میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
محکمہ آبپاشی ،سیکورٹی ڈیپازٹ کی وصولی میں سرکاری خزانے کو کروڑوں کا ٹیکا

محکمہ آبپاشی ،سیکورٹی ڈیپازٹ کی وصولی میں سرکاری خزانے کو کروڑوں کا ٹیکا

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

شیئر کریں

محکمہ آبپاشی سندھ کے منصوبے میں سیکورٹی ڈیپازٹ کی وصولی میں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا چونا لگانے کا انکشاف ہوا ہے، آر بی او ڈی ٹو منصوبے میں اٹھارہ ارب روپے کے اخراجات پرچوراسی کروڑ روپے سیکورٹی ڈیپازٹ وصول نہیں کیا گیا۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے سکھر بیراج کے سیم کا پانی سمندر میں خارج کرنے اور میٹھے پانی کی جھیل منچھر کو بچانے کے لئے سال 2001 میں سیوہن سے سمندر تک رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین ٹو کا منصوبہ شروع کیا، منصوبہ کی تعمیر پر عملدرآمد حکومت سندھ کے محکمہ آبپاشی کی ذمہ د اری ہے، منصوبے پر مختلف برسوں میں اٹھارہ ارب ستائیس کروڑ پچاس لاکھ روپے کے اخراجات کئے گئے، ٹینڈر دستاویزات کے تحت ہر ایک بل پر 5 فیصد رقم منہا کی جائے گی ، اگر ٹھیکیدار بینک ضمانت جمع نہیں کرواتا تو 5 فیصد رقم کی وصولی جاری رہے گی۔ آر بی او ڈی ٹو منصوبے پر اربوں روپے کے اخراجات پر مجموعی طور پر سیکورٹی ڈیپازٹ 91 کروڑ30 لاکھ روپے ہے لیکن محکمہ آبپاشی سندھ نے صرف 6 کروڑ 40 لاکھ روپے سیکورٹی ڈپازٹ وصول کیا اور چوراسی کروڑ سے زائد رقم وصول نہیں کی گئی جبکہ منصوبے کا تعمیراتی کام ابھی تک نامکمل ہے ، سیکورٹی ڈیپازٹ وصول نہ کرکے سرکار ی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور آر بی او ڈی ٹو کی انتظامیہ کی مالی کمزوری ظاہر ہوتی ہے، اعلیٰ حکام نے کروڑوں روپے کی وصولی نہ ہونے کے متعلق آگاہ کیا گیا لیکن محکمہ آبپاشی کے افسران نے کوئی اقدامات نہیں کئے اور نہ ڈیپارٹمنٹل ایکشن کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔ واضح رہے کہ آر بی او ڈی ٹو کا منصوبہ سال 2001 میںشروع کیا گیا اور منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 14 ارب روپے لگایا گیا، سال 2005 میں 29ارب اور سال 2016 میں منصوبے کی لاگت 61 ارب روپے کی گئی ہے لیکن 173 کلومیٹر طویل ڈرین کا تاحال منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں