ مراعات بھی موروثی ہو جائیں، اگر ایک نسل سرکاری پروٹوکول کو اپنا حق سمجھتی ہے تو اگلی نسل اسے معمول سمجھتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں اقتدار بدلتا ہے ، چہرے بدلتے ہیں، جماعتیں بدلتی ہیں، مگر ایک چیز بڑی مستقل مزاجی سے قائم رہتی ہے :حکمران خاندان اور ریاستی وسائل کے درمیان لکیر کا دھندلا ہونا۔
آج مریم نواز کے لندن سفر پر سوال اٹھ رہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ اپنی بیٹی ماہ نور کی لندن میں گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے صوبائی حکومت کے طیارے پر لندن کیوں گئیں؟ حکومت کا مؤقف ہے کہ سفر کے اخراجات مریم نواز نے اپنی جیب سے ادا کیے ۔ دوسری طرف اپوزیشن کی طرف سے سرکاری خزانے پر لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کے بوجھ کے دعوے کیے گئے ہیں۔ ایک طرف پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے ذاتی طور پر اخراجات برداشت کیے ، دوسری طرف تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نے تقریباً ایک کروڑ 25 لاکھ روپے کے ایندھن، پارکنگ اور دیگر متعلقہ اخراجات کا سوال اٹھایا ہے ۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس سے بھی کہیں زیادہ، تقریباً ساڑھے چھ کروڑ روپے کا دعویٰ کیا ہے اور رسیدیں مانگی ہیں۔یہاں اصل سوال کسی ایک سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت کا نہیں۔اصل سوال یہ ہے :ریاستی عہدہ کہاں ختم ہوتا ہے اور حکمران کا نجی استحقاق کہاں سے شروع ہوتا ہے ؟اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے حکمران خاندانوں نے اقتدار کو عوام کی امانت سمجھا یا اسے نسل در نسل منتقل ہونے والی ایسی مراعات کا پیکیج سمجھ لیا جس میں سرکاری گاڑی، سکیورٹی، سرکاری رہائش، سرکاری طیارہ، سرکاری عملہ اور سرکاری پروٹوکول سب کچھ اقتدار کے ساتھ بطور ‘‘حق’’ آتا ہے ؟مریم نواز کا واقعہ اسی لیے اہم ہے کہ یہ ایک فرد کا معاملہ نہیں۔ یہ ایک ‘‘سیاسی کلچر’’کا آئینہ ہے ۔
لندن کا سفر اور ایک رسید کا سوال
پنجاب حکومت کے مطابق مریم نواز اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن گئیں اور سفر کے اخراجات خود برداشت کیے ۔ لیکن مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا، کیونکہ سفر کے لیے پنجاب حکومت کا طیارہ استعمال ہوا۔ اسی طیارے کے استعمال پر قانونی اختیار، انتظامی منظوری، اخراجات اور ادائیگی کے طریقہ کار سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔اگر واقعی وزیراعلیٰ نے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے ہیں تو اس دعوے کو ثابت کرنا سب سے آسان کام ہونا چاہیے ۔رسید پیش کیجیے :۔
ایندھن کی رسید۔
پارکنگ کی رسید۔
لینڈنگ اور ہینڈلنگ کی رسید۔
جہاز کے آپریشن کی لاگت۔
متعلقہ سرکاری محکمے کو کی گئی ادائیگی کا ثبوت۔
اور وہ قانونی حکم یا منظوری جس کے تحت وزیراعلیٰ کو سرکاری طیارہ ذاتی نوعیت کے سفر کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔بات ختم۔
لیکن جب ریاستی وسائل کے استعمال کا سوال ہو تو زبانی وضاحت کافی نہیں ہونی چاہیے ۔کیونکہ ریاستی خزانہ کسی سیاسی جماعت کا خزانہ نہیں ہوتا۔یہ عوام کا پیسہ ہے ۔اور عوام کو یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ ان کے پیسے سے اڑنے والے جہاز میں ریاست سفر کر رہی تھی یا حکمران خاندان؟
-
1993 سے 1996کے درمیان، بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے زمانے میں وزیراعظم ہاؤس کی زمین پر ایک پولو گراؤنڈ، اصطبل اور متعلقہ تعمیرات کا منصوبہ بنایا گیا۔آڈٹ ریکارڈ کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 5؍کروڑ 22 ؍لاکھ 97؍ہزار روپے خرچ ہوئے ۔لیکن اصل حیرت رقم سے بھی زیادہ طریقہ کار میں تھی۔
مسئلہ صرف مریم نواز کا نہیں
اگر اس بحث کو صرف مریم نواز تک محدود کردیا جائے تو ہم اصل مسئلہ چھپا دیں گے ۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ روایت نئی نہیں۔نہ یہ صرف مسلم لیگ ن کا مسئلہ ہے ۔نہ صرف پیپلز پارٹی کا۔نہ صرف شریف خاندان کا۔نہ صرف بھٹو زرداری خاندان کا۔اصل بیماری اس سیاسی نظام میں ہے جہاں اقتدار کے ساتھ آنے والی سہولتیں رفتہ رفتہ ‘‘ذاتی استحقاق’’کا روپ دھار لیتی ہیں۔
شریف خاندان ہو یا بھٹو زرداری خاندان، دونوں کے مختلف ادوارِ اقتدار میں سرکاری اخراجات، سرکاری وسائل، بیرون ملک دوروں، سکیورٹی، سرکاری رہائش گاہوں اور حکمران خاندان کی سہولتوں کے حوالے سے بارہا سوالات اٹھتے رہے ہیں۔یہ کہنا درست نہیں کہ ہر ایسا خرچ کرپشن تھا۔یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ہر سرکاری سفر فضول تھا۔وزیراعظم اور صدر کو سرکاری دورے کرنے پڑتے ہیں۔ وفود ساتھ جاتے ہیں۔ سکیورٹی درکار ہوتی ہے ۔ سفارتی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔لیکن سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ریاستی ضرورت اور نجی ضرورت ایک دوسرے میں گھلنے لگیں۔اور پاکستان کی تاریخ میں ایسے کئی مواقع موجود ہیں جہاں یہی سوال اٹھا۔
بھٹو خاندان کے دور کی ایک تلخ مثال
1993 سے 1996کے درمیان، بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے زمانے میں وزیراعظم ہاؤس کی زمین پر ایک پولو گراؤنڈ، اصطبل اور متعلقہ تعمیرات کا منصوبہ بنایا گیا۔آڈٹ ریکارڈ کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 5؍کروڑ 22 ؍لاکھ 97؍ہزار روپے خرچ ہوئے ۔لیکن اصل حیرت رقم سے بھی زیادہ طریقہ کار میں تھی۔آڈٹ اعتراض کے مطابق منصوبہ نومبر 1993 میں شروع ہوا اور نومبر 1996میں مکمل ہوا۔ تقریباً 20ایکڑ زمین استعمال ہوئی۔ آڈٹ نے نشاندہی کی کہ منصوبہ وزیراعظم ہاؤس کے ایک ‘‘وی وی آئی پی’’ کی زبانی ہدایات پر شروع کیا گیا، نہ باقاعدہ فزیبلٹی اسٹڈی تھی، نہ مناسب جواز، نہ ابتدائی طور پر پی سی ۔ون ، نہ انتظامی منظوری، نہ اوپن ٹینڈرنگ اور نہ ہی مقررہ مالی طریقہ کار کی مکمل پابندی۔ بعد میں منظوریوں کو باقاعدہ شکل دینے کی کوشش کی گئی اور معاملہ مزید تحقیقات کے لیے نیب اور ایف آئی اے تک بھی پہنچا۔یہاں بھی یہ کہنا ضروری ہے کہ آڈٹ اعتراض خود کسی شخص کی عدالتی سزا نہیں ہوتا۔لیکن آڈٹ کا سوال بہرحال سوال ہوتا ہے ۔اور جب ریاست کے وزیراعظم ہاؤس میں کروڑوں روپے کی ایسی تعمیر سامنے آئے جس کے بارے میں آڈٹ یہ پوچھے کہ یہ کس ضرورت کے تحت، کس منظوری سے اور کس طریقے سے بنی؟تو عوام کو جواب ملنا چاہیے ۔ریاستی عمارت میں پولو گراؤنڈ بنانا لازماً جرم نہیں۔لیکن غریب ملک میں حکمران کے ذاتی شوق اور ریاستی ترجیحات کے درمیان لکیر ضرور کھینچی جانی چاہیے ۔
زرداری دور:سفر، وفود اور سرکاری خزانہ
2008 سے 2013تک آصف علی زرداری صدر پاکستان رہے ۔قومی اسمبلی میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق انہوں نے پانچ برس میں 93غیر ملکی دورے کیے ، جن میں صرف دبئی کے 25 دورے شامل تھے ۔بعد میں 2019میں وفاقی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے اس وقت کے وزیر شفقت محمود نے دعویٰ کیا کہ زرداری کے 2008سے 2013کے دور میں بیرون ملک دوروں پر تقریباً 1.42ارب روپے خرچ ہوئے ، جبکہ نواز شریف کے 2013سے 2017 کے دور میں بیرون ملک دوروں پر 1.84ارب روپے خرچ ہوئے ۔ دونوں ادوار کے مجموعی اخراجات تقریباً 3.26 ارب روپے بتائے گئے ۔لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے ۔یہ تمام دورے نجی نہیں تھے ۔
صدر پاکستان کے بہت سے دورے سفارتی اور سرکاری نوعیت کے تھے ۔ اس لیے صرف مجموعی رقم دیکھ کر اسے ‘‘فضول خرچی’’ یا ‘‘کرپشن’’ قرار دینا قرین انصاف نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ:کتنا خرچ سرکاری ذمہ داری پر ہوا؟کتنا وفد پر؟کتنا سرکاری سکیورٹی اور پروٹوکول پر؟کتنا ایسے سفر پر جس کا ریاستی مقصد واضح تھا؟اور کتنا ایسا تھا جسے نجی خرچ سمجھا جانا چاہیے تھا؟یہ تفصیل عوام کے سامنے ہونی چاہیے ۔
زرداری دور پر نجی دوروں کا الزام بھی لگا
2019میں وفاقی وزیر شفقت محمود نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ زرداری نے صدارت کے دوران دبئی کے 51دورے کیے جن میں سے 48کو انہوں نے ‘‘نجی’’ قرار دیا اور ان پر تقریباً 10کروڑ روپے خرچ ہونے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے برطانیہ کے 17دوروں پر تقریباً 32 کروڑ روپے خرچ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ اگر ریاست کے وسائل سے کسی صدر کے نجی دوروں کے اخراجات ادا ہوئے ہوں تو یہ ضرور ایک بنیادی سوال بن جاتا ہے کہ صدر کا نجی سفر آخر سرکاری خزانے کی ذمہ داری کیوں بنے ؟اور یہی سوال آج مریم نواز کے معاملے میں بھی سامنے آ رہا ہے ۔
شریف خاندان:سفر کا حساب بھی موجود ہے
اب رخ شریف خاندان کی طرف کیجیے ۔نواز شریف کے 2013سے 2017 کے تیسرے دورِ وزارت عظمیٰ کے بارے میں قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد کے مطابق انہوں نے 64غیر ملکی دورے کیے جن پر قومی خزانے سے تقریباً 1.013 ارب روپے خرچ ہوئے ۔ سال بہ سال بھی دوروں کی تعداد ریکارڈ میں موجود ہے : 2013میں 10، 2014میں 11، 2015میں 23، 2016میں 9 اور 2017میں 9۔اس میں شک نہیں کہ وزیراعظم کے بیرون ملک سفارتی دورے ریاستی ذمہ داری ہوتے ہیں۔لیکن جب ایک ملک معاشی بحران، قرض، توانائی کے بحران اور عوامی مشکلات سے گزر رہا ہو تو حکومت پر یہ اخلاقی ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر سفر کی قیمت اور نتیجہ عوام کے سامنے رکھے ۔اور اگر کسی سفر میں نجی نوعیت شامل ہو تو پھر سرکاری خزانے کو اس کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے ۔2018 میں مشیر شہزاد اکبر نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ نواز شریف کے دور میں 25نجی بیرون ملک دورے سرکاری خرچ پر ہوئے اور ان پر تقریباً 25 کروڑ روپے خرچ ہوئے ۔ یہ بھی ایک سیاسی حکومتی دعویٰ تھا، کوئی حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے ، کیونکہ احتساب کا مطلب مخالف کو مجرم قرار دینا نہیں؛ احتساب کا مطلب ریکارڈ مانگنا ہے ۔
جاتی امرا کی سکیورٹی:ریاستی ضرورت یا خاندانی سہولت؟
2015 میں ایک اور معاملہ سامنے آیا۔پنجاب حکومت نے جاتی امرا میں شریف خاندان کی سکیورٹی کے لیے تقریباً 36کروڑ 44 لاکھ روپے جاری کیے ۔ رپورٹ کے مطابق اس رقم میں تقریباً 28کروڑ 32 لاکھ روپے 4.4کلومیٹر طویل حفاظتی دیوار پر خرچ ہوئے۔ یہ اخراجات وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور ان کے خاندانوں کے لیے موجود معمول کی سکیورٹی بجٹ کے علاوہ تھے ۔یہاں بھی انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ سکیورٹی کو فوراً ‘‘ذاتی خرچ’’نہ کہا جائے ۔وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کو سکیورٹی چاہیے ۔لیکن سوال یہ ہے :ریاستی سکیورٹی کی حد کہاں تک ہے ؟کیا سرکاری عہدہ رکھنے والے شخص کے گھر، خاندان، نجی جائیداد اور ذاتی احاطے کی ہر سہولت ریاست کی ذمہ داری ہے ؟اگر ہاں تو اس کے واضح قواعد کیا ہیں؟اگر نہیں تو ریاستی خرچ کی حد کون مقرر کرے گا؟یہ سوال صرف شریف خاندان سے نہیں، ہر حکمران خاندان سے پوچھا جانا چاہیے ۔
اور پھر آج مریم نواز
یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کا لندن سفر معمولی خبر نہیں۔کیونکہ یہ سوال ایک ایسے خاندان کی اگلی نسل سے متعلق ہے جس نے پاکستان کی سیاست میں کئی دہائیاں اقتدار کے مرکز میں گزاری ہیں۔مریم نواز نے وہ سیاسی ماحول اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ہے جس میں شریف خاندان اقتدار میں بھی رہا، اپوزیشن میں بھی، جلاوطنی میں بھی اور دوبارہ اقتدار میں بھی۔ان کے سیاسی خاندان کے لیے سرکاری گاڑیاں، سکیورٹی، پروٹوکول، سرکاری رہائش اور ریاستی سہولتیں کوئی نئی چیز نہیں۔لیکن نئی نسل کی اصل آزمائش یہی ہوتی ہے کہ وہ پرانی مراعات کو اپنا پیدائشی حق سمجھتی ہے یا ریاستی امانت۔مریم نواز سے یہی سوال ہونا چاہیے ۔کیا وزیراعلیٰ کا عہدہ یہ حق دیتا ہے کہ وہ ذاتی خاندانی تقریب میں شرکت کے لیے صوبائی طیارہ استعمال کرے ؟اگر قانون اجازت دیتا ہے تو وہ قانون سامنے آنا چاہیے ۔اگر سرکاری پالیسی اجازت دیتی ہے تو پالیسی سامنے آنی چاہیے ۔اگر تمام اخراجات ذاتی طور پر ادا کیے گئے تو رسیدیں سامنے آنی چاہئیں۔اور اگر کوئی سرکاری خرچ ہوا تو اس کی مکمل تفصیل بھی عوام کے سامنے آنی چاہیے ۔
سب سے اہم بات:جہاز کی قیمت نہیں، اصول کی قیمت
یہاں ایک اور دلچسپ پہلو بھی ہے ۔پنجاب حکومت کا گلف اسٹریم G500 طیارہ جس پر پہلے ہی سوالات اٹھ چکے ہیں، اس کی قیمت مختلف رپورٹس میں تقریباً 38سے 42 ملین ڈالریعنی دس ارب روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے ۔حکومت کی جانب سے اسے مجوزہ ‘‘ایئر پنجاب’’ منصوبے کا حصہ قرار دیا گیا، جبکہ بعض ماہرین نے سوال اٹھایا کہ صرف 17 نشستوں والے ایسے طیارے کی تجارتی افادیت کیا ہوگی۔ یہ طیارہ مریم نواز کے لیے خریدا گیا تھا، ایسا کہنا درست نہیں۔لیکن سوال یہ ضرور ہے کہ:اتنے مہنگے ریاستی اثاثے کا استعمال کن قواعد کے تحت ہوگا؟اگر یہ تجارتی منصوبے کا حصہ ہے تو اس کا بزنس ماڈل کیا ہے ؟اگر یہ سرکاری سفری ضرورت کے لیے ہے تو اس کے استعمال کا معیار کیا ہے ؟اور اگر وزیراعلیٰ اسے ذاتی نوعیت کے سفر کے لیے استعمال کرسکتی ہیں تو پھر عام شہری کو یہ جاننے کا حق کیوں نہیں کہ اس استعمال کی قیمت کیا تھی؟
معلومات کا حق اور دروازے بند کرنے کی روایت
یہ سوال اس وقت اور سنگین ہوجاتا ہے جب سرکاری معلومات حاصل کرنے کی کوشش بھی آسان نہ ہو۔مئی 2026میں مریم نواز کے دورۂ بیرون ملک، گاڑیوں، سرکاری طیارے اور ہیلی کاپٹر کے استعمال، سفری اخراجات اور دیگر تفصیلات کے بارے میں آر ٹی آئی درخواستوں کا معاملہ سامنے آیا۔ وزیراعلیٰ آفس کی طرف سے بعض مطلوبہ معلومات کے بارے میں کہا گیا کہ یہ معلومات اس دفتر کے پاس موجود نہیں۔یہ طرزِ عمل عوامی اعتماد کے لیے اچھا نہیں۔اگر خرچ جائز ہے تو اسے چھپانے کی ضرورت نہیں۔اگر سفر سرکاری ہے تو اس کی تفصیل دکھائیے ۔اگر نجی ہے تو سرکاری وسائل کے استعمال کی اجازت اور ادائیگی دکھائیے ۔اور اگر قانون میں کوئی ممانعت نہیں تو قانون کی وہ شق دکھائیے ۔ریاستی راز اور حکمران کا ذاتی خرچ ایک چیز نہیں ہوتے ۔
پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ ن آئینہ دونوں کے سامنے ہے
