ہر چار میں سے ایک نوجوان پورا ہفتہ ورزش نہیں کرتا، خاموش مگر بڑھتا صحت کا خطرہ
شیئر کریں
عالمی ادارۂ صحت نے 4 نومبر کو جاری نئی عالمی رپورٹ میں بتایا کہ 11 سے 17 سال عمر کے تقریباً 24 کروڑ نوجوانوں نے گزشتہ ہفتے ایک دن بھی کم از کم 60 منٹ کی معتدل یا تیز جسمانی سرگرمی نہیں کی۔ یوں دنیا میں ہر چار میں سے لگ بھگ ایک نوجوان مکمل طور پر غیر فعال رہا۔ اوسطاً نوجوان ہفتے میں صرف 2.7 دن متحرک پائے گئے، جبکہ صرف 14 فیصد نے ساتوں دن مناسب جسمانی سرگرمی کی۔
یہ صرف کھیل کے میدان کی کمی یا “سستی” کا مسئلہ نہیں۔ رپورٹ 140 ممالک اور علاقوں کے 389 آبادیاتی سرویز، اور 32 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کے اعداد پر مبنی ہے۔ اس کے مطابق پندرہ برس میں نوجوانوں کی جسمانی سرگرمی میں عالمی سطح پر تقریباً کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔
لڑکیوں اور لڑکوں میں فرق بھی واضح ہے:
28 فیصد لڑکیوں نے ایک بھی فعال دن نہ ہونے کی اطلاع دی، جبکہ لڑکوں میں یہ تناسب 22 فیصد رہا۔ ہر ملک کی اپنی سماجی اور شہری صورتِ حال ہوتی ہے، اس لیے اس سے پاکستان کا عین قومی فیصد اخذ نہیں کیا جا سکتا؛ البتہ مسئلہ ہمارے اسکولوں، محلوں اور گھروں کے لیے بھی پوری طرح قابلِ توجہ ہے۔
کم حرکت مستقبل میں دل کی بیماری، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور بعض کینسروں کے خطرے سے جڑی ہوئی ہے۔ تاہم یہ خبر بچوں یا والدین کو خوف زدہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ماحول بدلنے کی دعوت ہے۔ محض یہ کہنا کہ “فون بند کرو اور ورزش کرو” اکثر ناکافی ہوتا ہے۔ اگر راستے غیر محفوظ ہوں، پارک کم ہوں، کھیل صرف مہنگے کلبوں تک محدود ہو یا لڑکیوں کے لیے کھیلنے کی جگہ نہ ہو تو انفرادی نصیحت کام نہیں کرتی۔
گھر میں آغاز چھوٹا اور حقیقت پسندانہ ہو سکتا ہے:
روزانہ کچھ فاصلے تک پیدل چلنا، سیڑھی استعمال کرنا، خاندان کے ساتھ شام کی واک، سائیکل یا رسی کودنا، اور اسکرین کے وقفوں میں مختصر حرکت۔ اسکولوں کے لیے کھیل کا باقاعدہ وقت، جسمانی تعلیم، محفوظ میدان اور غیر مسابقتی سرگرمیاں اہم ہیں تاکہ صرف اچھے کھلاڑی نہیں بلکہ ہر طالب علم شریک ہو۔ لڑکیوں کے لیے محفوظ، باوقار اور قابلِ رسائی کھیل کی جگہ بنیادی شرط ہے، کوئی ثانوی سہولت نہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ 60 منٹ کی سفارش مجموعی روزانہ حرکت کے لیے ہے؛ اسے ایک گھنٹے کی مسلسل سخت ورزش سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ تیز چہل قدمی، کھیل، سائیکلنگ اور روزمرہ کی سرگرمیاں مل کر اس ہدف میں حصہ ڈال سکتی ہیں۔ جس نوجوان کو سانس، دل، جوڑوں یا دوسری طبی دشواری ہو، اس کے لیے مناسب سرگرمی کا انتخاب ڈاکٹر یا تربیت یافتہ ماہر کے مشورے سے ہونا چاہیے۔


