میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایران کے خاموش ہتھیار

ایران کے خاموش ہتھیار

ویب ڈیسک
پیر, ۱ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے

ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق ( 4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات عالمی قوانین اور جنگ بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ تہران نے ان اقدامات کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری امریکہ پرعائد کرنے کا اعلان بھی کیا اور کہا ہے کہ ایران اپنی خود مختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ امریکی فوج نے 8اپریل 2026کی اعلانیہ جنگ بندی کے بعد بھی اپنی غیر قانونی اور بلاجواز کارروائیاں جاری رکھیں۔ ایران نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی جارحانہ اقدام کو بلا جواب نہیں چھوڑے گا اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بھرپور اقدامات کرے گا۔ واضح رہے کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان کی ثالثی میں سفارتی عمل جاری ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں سے امریکی قیادت کے بد نیتی پر مبنی عزائم نہ صرف ایران بلکہ خطے کے عوام اور عالمی برادری کے سامنے بھی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ ایران کا امریکہ کے بارے میں گہرا عدم اعتماد اس کے سابقہ طرز عمل کے تناظر میں منطقی اور حقیقت پسندانہ ہے اور یہ کہ ایرانی موقف ،میدان جنگ ،عوامی سطح اور سفارتی سطح تینوں محاذوں پر اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے ۔جبکہ دوسری طرف اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان اور وادی بقاع کے شہروں اور دیہاتوں میں فضائی حملے کیے ۔اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے فوج کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے تاکہ حزب اللہ کو کچل دیا جائے جبکہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں تین فوجی بیرکوں کو اورایک فوجی مقام پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کیے گئے ہیں ۔
یاد رہے کہ اسرائیل تین مرتبہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر حملے کر چکا ہے ۔اسرائیل کی پوری کوشش ہے کہ ایران امریکہ جنگ جاری رہے تاکہ وہ غزہ کی طرح لبنان کی زمین کو بھی آہستہ آہستہ ہتھیاتا رہے تاکہ اس کا گریٹر اسرائیل کا خواب پورا ہو جائے۔ صدر ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات پر تنقید کرنے والے خواہ وہ ڈیموکریٹ ہو یا ریپبلکن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں احمق قرار دیا اور کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو شاندار اور بامعنی ہوگا یا پھر سرے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ ایران جنگ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاپولرٹی امریکی تاریخ کی کم ترین سطح پر 30 فیصدتک پہنچ گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مڈ ٹرم الیکشن جیتنا ممکن نہیں ہوگا۔ دوسری طرف ایران میں سخت گیر سیاسی حلقے تیزی سے آبنائے ہرمز کی بندش کو نہ صرف توانائی کی ترسیل میں ایک رکاوٹ کے طور پر پیش کر رہے ہیں بلکہ اس تنگ آبی گزرگاہ کو معاشی انٹرنیٹ ٹریفک کے لیے ایک اسٹریٹیجک راستے کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کا نیا ذریعہ آبنائے ہرمزکے پانیوں کے نیچے بین الاقوامی ڈیٹا کیبلز کی صورت میں پوشیدہ ہے۔ بحث ایک ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے جب آبنائے ہرمز کے اطراف حالیہ فوجی جھڑپوں کے بعد ایران، امریکہ اور خلیجی ریاستوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اس نقطہ نظر کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیر زمین کیبلز پر سیکیورٹی اور باضابطہ ریگولیٹری نگرانی نافذ کر سکتا ہے یا پھر ان کے گزرنے پر فیس بھی عائد کر سکتا ہے۔ پاسداران انقلاب سے منسلک سمجھی جانے والی فارس نیوز ایجنسی نے 8مئی کو ایک ایسے سائنسی شعبے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں سمندر کے نیچے پیچھے انٹرنیٹ کیبلز کو بطور ہتھیار اور دباؤ کے ذریعے استعمال کرنے کا تصور پیش کیا۔ یہ کیبلز یورپ مشرقی وسطیٰ اور ایشیا کے درمیان عالمی مواصلات اور مالیاتی ڈیٹا منتقل کرتی ہیں۔ صرف ٹی جی این گلف ہی عمان متحدہ عرب امارات قطر بحرین اور سعودی عرب کو وسیع عالمی مواصلاتی نیٹ ورک سے جوڑتا ہے۔ اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ میٹا گوگل اور مائکرو سافٹ جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ان کیبلز کو پہلے سے کہیں زیادہ استعمال کر رہی ہیں ۔اس کے مطابق سافٹ جیسی مالیاتی سسٹمز بھی اسی نیٹ ورک پر انحصارکرتے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر تیل 20ویں صدی کا ایندھن تھا تو ڈیٹا 21ویں صدی کا ایندھن ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کو اب دونوں راستوں پر جغرافیائی برتری حاصل ہے۔ پاسداران انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے اتحادیوں نے بھی اسی طرح کا موقف اختیار کیا ہے اور زیر سمندر کیبلز کو ایران کا خاموش ہتھیار قرار دیا ہے جو سینٹکام اور اس کے پارٹنرز کو مفلوج کر سکتا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے بار بار متنبہ کیا گیا ہے کہ تہران خطے کی سیکیورٹی ڈاکٹرئن کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس نے خلیجی ریاستوں پر امریکی فوجی کارروائیوں میں سہولت کاری کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اس ملحقہ آبی گزرگاہوں میں زیر سمندر ڈیٹا ترسیل کی کیبل سے متعلق کوئی بھی سرگرمی بشمول راستے کے ڈیزائن تنصیب مرمت یا ان کا رخ تبدیل کرنا ایران کی حکومت سے پیشگی اجازت کے بعد انجام دے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کی تقریبا 99فیصد بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک زیر سمندر فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے کام کرتی ہیں۔ بین الاقوامی تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ زیر سمندر کیبل نیٹ ورک دنیا بھر میں روزانہ کھربوں ڈالر کی مالی لین دین کی منتقلی کو ممکن بناتا ہے، اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ان نیٹ ورکس میں خلل چند دنوں کے اندر کھربوں ڈالرز کے معاشی نقصان کا سبب بن سکتا ہے اور اسی وجہ سے یہ معاملہ محض ایک تکنیکی مسئلہ سے بڑھ کر قومی سلامتی اور جغرافیائی سیاسی اثر ورسوخ کا مسئلہ بن گیا ہے۔ ایران کے سخت گیر اور حکومت کے قریب سمجھے جانے والے حلقوں نے واضح طور پرکیبللز کو کاٹنے یا ضبط کا مطالبہ نہیں کیا ۔ان کی بنیادی توجہ ٹول وصولی ڈیجیٹل حکمرانی اور ضوابط کے نفاذ جیسے تصورات پر مرکوز رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کا ایک حصہ ایرانی علاقائی پانیوں میں سے جبکہ دوسرا حصہ عمان کے زیر کنٹرول ہے اور اس لیے تہران سمندر کی تہ کے اس حصے سے گزرنے والے بنیادی انفراسٹرکچر کو خود مختاری اور قانونی کنٹرول استعمال کر سکتا ہے۔ ان کیبلز کو استعمال کرنے والی غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایران ضوابط کے تحت کام کرنا ہوگا۔
پاسدارن انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا اداروں نے بڑی حد تک اقوام متحدہ کے کنونشن برائے سمندری قانون کی ایرانی تشریح پرانحصار کیا ہے ۔یہ کہتے ہوئے کہ آبنائے ہرمزکے سب سے تنگ حصے تقریبا مکمل طور پر ایران اورعمان کے علاقائی پانیوں کے اندر واقع ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں دباؤ ڈالنے کے نئے طریقے متعارف کرا رہا ہے اور بارہا واشنگٹن پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ آبنائے ہرمزکے قریب ناکہ بندی مسلط کر رہا ہے ۔ایران کے حالیہ سیاسی بیانیے میں بحری خطرات کو معاشی سائبر اور ٹیکنالوجیکل پہلوؤں کے ساتھ بڑھتے ہوئے انداز میں جوڑا جا رہا ہے۔ سخت گیر حلقوں نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے خلاف بیانات بھی تیز کر دیے ہیں اور ان پر امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کا ساتھ دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ 8مئی کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام پوسٹ کرتے ہوئے لکھا اگر تم شیر کے نوکیلے دانت نمایاں دیکھو تو کبھی یہ نہ سمجھو کہ شیر مسکرا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز پر ہونے والی بحث میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچرکو شامل کر کے ایران کے سخت گیر حلقے بظاہر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ایران مستقبل کی کشیدگی کو سائبر اسپیس اور عالمی مواصلاتی نیٹ ورک تک پھیلانے کے لیے تیار ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ ایران مستقبل میں خاموش ہتھیار استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں