میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ میں موسلا دھار بارشیں، 8 افراد جاں بحق، تمام ادارے ہائی الرٹ

سندھ میں موسلا دھار بارشیں، 8 افراد جاں بحق، تمام ادارے ہائی الرٹ

جرات ڈیسک
اتوار, ۲ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

مون سون بارشوں کے پیش نظر مراد علی شاہ کی پی ڈی ایم اے میں ہنگامی اجلاس کی صدارت

متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف اور نکاسی آب تیز کرنے کی ہدایت، وزیراعلیٰ کو بریفنگ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں جاری مون سون بارشوں اور ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے دفتر میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام ڈپٹی کمشنرز، پی ڈی ایم اے، محکمہ بلدیات اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو صوبے بھر میں بارشوں، ریسکیو، ریلیف، نکاسی آب اور امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

سید مراد علی شاہ نے بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے، نشیبی علاقوں سے فوری پانی نکالنے اور تمام افسران کو اپنے اپنے اضلاع میں موجود رہ کر صورتحال کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے غیر حاضر ٹاؤن آفیسر عمرکوٹ کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم بھی دیا اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کے ساتھ نقصانات کا جامع تخمینہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔

مشیر وزیراعلیٰ برائے بحالی گیانچند ایسرانی نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عمرکوٹ میں سب سے زیادہ 169 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ کنری میں 149 ملی میٹر، کلوئی میں 140 ملی میٹر، ڈپلو میں 135 ملی میٹر، کنگری غلام محمد میں 133 ملی میٹر، لطیف آباد میں 114 ملی میٹر، مٹھی میں 106 ملی میٹر، ڈاہلی میں 104 ملی میٹر، حیدرآباد رورل میں 93 ملی میٹر اور حیدرآباد شہر میں 89 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز کے دوران حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویڑنز میں مزید 20 سے 60 ملی میٹر بارش کا امکان ہے، جبکہ کراچی میں ہلکی بارش یا بوندا باندی متوقع ہے۔ اجلاس میں پیش کی گئی پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں کے باعث سندھ بھر میں 8 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے ہیں۔

تھرپارکر میں 6 افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں تین افراد آسمانی بجلی گرنے، ایک ڈوبنے اور دو گڑھوں میں گرنے کے باعث جاں بحق ہوئے، جبکہ وہاں 6 افراد زخمی بھی ہوئے۔ عمرکوٹ میں ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ بدین میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شہری جاں بحق ہوگیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں بدین کے علاقے سیرانی میں میرواہ چینل میں پڑنے والے دو شگافوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے بتایا کہ شگافوں کے باعث تقریباً 200 گھروں میں پانی داخل ہوگیا تھا، تاہم محکمہ آبپاشی نے ہنگامی بنیادوں پر دونوں شگاف پْر کر دیے ہیں اور صورتحال قابو میں ہے۔

وزیراعلیٰ نے نہروں، پشتوں اور آبی گزرگاہوں کی مسلسل نگرانی جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔کراچی میں ممکنہ بارشوں سے نمٹنے کے لیے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اجلاس کو بتایا کہ 10 ہیوی ڈیوٹی ڈی واٹرنگ پمپس نیپا چورنگی، ڈرگ روڈ انڈر پاس، قائدآباد، فلاح ناز، نیٹی جیٹی، کے پی ٹی انڈر پاس، سب میرین انڈر پاس، سندھ اسمبلی، ناظم آباد انڈر پاس اور فور کے چورنگی سمیت اہم مقامات پر تعینات کر دیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ شہر میں نکاسی آب کا پورا نظام ہر وقت فعال رکھا جائے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ حیدرآباد، عمرکوٹ، میرپورخاص، تھرپارکر اور ٹنڈو محمد خان میں اضافی ڈی واٹرنگ پمپس فراہم کیے جائیں گے تاکہ بارش کے پانی کی بروقت نکاسی ممکن بنائی جا سکے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ مکمل طور پر متحرک رہیں، روزانہ کی بنیاد پر صورتحال سے آگاہ کریں اور بارشوں کے دوران عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ شہریوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی اور جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں