سندھ بلڈنگ ،بہادر آباد میں ضابطوں کو پامال کرتی بلند و بالا عمارتیں
شیئر کریں
آصف شیخ، امتیاز شیخ کی مبینہ ملی بھگت سے آبادی خطرات سے دوچار
بلاک 3پلاٹ 105پر من مانی جاری تعمیر سے خطیر رقوم کی بندر بانٹ
ضلع شرقی کے علاقے بہادر آباد میں شہری بلدیاتی قوانین اور تعمیراتی ضوابط کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر بلند عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جس سے نہ صرف شہری بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بڑھ رہا ہے بلکہ زلزلے اور آتشزدگی جیسے بڑے حادثات کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے ۔مقامی رہائشیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے مطابق،علاقے میں نہ صرف بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے طے شدہ فلور ایریا ریٹیو (ایف اے آر) اور اونچائی کے ضوابط کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ، بلکہ اکثر عمارتیں تنگ گلیوں میں، پارکنگ اور فرار کے راستوں کے بغیر تعمیر کی جا رہی ہیں۔ بجلی اور گیس کے غیرمعیاری نیٹ ورکس ان عمارتوں میں آتشزدگی کے خطرے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔مقامی انتظامیہ اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے معطل اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ اور اس کے دست ِراست بلڈنگ انسپکٹر امتیاز شیخ پر نظرانداز اور ممکنہ طور پر خطیر رقوم بٹورنے کے بعد ملی بھگت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کئی عمارتوں پر جزوی یا مکمل پابندی کے احکامات موجود ہیں، مگر تعمیراتی کام بلا روک ٹوک جاری ہے ۔ اس مسئلے پر اخبارات میں بارہا کی جانے والی نشاندہی کے باوجود کوئی ٹھوس کارروائی ہوتی دکھائی نہیں دیتی ۔شہری منصوبہ بندی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ماہرین اس صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ عمارتیں زلزلے کے لیے انتہائی غیرمحفوظ ہیں، کیونکہ ان کی بنیادیں کمزور اور ڈیزائن غیرمعیاری ہے ۔ تنگ راستوں کی وجہ سے کسی بھی حادثے کی صورت میں ایمبولنس اور فائر بریگیڈ گاڑیوں کا رسائی ممکن نہیں رہے گی۔پانی اور نکاسی آب کا موجودہ نظام اضافی آبادی کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکے گا،جس سے صفائی کے بحران میں اضافہ ہوگا۔زمینی حقائق اور جرأت سروے کے دوران حاصل کی گئی تصویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بہادر آباد نمبر 3پلاٹ 105پر من مانی تعمیر خطیر رقوم کی بندر بانٹ کی جارہی ہے ۔ جس پر علاقے کے رہائشی احتجاج اور فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ان کا موقف ہے کہ یہ غیرقانونی تعمیرات نہ صرف ان کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ ان کی جان و مال کو بھی دائمی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔شہری حقوق کی تنظیموں اور مقامی رہائشیوں نے سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ سمیت اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے ، ان کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف نئی غیرقانونی تعمیرات پر پابندی لگائی جائے ، بلکہ موجودہ خطرناک عمارتوں کی شناخت کر کے انہیں نشان زد کیا جائے یا انہیں محفوظ بنانے کے لیے سختی سے ہدایات جاری کی جائیں۔