یہاں پاکستان کے سیاسی کارکنوں کے لیے بھی ایک تلخ سوال ہے ۔جب مسلم لیگ ن کے مخالفین مریم نواز کے جہاز پر سوال اٹھاتے ہیں تو کیا وہ اپنے دور کے سوالات بھول جائیں؟اور جب پیپلز پارٹی کے حامی مریم نواز سے رسید مانگتے ہیں تو کیا انہیں زرداری دور کے نجی دوروں کے الزامات کا حساب یاد نہیں؟اسی طرح مسلم لیگ ن کے حامی اگر زرداری کے 93غیر ملکی دوروں کا حوالہ دیں تو انہیں نواز شریف کے 64دوروں اور اربوں روپے کے سرکاری اخراجات کا حساب بھی یاد رکھنا چاہیے ۔احتساب کا ترازو پارٹی کا جھنڈا دیکھ کر نہیں جھکنا چاہیے ۔ورنہ احتساب نہیں، سیاسی انتقام رہ جاتا ہے ۔
اور تاریخ ہمیں اس سے بھی پرانا سبق دیتی ہے
یہ مسئلہ صرف شریف اور بھٹو زرداری خاندانوں تک محدود بھی نہیں۔2003میں ایک تحریر میں ایک اور مثال سامنے لائی گئی تھی کہ سابق صدر فاروق لغاری کے بیٹے کی گریجویشن کے لیے سرکاری خرچ پر پی آئی اے کا طیارہ چارٹر کیے جانے کا معاملہ بھی کبھی زیر بحث آیا تھا۔ اسی تحریر میں ترک وزیراعظم تانسو چِلر کی مثال دی گئی کہ انہوں نے اپنے ذاتی ٹکٹ خود ادا کیے ۔یعنی مسئلہ آج پیدا نہیں ہوا۔یہ پاکستان کے حکمران طبقے کے اس پرانے مزاج کا مسئلہ ہے جس میں کبھی حکمران کے خاندان کی سکیورٹی، کبھی رہائش، کبھی سفر، کبھی تفریح، کبھی گھوڑے ، کبھی پولو گراؤنڈ اور کبھی جہاز ریاستی سہولت اور ذاتی ضرورت کے درمیان کھڑے نظر آتے ہیں۔
لیکن ایک اچھی مثال بھی موجود ہے
ستمبر 2026میں صدر آصف علی زرداری کے حالیہ نجی غیر ملکی سفر کے بارے میں ایوانِ صدر کے ترجمان نے واضح کیا کہ سفر کے تمام اخراجات ذاتی طور پر ادا کیے گئے ، حتیٰ کہ نجی طور پر چارٹر کیے گئے طیارے ، عملے ، پارکنگ، رہائش اور متعلقہ اخراجات بھی۔اگر واقعی ایسا ہے تو یہی وہ اصول ہے جسے پاکستان میں معمول بننا چاہیے ۔نجی سفر تو ذاتی خرچ۔اگرریاستی سفر تو پھر واضح اہداف کی نشاندہی اورریاستی خرچ، مگر مکمل حساب کے ساتھ۔یہ اصول نواز شریف کے لیے بھی ہو۔زرداری کے لیے بھی۔مریم نواز کے لیے بھی۔شہباز شریف کے لیے بھی۔عمران خان کے لیے بھی۔اور مستقبل کے ہر وزیراعظم، وزیراعلیٰ، صدر اور گورنر کے لیے بھی۔
آزاد کشمیر میں ن لیگ حکومت۔۔ اقتدار مل گیا،مگر امتحان ابھی شروع ہوا ہے!
اصل مسئلہ ‘‘کرپشن’’ کا لفظ نہیں، جواب دہی کا فقدان ہے
پاکستان میں ہم ہر سیاسی تنازع کو فوراً کرپشن کہہ دیتے ہیں۔یہ بھی غلط ہے ۔ہر مہنگا سفر کرپشن نہیں۔ہر سرکاری جہاز کا استعمال کرپشن نہیں۔ہر سکیورٹی خرچ کرپشن نہیں۔ہر بیرون ملک دورہ کرپشن نہیں۔لیکن اسی طرح ہر خرچ کو ‘‘وزیراعلیٰ کا استحقاق’’ کہہ دینا بھی درست نہیں۔اصل مسئلہ شفافیت ہے ۔ریاستی خزانہ استعمال ہوا ہے تو حساب دیں۔سرکاری اثاثہ استعمال ہوا ہے تو قانونی بنیاد بتائیں۔نجی سفر تھا تو ذاتی ادائیگی دکھائیں۔ریاستی سفر تھا تو سرکاری مقصد بتائیں۔اور اگر قواعد مبہم ہیں تو قواعد تبدیل کریں۔
