تحریک لبیک احتجاج ، شہروں میں زندگی مفلوج، 77کارکن گرفتار
شیئر کریں
پولیس ناکے قائم، شاہدرہ میدانِ جنگ بن گیا،پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں
پولیس اہلکار کو پکڑ کر تشدد،گاڑی چھین لی، تفریحی پارک سنسان، سپلائی رک گئی
تحریک لبیک احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے سخت سیکیورٹی انتظامات آج دوسرے دن بھی جاری ہیں، جبکہ تحریک لبیک احتجاج کے باعث ٹرانسپورٹ مکمل بند ہونے سے نظامِ زندگی بری طرح مفلوج ہوچکا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس ناکے قائم ہیں اور گزشتہ 36 گھنٹوں سے ٹریفک جام کی صورتحال برقرار ہے۔ صبح کے وقت سول لائن پولیس نے تحریک لبیک کے آفس جامعہ مسجد غوثیہ ضیاء العلوم پر چھاپہ مار کر 77 کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔تحریک لبیک احتجاج کے باعث راولپنڈی کی مرکزی شاہرہ مری روڈ کی گلیوں کو بھی سیل کردیا گیا ہے۔ اڈیالہ جیل سے ملزمان کو عدالت نہ لایا جاسکا جس پر عدالتوں نے مقدمات کی سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کردی۔ ہول سیل منڈیاں اور سبزی و فروٹ منڈی بند ہونے سے سپلائی رک گئی، شہر میں سبزی اور پھلوں کی شدید قلت پیدا ہوگئی اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔شہر کے تفریحی پارک سنسان پڑ گئے، ہوٹلنگ بند ہے اور فوڈ چینز بھی مکمل طور پر غیر فعال ہیں۔ دوسری جانب لاہور کے علاقے شاہدرہ میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی جہاں پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ تحریک لبیک کے کارکنوں نے پولیس کی گاڑی چھین لی اور شاہدرہ پل پر قبضہ کرلیا۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی جبکہ مظاہرین نے پتھراؤ سے جواب دیا۔
ایک موقع پر مظاہرین نے پولیس اہلکار کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس نے ربڑ کی گولیاں چلائیں مگر شاہدرہ میدانِ جنگ بن گیا۔ ہر طرف شیلنگ اور فائرنگ کی آوازوں سے علاقہ مکین خوفزدہ ہوگئے، پولیس کو پیچھے ہٹنا پڑا اور تحریک لبیک کے کارکنوں کا قافلہ آگے بڑھنے لگا۔


