میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، ماڈل کالونی میں غیر قانونی تعمیرات کا بازار گرم

سندھ بلڈنگ، ماڈل کالونی میں غیر قانونی تعمیرات کا بازار گرم

ویب ڈیسک
پیر, ۵ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

منظوری کے بغیر کھڑی عمارتیںبلیدی ،مافیا ملی بھگت نے نقاب، حکام کی خاموشی
شیٹ نمبر 4پلاٹ 76اور 19/1پر بغیر دستاویزات تعمیراتی بے راہ روی جاری

ضلع کورنگی میں قائم ماڈل کالونی کے مختلف علاقوں میں بغیر کسی نقشہ یا منظوری کے غیر قانونی تعمیرات تیزی سے پروان چڑھتی دکھائی دے رہی ہیں،جس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کی تعمیراتی مافیا سے ملی بھگت کے قوی شواہد سامنے آئے ہیں۔مقامی رہائشیوں کے مطابق، گزشتہ چند ماہ کے دوران کالونی کے مختلف بلاکس میں درجنوں غیر قانونی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں، جن میں سے اکثر کے پاس نہ تو تعمیراتی نقشہ جات موجود ہیں اور نہ ہی متعلقہ اداروں کی منظوری۔ جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ بلیدی اور ان کے ساتھی ان غیر قانونی تعمیرات سے مالی فائدہ اٹھا رہے ہیں اور شکایات کے باوجود کارروائی سے گریز کرتے ہیں۔اس وقت بھی شیٹ نمبر 4پلاٹ 76اور 19/1پر بغیر دستاویزات کے غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں ،ایک خوشگوار ماحول کے لیے مشہور ماڈل کالونی میں اب غیر منصوبہ بند تعمیرات نے ناصرف علاقے کا حسن متاثر کیا ہے بلکہ بنیادی ڈھانچے پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے ۔ بجلی، پانی اور گیس کی لائنیں غیر قانونی تعمیرات کے باعث مسلسل ٹوٹ رہی ہیں، جبکہ پارکنگ اور سڑکوں کی گنجائش شدید متاثر ہوئی ہے ۔شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ سندھ حکومت فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرے اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ بلیدی سمیت تمام ملوث افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرے ۔ ماڈل کالونی کی رہائشی ایسوسی ایشن نے وزیر بلدیات کو اس سنگین مسئلے سے آگاہ کرتے ہوئے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں