میر رضا کیس؛ جوڈیشل کمیشن کے تفتیشی افسر سے سخت سوالات
شیئر کریں
13 اگست کو تفتیش ملنے کے بعد کیا انہیں علم تھا کہ سابق تفتیشی افسر نے گواہان کے 161 کے بیانات ریکارڈ نہیں کیے تھے؟،کمیشن کااستفسار
161 کے بیانات میں اہم پہلوؤں سے متعلق سوالات نہ ہونے پر کمیشن کا اظہار تشویش، کرائم سین متاثر کرنے اور تفتیشی بے ضابطگیوں پر بھی سوالات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہوئے جہاں کمیشن نے مقتول کے 161 کے بیانات، تفتیش کے مختلف پہلوؤں، مشکوک افراد و گاڑیوں، سی سی ٹی وی فوٹیجز، کرائم سین اور پولیس کے تفتیشی طریقہ کار سے متعلق سخت سوالات کیے۔کمیشن نے استفسار کیا کہ 13 اگست کو تفتیش ملنے کے بعد کیا انہیں علم تھا کہ سابق تفتیشی افسر نے گواہان کے 161 کے بیانات ریکارڈ نہیں کیے تھے؟ کمیشن نے کہا کہ گواہان نے 161 کے بیانات کے بیشتر حصے تسلیم کرنے سے انکار کیا، جس پر سراج لاشاری نے کہا کہ پولیس گواہان کے بیانات ریکارڈ کرتی ہے، تاہم ایسا ممکن نہیں کہ بیان کا متن ہی تبدیل ہوجائے۔کمیشن نے کہا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے ریکارڈ کیے گئے مزید بیانات میں بھی گواہان کے سابقہ بیانات کی تصدیق موجود ہے، جبکہ گواہان کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے بیان میں کیا لکھا گیا ہے۔ سراج لاشاری نے کہا کہ ان کے ریکارڈ کیے گئے بیانات میں بھی گواہان نے وہی باتیں کیں جو پہلے بیان کی گئی تھیں۔ کمیشن نے سوال کیا کہ پولیس نے گواہان کے بیانات انہیں پڑھ کر بھی نہیں سنائے۔کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ بیانات میں رقم کے معاملے کے علاوہ کوئی اور سوالات نہیں کیے گئے۔ سراج لاشاری نے جواب دیا کہ انویسٹر کے بیانات ایسے ہی تھے، تاہم دیگر گواہان سے وقوعہ سے متعلق سوالات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش میں رقم کی ادائیگی کے پہلو کا جائزہ لیا گیا کہ آیا اس بنیاد پر واقعہ ممکن تھا یا نہیں۔کمیشن نے سوال کیا کہ کیا پولیس صرف خودکشی کے نظریے کے تحت تفتیش کررہی تھی؟ سراج لاشاری نے جواب دیا کہ پولیس قتل کی تفتیش کررہی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ احمد بھاردے اور علی شاز کے بیانات میں صرف رقم سے متعلق سوالات کیے گئے، کیا تفتیش میں کوئی اور وجہ یا سوال نہیں تھا جو پوچھا جانا چاہیے تھا؟ سراج نے کہا کہ تمام پہلوؤں پر سوالات کیے گئے، تاہم کمیشن نے کہا کہ بیانات سے ایسا معلوم نہیں ہوتا۔کمیشن نے علی شاز کے حوالے سے بھی تفتیشی افسر سے متعدد سوالات کیے۔ کمیشن نے پوچھا کہ علی شاز پر انہیں کوئی شک نہیں ہوا؟ ان کا بیرون ملک جانا اور ان کے بھائی کا کراچی آنا معمول کی بات لگی؟ جو شخص میر رضا سے صرف تین مرتبہ ملا، اسے مقتول کے معاملے میں اتنی فکر ہونا معمول کی بات تھی؟کمیشن نے نشاندہی کی کہ کیس میں دو مشکوک گاڑیاں سامنے آئیں اور ویسی ہی دو گاڑیاں علی شاز کے پاس بھی ہیں، تاہم یہ تمام باتیں 161 کے بیان میں نہیں پوچھی گئیں۔ کمیشن نے سوال کیا کہ کیا علی شاز پولیس کی نظر میں ریڈ فلیگ نہیں تھے؟سراج لاشاری نے بتایا کہ مقتول کے اہلخانہ کی جانب سے وائس نوٹ کے معاملے میں علی شاز کا نام سامنے آیا تھا، تاہم تحقیقات میں ان کا کوئی کنکشن نہیں ملا اور وقوعہ کے قریب علی شاز کی موجودگی کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔کمیشن نے بتایا کہ علی شاز کے پولیس افسر بھائی کے سی ڈی آر کے مطابق وہ فیروز آباد تھانے کے قریب موجود تھے، جس پر سراج لاشاری نے کہا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی ریکارڈ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کمیشن میں اے ایس پی شاہزیب کا نام سنا ہے۔کمیشن نے کہا کہ اگر ان پہلوؤں پر توجہ دی گئی ہوتی تو ان سے متعلق سوالات کیے جانے چاہئیں تھے۔ سراج لاشاری نے بتایا کہ علی شاز کی گاڑیوں میں ٹریکر غیر فعال تھے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آٹھ ماہ پرانے وائس نوٹ کی بنیاد پر ایک شخص پولیس کے پاس آیا اور پھر باکو چلا گیا، کیا یہ بات تفتیشی افسر کو عجیب نہیں لگی؟سراج لاشاری نے کہا کہ تفتیش ابھی جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر علی شاز سمیت دیگر افراد کو دوبارہ بلایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سیف سٹی کیمروں اور جیو فینسنگ سے بھی کوئی لنک نہیں ملا۔ ان کے بقول علی شاز اور میر رضا کے درمیان کوئی عناد یا تنازع نہیں تھا۔کمیشن نے سوال کیا کہ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ دونوں کے درمیان کوئی عناد نہیں تھا؟ سراج لاشاری نے جواب دیا کہ اگر ایسا ہوتا تو کسی کو بتایا جاتا۔کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا اے ایس پی ندا سے علی شاز اور اے ایس پی شاہزیب کے باہمی کنکشن کی تحقیقات کی گئیں؟ کیا ایک وائس نوٹ کی بنیاد پر قرضے کا بیانیہ بنائے جانے کی بھی تحقیقات کی گئیں؟ جبران ناصر نے بتایا کہ اے ایس پی ندا تاحال تفتیشی ٹیم کے ساتھ موجود ہیں۔کمیشن نے کہا کہ پولیس نے کمیشن کے ساتھ انا کا مسئلہ بنا رکھا ہے، جسے کمیشن اپنی سفارشات میں شامل کرے گا۔ سراج لاشاری نے بتایا کہ کیس کی تحقیقات میں آپریشن اور انویسٹی گیشن پولیس دونوں کام کرتے ہیں۔ زیادہ تر کیس آپریشن پولیس حل کرتی ہے جبکہ انویسٹی گیشن پولیس اسے قانونی شکل دیتی ہے۔کمیشن نے سوال کیا کہ کیا یہ طریقہ کار غیر قانونی نہیں؟ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ پھر تو پولیس رولز ہی ختم کردینے چاہئیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ اسے قانون کے مطابق معاملات کا جائزہ لینا ہے۔کمیشن نے کہا کہ اس کیس میں درجنوں پولیس افسران شامل ہوئے جس کے نتیجے میں کرائم سین متاثر ہوا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ کرائم سین یونٹ 15 منٹ میں پہنچ جاتی ہے، کیا آئی جی سندھ کا یہ بیان غلط ہے؟ کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ کرائم سین تباہ کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج نہیں ہونا چاہیے تھا؟سراج لاشاری نے کہا کہ ان کی تفتیش میں بے ضابطگی سامنے آئی ہے لیکن بدنیتی سامنے نہیں آئی۔ کمیشن نے سوال کیا کہ اگر بدنیتی نہیں تھی تو قانون کے مطابق کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟کمیشن نے اپنے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ وہاں کتنے کیمرے نصب تھے اور کیا تفتیشی افسر اس بات کی فہرست فراہم کرسکتے ہیں کہ کتنے کیمروں کی مکمل فوٹیج حاصل کرکے فرانزک کیلئے بھیجی گئی؟سراج لاشاری نے بتایا کہ ان سے پہلے تفتیشی ٹیم نے 60 مقامات کی فوٹیجز دیکھنے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔ جو متعلقہ فوٹیجز تھیں انہیں سیل کردیا گیا۔کمیشن نے کہا کہ مخصوص فوٹیجز کو بنیاد بنا کر تفتیش نہیں کی جاسکتی۔ کمیشن نے بتایا کہ ایس ایچ او عدیل افضال نے موبائل فون پر ویڈیو ریکارڈ کرکے بھیجی، ایسی فوٹیج کیسے قابل قبول ہوسکتی ہے؟ کمیشن نے کہا کہ یہ پہلو بھی تفتیش میں نہیں دیکھے گئے اور سوال کیا کہ یہ کوتاہیاں کیسے ہوئیں؟سراج لاشاری نے جواب دیا کہ کام سب نے کیا۔ کمیشن نے انکشاف کیا کہ گیسٹ ہاؤس کا ڈی وی آر ایس ایچ او عدیل افضال کی گاڑی کی ڈگی میں پڑا تھا۔ کمیشن نے کہا کہ یہ تمام باتیں کارروائی کے دوران سامنے آئی ہیں۔کمیشن نے کہا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی بھی اپنے ماتحت افسران کی نگرانی نہیں کرسکے۔ جبران ناصر نے کہا کہ پولیس نے اپنے افسران کے 161 کے بیانات بھی ریکارڈ نہیں کیے۔کمیشن نے بتایا کہ سابق تفتیشی افسر شبیر لغاری کے مطابق 33 میں سے 10 بیانات انہوں نے خود ریکارڈ کیے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ اگر کوئی افسر طریقہ کار پر عمل نہیں کرتا تو اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟کمیشن نے بتایا کہ آئی جی سندھ کو فوکل پرسن مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاکہ سندھ حکومت سے رابطہ رکھا جاسکے، تاہم ابھی تک فوکل پرسن مقرر نہیں کیا گیا۔جبران ناصر نے بتایا کہ ایس ایس پی علی رضا کا اس سلسلے میں فون آیا تھا، جبکہ ان کی جانب سے سی پی ایل سی کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا تھا۔ کمیشن نے واضح کیا کہ فوکل پرسن کی تقرری کی ہدایت کمیشن کی جانب سے کی گئی تھی۔کمیشن نے سوال کیا کہ میر رضا کے فون جن افراد کو ملے، کیا وہ تفتیشی افسر کو مشکوک نہیں لگے؟ کمیشن نے بتایا کہ اے ایس آئی فیصل نے فون کا میمو بنایا جو بظاہر کیس سے متعلق نہیں تھا۔سراج لاشاری نے بتایا کہ ایک لڑکے کو فون ملا تھا، اس نے اپنے بھائی کو بتایا اور جب اس نے فون میں سم لگائی تو فون ٹریس ہوگیا۔انہوں نے بتایا کہ ہائی پروفائل کیس میں آپریشن اور انویسٹی گیشن پولیس مل کر کام کرتی ہیں۔