- وفاقی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے 2019میں اس وقت کے وزیر شفقت محمود نے دعویٰ کیا کہ زرداری کے 2008سے 2013کے دور میں بیرون ملک دوروں پر تقریباً 1.42ارب روپے خرچ ہوئے ، جبکہ نواز شریف کے 2013سے 2017 کے دور میں بیرون ملک دوروں پر 1.84ارب روپے خرچ ہوئے ۔ دونوں ادوار کے مجموعی اخراجات تقریباً 3.26 ارب روپے بتائے گئے ۔
مریم نواز کے لیے اصل سیاسی امتحان
مریم نواز کے سامنے اس وقت ایک موقع ہے ۔وہ چاہیں تو روایتی سیاسی راستہ اختیار کرسکتی ہیں:‘‘مخالفین سازش کر رہے ہیں’’۔‘‘ہم نے اپنے پیسے سے کیا’’۔‘‘ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے’’ ۔‘‘وسروں نے بھی یہی کیا’’۔یا وہ اس سے بالکل مختلف راستہ اختیار کرسکتی ہیں۔وہ کہہ سکتی ہیں:‘‘یہ میری ذاتی خاندانی تقریب تھی۔ یہ سرکاری طیارہ استعمال ہوا۔ یہ اس کی مکمل لاگت ہے ۔ یہ وہ رسیدیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ میں نے یہ رقم ذاتی طور پر ادا کی۔ یہ وہ قانونی حکم ہے جس کے تحت طیارہ استعمال ہوا’’۔
اور اگر یہ ثابت ہوجائے تو تنقید کا بڑا حصہ خود بخود ختم ہوجائے گا۔کیونکہ جمہوریت میں طاقتور آدمی کی سب سے بڑی طاقت اس کا عہدہ نہیں، ‘‘اس کی شفافیت’’ہوتی ہے ۔
شریف اور بھٹو زرداری خاندانوں کی اصل آزمائش
شریف خاندان اور بھٹو زرداری خاندان پاکستان کی سیاست کے محض دو خاندان نہیں؛ یہ ملک کی کئی دہائیوں کی سیاسی تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک زمانے میں عوامی حمایت بھی دیکھی ہے ۔اب ان کے مخالفین بھی کروڑوں میں ہیں۔ ریاست کسی خاندان کی جاگیر نہیں۔نہ جاتی امرا پاکستان ہے ۔نہ بلاول ہاؤس پاکستان ہے ۔نہ زرداری ہاؤس پاکستان ہے ۔نہ وزیراعظم ہاؤس کسی خاندان کا ڈرائنگ روم ہے ۔اور نہ وزیراعلیٰ ہاؤس کسی خاندان کا نجی سفری مرکز۔ریاست عوام کی ہے ۔حکمران صرف اس کے عارضی امین ہیں۔یہی وہ بنیادی شعور ہے جو ہماری سیاسی تربیت میں سب سے زیادہ غائب ہے ۔
موروثی سیاست کا سب سے بڑا خطرہ
موروثی سیاست پر اعتراض صرف اس لیے نہیں ہونا چاہیے کہ ایک باپ کی جگہ بیٹی، ایک ماں کی جگہ بیٹا یا ایک خاندان کی جگہ اگلی نسل اقتدار میں آ گئی۔اصل خطرہ اس سے آگے ہے ۔خطرہ یہ ہے کہ مراعات بھی موروثی ہوجائیں۔اگر ایک نسل سرکاری پروٹوکول کو اپنا حق سمجھتی ہے تو اگلی نسل اسے معمول سمجھتی ہے ۔اگر ایک نسل سرکاری وسائل اور ذاتی زندگی کے درمیان لکیر دھندلا دیتی ہے تو اگلی نسل کو وہ لکیر نظر ہی نہیں آتی۔پھر سرکاری جہاز پر بیٹی کی گریجویشن میں جانا شاید حکمران کو غیر معمولی بات نہ لگے ۔کیونکہ اس کے ذہن میں یہ طیارہ ‘‘ریاست کا’’ نہیں بلکہ ‘‘اس منصب کا’’ بن چکا ہوتا ہے ۔یہی اصل ذہنی تبدیلی ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔
اب وقت ہے کہ قانون ایک ہو
پاکستان کو کسی نئے سیاسی نعرے کی ضرورت نہیں۔صرف چند واضح اصول درکار ہیں۔
پہلا:کسی بھی صدر، وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا ان کے خاندان کے نجی سفر کے لیے سرکاری طیارہ یا سرکاری گاڑی استعمال ہو تو اس کی قانونی اجازت، لاگت اور ادائیگی لازماً عوامی کی جائے ۔
دوسرا:نجی سفر کا خرچ ریاست برداشت کرے تو اس کے لیے واضح قانون ہو، ورنہ متعلقہ شخصیت سے مکمل رقم وصول کی جائے ۔
تیسرا:ہر سرکاری بیرون ملک دورے کی 30دن کے اندر itemized cost public کی جائے ۔
چوتھا:سکیورٹی کے نام پر ہونے والے غیر معمولی اخراجات کا بھی آڈٹ ہو۔
پانچواں:حکمران خاندان کے نجی گھروں، تقریبات اور کاروباری سرگرمیوں پر سرکاری وسائل کے استعمال کی واضح حد مقرر کی جائے ۔
چھٹا: آر ٹی آئی کے ذریعے ایسی معلومات مانگنے والے شہری کو ‘‘ریکارڈ موجود نہیں’’ کہہ کر خاموش نہ کیا جائے ؛ ریکارڈ نہ ہونے کی صورت میں ذمہ دار افسر سے جواب لیا جائے ۔
اور سب سے اہم:یہ قواعد صرف مخالف حکومت کے لیے نہیں ہونے چاہئیں۔یہ مریم نواز کے لیے بھی ہوں۔زرداری کے لیے بھی۔شہباز شریف کے لیے بھی۔نواز شریف کے لیے بھی۔عمران خان کے لیے بھی۔اور اس شخص کے لیے بھی جو کل کسی نئے نام، نئے جھنڈے اور نئے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے گا۔
آخری سوال
مریم نواز کی بیٹی کی گریجویشن ایک خاندانی خوشی تھی۔خاندان کو خوشیاں منانے کا پورا حق ہے ۔لیکن ریاستی طیارہ خاندانی خوشی کا حصہ کب بنتا ہے ؟یہی سوال ہے ۔زرداری کے دوروں کا حساب بھی اسی معیار سے ہونا چاہیے ۔نواز شریف کے دوروں کا حساب بھی۔شہباز شریف کے وفود کا حساب بھی۔جاتی امرا کی سکیورٹی کا حساب بھی۔وزیراعظم ہاؤس کے پولو گراؤنڈ کا حساب بھی۔اور آج مریم نواز کے لندن سفر کا حساب بھی۔کیونکہ ریاستی امانت میں ماضی کی رعایت مستقبل کا لائسنس نہیں بنتی۔اگر زرداری نے کیا تھا تو مریم کو حق نہیں مل جاتا۔اگر نواز شریف نے کیا تھا تو زرداری بری نہیں ہوجاتے ۔اگر کسی اور صدر نے اپنے بیٹے کی تقریب کے لیے سرکاری طیارہ استعمال کیا تھا تو آج کے وزیراعلیٰ کو اجازت نامہ نہیں مل جاتا۔بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم نے کئی دہائیوں سے ایک غلط روایت کو روکا نہیں۔جہاز آج لندن گیا ہے ، مگر سوال کئی دہائیاں پیچھے جاتا ہے ۔سوال یہ نہیں کہ جہاز کس کا تھا۔سوال یہ ہے کہ اس جہاز کی قیمت کس نے ادا کی؟سوال یہ نہیں کہ مسافر کون تھا۔سوال یہ ہے کہ ریاستی اختیار کو نجی ضرورت میں استعمال کرنے کی اجازت کس قانون نے دی؟اور سوال یہ بھی نہیں کہ حکمران کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے ۔اصل سوال یہ ہے :کیا پاکستان میں حکمران خاندان ریاست کے مالک ہیں، یا صرف چند سال کے لیے ریاست کے امین؟اگر جواب دوسرا ہے تو پھر ہر سفر کی رسید ہونی چاہیے ۔ہر جہاز کا حساب ہونا چاہیے ۔ہر مراعات کا قانون ہونا چاہیے ۔اور ہر حکمران کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستی خزانہ کسی خاندان کی وراثت نہیں عوام کی امانت ہے ۔
٭٭٭٭٭


