سرائیکی صوبے کی پیپلز پارٹی حمایت مگر دیگر صوبوں پر سندھو دیش کی بات شروع ہو جاتی ہے، خواجہ آصف
شیئر کریں
خواجہ آصف بھی نئے انتظامی یونٹس پر بول اٹھے، پی پی پر تنقید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیردفاع خواجہ آصف نئے انتظامی یونٹس پر بول اٹھے،پی پی پی پر تنقید کی ہے ۔ ایکس پر بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ جب پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات ہوتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے یا اس ایشو پر نرم گوشہ ظاہر کرتی ہے اور جب چار کی جگہ متعدد صوبوں یا انتظامی یونٹوں کی بات ہوتی ہے تو سندھو دیش کی بات شروع ہو جاتی ہے ۔ میں پی پی پی کی اس دورخی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتاہوں ۔ کسی وقت آنے پہ تشریح کر دوں گا، ہم اول اور آخر پاکستانی ہیں ،اختیارات منتقلی کا ایک آئینی اصول 18ویں ترمیم کے ذریعے طے ہوا جس کا احترام نہیں کیا گیا۔ وقت اور حالات اس بات کے متقاضی ہیں ،اس پہ دیانت داری کے ساتھ عمل ہو۔ جمہوریت گراس روٹ لیول پہ پنپ سکے اس کے ثمرات سے عوام مستفید ہو۔ بات صرف اتنی ہے کہ موجودہ نظام کو متروک اختیارات کا ارتکاز نے کیا ہے۔ اس کو دیانت داری کے ساتھ ٹھیک کرنے کے ضرورت ہے۔ صوبے یا انتظامی یونٹ جو مرضی لیبل لگا لیں ۔ آپ کے پاس 36 ڈویژن ہیں ان کو استعمال کرلیں یا کوئی اور انتظامی جغرافیائی اسکیم وضع کرلیں ،اختیارات کا منتقل ہوناناگزیرہے۔


