امریکا–چین تجارتی رابطہ: اے پی ای سی سے پہلے کشیدگی کم کرنے کی آزمائش
شیئر کریں
امریکی اور چینی اعلیٰ اقتصادی حکام نے 7 نومبر کو ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس کی خبر 8 نومبر کو سامنے آئی۔ امریکی فریق نے چین سے گزشتہ تجارتی وعدوں پر “فوری اور مکمل” عمل کا مطالبہ کیا، جبکہ بیجنگ نے امریکی تجارتی پابندیوں اور محدود کرنے والے اقدامات پر شدید تحفظات ظاہر کیے۔ یہ رابطہ چین میں ہونے والے آئندہ اے پی ای سی اجلاس اور ممکنہ اعلیٰ سطحی ملاقات سے پہلے ہوا ہے۔
معاشی طور پر یہ محض سفارتی خبر نہیں۔ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان محصولات، برآمدی کنٹرول، اہم معدنیات، سیمی کنڈکٹرز اور سرمایہ کاری کی پابندیوں سے متعلق پالیسی عالمی رسد، مینوفیکچرنگ لاگت اور مالیاتی منڈیوں کے لیے بنیادی خطرہ ہے۔ اگر دونوں جانب سے عملی کشیدگی کم کرنے کا فریم ورک بنتا ہے تو عالمی تجارت، ایشیائی برآمدات اور صنعتی خام مال کی قیمتوں کو سہارا مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر بات چیت ناکام رہتی ہے تو نئی ٹیرف یا برآمدی پابندیاں سرمایہ کاروں کو دوبارہ دفاعی اثاثوں، ڈالر اور سونے کی طرف لے جا سکتی ہیں۔
پاکستان کے لیے اثر دو رخ رکھتا ہے۔ ایک طرف، چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی و سرمایہ کاری شراکت دار ہے؛ چینی پیداوار، مشینری، سولر آلات اور سی پیک سے وابستہ درآمدی منصوبوں کی لاگت چینی برآمدی پابندیوں یا عالمی سپلائی چین کی رکاوٹ سے متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف، اگر امریکی اور چینی محصولات بعض مارکیٹوں میں تجارتی رخ بدلتے ہیں تو پاکستان کی ٹیکسٹائل، چمڑا اور کھیلوں کی مصنوعات کے لیے محدود متبادل مواقع بن سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے برآمدی مسابقت، توانائی کی قابلِ پیش گوئی قیمت اور تیز کسٹمز کلیئرنس ضروری ہوں گے۔
قابل توجہ نکات: اے پی ای سی سے پہلے کسی مشترکہ بیان، چینی اہم معدنیات کی برآمدی پالیسی، امریکی ٹیکنالوجی کنٹرولز، اور ڈالر/چینی یوآن کی حرکت پر نظر رکھیں۔


