میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عوام کے ٹیکس پر چلنے والے ادارے کہتے ہیں ہم ریاست ہیں، علیمہ خانم

عوام کے ٹیکس پر چلنے والے ادارے کہتے ہیں ہم ریاست ہیں، علیمہ خانم

جرات ڈیسک
اتوار, ۲ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈی جی آئی ایس پی آر بتا رہے تھے جو ریاست کیخلاف کھڑا ہو وہ غدار ہوگا، میں انہیں بتا دیتی ہوں ریاست تنخواہ دار ادارے نہیں

ریاست وہ 24 کروڑ عوام ہیں جو اپنی جیب سے ٹیکس دے کر یہ ادارے چلا رہے ہیں، کوہاٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں سے خطاب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ اب نہ کسی نے گولیاں کھانی ہیں اور نہ ہی کسی نے گولیاں مارنی ہیں کیونکہ سپاہی بھی ہمارے اپنے بچے ہیں اور فوجیوں کے بچے بھی ہمارے ہی بچے ہیں، شہادتیں عوام اور سپاہیوں دونوں کی ہو رہی ہیں، اس لیے تصادم کے بجائے اتحاد اور امن کی ضرورت ہے۔

کوہاٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر بتا رہے تھے جو ریاست کیخلاف کھڑا ہو وہ غدار ہوگا، عوام کے ٹیکس پر چلنے والے ادارے کہتے ہیں کہ ہم ریاست ہیں، میں انہیں بتا دیتی ہوں کہ ریاست تنخواہ دار ادارے نہیں، ریاست وہ 24 کروڑ عوام ہیں جو اپنی جیب سے ٹیکس دے کر یہ ادارے چلا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ انہیں بلڈ پریشر کا مسئلہ ہے، عمران خان کو پہلے ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا، عمران خان کا فوری طور پر ہسپتال میں مکمل طبی معائنہ کرایا جائے اور مناسب علاج فراہم کیا جائے، عمران خان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا کیوں آیا اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ عدالتی احکامات کے مطابق ہر ہفتے 18 افراد کو عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی جائے، لیکن ملاقاتیں بند کرکے انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، ملاقاتوں کی بحالی اور قیدِ تنہائی کا خاتمہ ضروری ہے،

تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ عمران خان کے مقدمات جلد سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں تاکہ انہیں انصاف مل سکے، انصاف صرف عدالتوں سے نہیں بلکہ عوامی جدوجہد سے بھی حاصل ہوگا، اس لیے کارکنوں کو اپنے حقوق کے لیے پرامن انداز میں آواز بلند کرنا ہوگی۔

علیمہ خانم کہتی ہیں کہ اگر عوام کے حقوق ہیں تو پاکستان کے لیے ان کے فرائض بھی ہیں، ریاست عوام کا نام ہے، ریاست صرف اداروں کو نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ادارے عوام کے ٹیکس سے چلتے ہیں، ملک کے مختلف علاقوں کے عوام کو غدار یا دہشت گرد قرار دینا مناسب طرزِ عمل نہیں،

کارکن اللہ پر مضبوط ایمان رکھیں اور متحد رہیں، عمران خان اللہ پر کامل یقین رکھتے ہیں اور وہ کسی فرد سے نہیں بلکہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں، اتحاد ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا خاتمہ عمران خان کی رہائی سے ممکن ہے، عمران خان کے دورِ حکومت میں معیشت بہتر تھی، جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد تھی اور کورونا وبا کے باوجود ملک کو مؤثر انداز میں چلایا گیا، تاہم بعد میں ایک سازش کے تحت ان کی حکومت ختم کی گئی، جس کے بعد ملک کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں