مودی کی بدعنوان حکومت
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
نام نہاد بڑی معیشت کادعویٰ کرنے والی نااہل مودی سرکار کو برطانوی جریدہ ”دی اکانومسٹ” نے آئینہ دکھا دیا، دی اکانومسٹ کے مطابق بھارت کی معیشت اتنی بڑی نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے۔
برطانوی جریدے کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر کی سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے، رواں سال فروری میں جاری ہونے والے نئے اعداد و شمار بھارتی معیشت کیلئے مایوس کن ثابت ہوئے، بھارت کا جی ڈی پی پہلے کے مقابلے میں 3.3 فیصد کم رہا۔معاشی ماہرین کے مطابق بھارت اب بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ایک رسک مارکیٹ بن چکا ہے کیونکہ بھارتی معیشت مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔مودی حکومت کی غیر مستقل معاشی پالیسیوں، بڑھتی بیروزگاری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی نے بھارتی معیشت کی رفتار کو شدید متاثر کیا ہے۔ بھارت کا اقتصادی قوت بننے کا خواب ناکام مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سیزمین بوس ہوچکا ہے۔
بدعنوانی کی دلدل میں دھنسے بھارت میں مودی حکومت زمینیں کرپٹ ساتھی اڈانی کو بانٹنے میں مصروف ہیں۔بھارتی اپوزیشن لیڈرراہول گاندھی نے مودی اڈانی گٹھ جوڑ اورکرپشن کے بڑے منصوبے کوبینقاب کر تے ہوئے کہا کہ بھارتی جزیرہ نکو بار پر اڈانی کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے جنگل کے160مربع کلومیٹررقبے کو بے دردی سے کاٹا جا رہاہے ،نکوبار جزیرے پر موجود لکڑی کی قیمت ہی لاکھوں کروڑوں میں ہے جس کی کھلے عام لوٹ مار جاری ہے ، یہ بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ اور سب سے بڑی لوٹ مار ہے۔بھارتی جریدہ اسکرول ان بھی مودی کی ملی بھگت سے کرپشن کے سب سے بڑے منصوبے کو آشکار کر چکا ہے، 81ہزار کروڑ روپے کے نکوبار پروجیکٹ میں نیا ٹاؤن،پاور پلانٹ دیگر منصوبے شامل ہیں۔
مودی سرکار کا نام نہاد معاشی ماڈل صرف من پسند اشخاص تک محدود ہے جبکہ بھارتی عوام استحصال کا شکار ہیں اڈانی گروپ کو عوامی وسائل لٹانا دراصل مودی حکومت میں کرپشن کو سرکاری سطح پر جائز بنانا ہے۔مودی سرکار نے اپنے قریبی دوست گوتم اڈانی کے گروپ کی کرپشن کا پردہ چاک کرنے والی ہنڈ نبرگ ریسرچ تنظیم کو بھی خاموش کرا دیا۔ مودی سرکار کے دور حکومت میں جہاں اقلیتوں کا جینا دوبھر ہو چکا ہے وہاں سچ کی آوازوں کو بھی دبانے کا سلسلہ جاری ہے۔ مودی کے قریبی دوست اڈانی کے کاروباری کرپشن کو عیاں کرنے پر ہنڈنبرگ ریسرچ تنظیم کو بند ہونے پر مجبور کردیا گیا۔
ہنڈنبرگ ریسرچ کے بانی نیٹ اینڈرسن نے بیان میں کہا کہ سچ کو سامنے لانے کی انہیں اور ان کی تنظیم کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ ہم نے بھارت میں دھوکا دہی، بدعنوانی اور کرپشن کیخلاف لڑائی لڑی۔ ہنڈنبرگ ریسرچ تنظیم نے اڈانی گروپ کی اسٹاک مارکیٹ میں دھاندلی کو بے نقاب کیا تھا۔ اس تحقیقات کے نتیجے میں اڈانی گروپ کی مارکیٹ ویلو میں 135 بلین ڈالر سے زائد کی کمی واقع ہوئی تھی۔مودی سرکار کو اپنے دوست اڈانی کا یہ نقصان برداشت نہ ہوسکا اور اس نے ہنڈنبرنگ ریسرچ تنظیم کیخلاف محاذ کھول دیا۔ مسلسل حکومتی دباؤ کے باعث بالآخر ہنڈنبرگ ریسرچ تنظیم کو انتہا پسند مودی کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ہنڈنبرگ ریسرچ کی رپورٹس پر سکیورٹی اینڈ ایکسچینج بورڈ نے اڈانی گروپ کیخلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ مودی کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے اڈانی گروپ کیخلاف کوئی بڑی کارروائی نہ ہوسکی۔رپورٹ کے مطابق اس سے قبل فروری 2023 ء میں مودی سرکار کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سامنے لانے پر بی بی سی کے دفاتر بھی بند کروائے گئے تھے۔ مودی سرکار کے کارنامے پوری دنیا میں بے نقاب ہوچکے ہیں۔ مودی کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو بند کرنا اسکی انتہاپسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
ہندوستان کافی عرصے سے دعوے کر رہا تھا کہ اس نے عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کر دیا ہے۔ مگر ” دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے ” کے مصداق بھارت کو اس ضمن میں بھی منہ کی کھانی پڑی۔ کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ گزشتہ سال ” بیجنگ ” میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں ”روس” ، ”ترکی ”،” سری لنکا،”نیپال” ، ملائشیا ”، ” انڈونیشیاء ” اور ” پاکستان” سمیت 29 ممالک کے سربراہان جبکہ 130 ریاستوں کے 1500 سے زائد وفود نے بھی شرکت کی۔ اسی ضمن میں ”انڈین ایکسپریس” ، ”دی ہندو ” ، ” این ڈی ٹی وی” اور ”ہندوستان ٹائمز ” سمیت بھارت کے کئی معروف انگریزی اور ہندی روزناموں نے مودی سرکار کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کسی لگی لپٹی کے بغیر جو کچھ کہا ہے ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
اس کے علاوہ بھارتی ایوانِ بالا ” راجیہ سبھا ” کے رکن ” مود تیواڑی ” نے بھی کہا ہے کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی ناقص ہونے کے سبب بیرونی ملکوں میں ہندوستان کی پوزیشن بہت خراب ہوئی ہے۔پہلے امریکہ اور اب آسٹریلیا نے غیر ملکی پروفیشنلز کو کام کرنے کا موقع فراہم کرنے والا ” 457 ویزا پروگرام ” منسوخ کردیا ہے جس کے سبب بیرونی ملکوں میں لاکھوں بھارتیوں کی نوکریاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ چین، نیپال، شری لنکا اور پاکستان سے بھارتی تعلقات کشیدہ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات بد تر سے بدترین کی جانب گامزن ہیں اور قابض دہلی سرکار حالات قابو کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
بھارتی عوام پوچھ رہے ہیں کہ مودی سرکار نے اپنی انتخابی مہم میں ہر سال دو کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا ، اس وعدے کا کیا بنا۔ مودی سرکار کبھی ” میک ان انڈیا ” ، ”ڈیجیٹل انڈیا” ، کبھی ”سٹارٹ اپ انڈیا” کے نام سے نت نئی اسکیموں کا اعلان کرتی رہی ، اس سے کیا فائدہ پہنچا۔ مقبوضہ کشمیر میں کب امن ہو گا اور بھارت سرکار کی ریاستی دہشتگردی کب ختم ہو گی۔ مودی نے وعدہ کیا تھا کہ تعلیم کے نظام کی از سرِ نو تشکیل کر کے اسے بہتر بنایا جائے گا ، نئی طرز سے تو کیا تشکیل ہوتی اس کی حالت پہلے سے بھی دگردوں ہو چکی ہے۔
٭٭٭


