ایبولا کے خلاف دو نئی ویکسینز آزمائش میں: امید برقرار مگر نتیجہ ابھی باقی!
شیئر کریں
جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی موجودہ وبا کے دوران دو نئی ممکنہ ویکسینز کو طبی آزمائش میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ایک ویکسین آکسفورڈ یونیورسٹی اور سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے تیار کی ہے، جبکہ دوسری Moderna کی mRNA ویکسین ہے۔ دونوں کو اس مخصوص وائرس، بنڈی بوجیو وائرس، کے خلاف جانچا جائے گا۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ موجودہ وبا کا سبب بننے والی قسم کے لیے ویکسینز کو وبا کے دوران باقاعدہ آزمائش میں لانے کا یہ پہلا موقع بتایا جا رہا ہے۔
اس خبر کو “نئی ویکسین کامیاب ہو گئی” کہنا درست نہیں ہوگا۔ ابھی یہ امیدوار ویکسینز ہیں، یعنی ان کے بارے میں ابتدائی اور قبل از طبی شواہد موجود ہیں، مگر انسانی آبادی میں ان کی افادیت اور حفاظت کا فیصلہ آزمائش سے ہوگا۔ قومی منظوری کے بعد انہیں Tumaini نامی تحقیق میں شامل کیا جائے گا۔ اس آزمائش میں “رِنگ ویکسینیشن” کا طریقہ اپنایا جاتا ہے: تصدیق شدہ مریض کے قریبی رابطوں اور ان کے رابطوں کے حلقے کو شامل کر کے دیکھا جاتا ہے کہ ویکسین بیماری کے پھیلاؤ کو کس حد تک روک پاتی ہے۔
یہ طریقہ محض نظریاتی نہیں۔ مغربی افریقہ میں ایک دہائی پہلے ایبولا کی وبا کے دوران اسی طرز کی آزمائش نے Ervebo نامی ویکسین کی افادیت کے ثبوت فراہم کیے تھے، مگر وہ مختلف وائرس قسم، زیئر ایبولا وائرس، کے لیے تھی۔ وائرس کی مختلف اقسام کے خلاف ایک ہی ویکسین یکساں طور پر مؤثر ہو، یہ فرض نہیں کیا جا سکتا؛ اسی لیے بنڈی بوجیو کے لیے مخصوص شواہد بنانا ضروری ہے۔
تحقیق صرف ویکسین تک محدود نہیں۔ WHO کے تحت PARTNERS نامی آزمائش یہ دیکھ رہی ہے کہ مخصوص مونوکلونل اینٹی باڈی، remdesivir نامی اینٹی وائرل دوا، یا دونوں کا امتزاج مریضوں کی بقا بہتر بناتا ہے یا نہیں۔ ایک اور ممکنہ علاج maftivimab شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس مرحلے پر ان کو ثابت شدہ علاج قرار دینا قبل از وقت ہوگا، مگر یہ اس بات کی مثال ہے کہ وبا کے دوران علاج کی تحقیق کو جوابِ کارروائی سے جوڑا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں اس سے فوری ویکسین پروگرام تبدیل نہیں ہوتا، کیونکہ یہ مخصوص ایبولا وائرس اور کانگو کے پھیلاؤ سے متعلق آزمائش ہے۔ لیکن پاکستانی قارئین کے لیے اس میں بڑا سبق موجود ہے: وائرسوں کے خلاف تیاری صرف ہسپتال میں علاج سے نہیں بنتی۔ مضبوط لیبارٹریاں، بیماری کی جلد شناخت، تربیت یافتہ عملہ، شفاف معلومات، اخلاقی طبی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون اتنے ہی ضروری ہیں۔ نتائجِ علاج کے آئندہ چند ماہ اور ویکسین آزمائش کے ابتدائی 2027 میں متوقع ہونے کی بات کی گئی ہے؛ اس سے پہلے اس پیش رفت کو احتیاط کے ساتھ امید کہنا زیادہ درست ہے۔


