مون سون کے دوران ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاریاں تیز
شیئر کریں
وزیراعظم کی ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا دوسرا اجلاس، مؤثر رابطہ کاری پر زور
حفاظتی انتظامات، تیاریوں اور ہنگامی ردعمل کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیراعظم کی ہدایات پر قائم ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا دوسرا اجلاس جمعہ کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، چیئرمین این ڈی ایم اے، متعلقہ وفاقی اداروں کے نمائندوں اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مون سون کے پیش نظر متعلقہ اداروں کی جانب سے کیے گئے حفاظتی انتظامات، تیاریوں اور ہنگامی ردعمل کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو صوبائی اداروں کی جانب سے مون سون کے دوران ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاریوں اور شمالی علاقوں میں محفوظ سیاحت کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
شرکاء کو بتایا گیا کہ شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے ، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے بہاؤ کے خدشات موجود ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔
اجلاس میں مون سون کے دوران قومی سطح پر مؤثر رابطہ کاری، بروقت اطلاعات کے تبادلے اور فوری ہنگامی ردعمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر پیشگی منصوبہ بندی، بروقت اقدامات اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر این ڈی ایم اے نے مون سون کے دوران شہریوں کی جان و مال، اہم قومی انفراسٹرکچر اور مواصلاتی نظام کے تحفظ کے لیے مربوط قومی حکمت عملی پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ تمام متعلقہ اداروں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی۔


