میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
استعفے کا مطالبہ غیر آئینی ہے ، وزیراعظم عمران خان

استعفے کا مطالبہ غیر آئینی ہے ، وزیراعظم عمران خان

ویب ڈیسک
جمعه, ۸ نومبر ۲۰۱۹

شیئر کریں

اپوزیشن سے دھرنے کے معاملات پر مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کو وزیراعظم عمران خان نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں، استعفے کا مطالبہ غیر آئینی ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومتی ٹیم نے وزیراعظم عمران خان سے اسلام آباد دھرنے کے حوالے سے اہم ملاقات کی جس میں انھیں مذاکراتی کوششوں پر بریف کیا گیا۔ جبکہ چودھری پرویز الہی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتوں سے متعلق آگاہ کیا۔اس اہم ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور بابر اعوان کو قانونی اور آئینی مشاورت کے لیے بلایا گیا تھا۔ وزیر داخلہ نے حکومتی حکمت عملی اور انتظامی اقدامات سے آگاہ کیا۔ حکومتی ٹیم نے وزیراعظم کو بریف کیا کہ اپوزیشن کا احتجاج جمہوری حق ہے ، حکومت کو اس سے خطرہ نہیں، خطرہ ہوتا تو دھرنے والوں کو اسلام آباد نہ آنے دیا جاتا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے حکومتی کمیٹی کو مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ استعفے کا مطالبہ غیر آئینی ہے ، سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو اعجاز شاہ اور بابر اعوان کے ساتھ مزید مشاورت کی ہدایت کی۔اس کے علاوہ وزیراعظم کے زیر صدارت پارٹی ترجمانوں کا بھی اہم اجلاس ہوا جس میں موجودہ ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ پارٹی ترجمانوں نے بھی انھیں اپوزیشن کے دھرنے سے متعلق بریفنگ دی جبکہ کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے متعلق بات چیت کی گئی


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں