میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اپوزیشن کو سینیٹ میں شکست ،حکومتی امیدوار صادق سنجرانی، مرزا آفریدی کامیاب

اپوزیشن کو سینیٹ میں شکست ،حکومتی امیدوار صادق سنجرانی، مرزا آفریدی کامیاب

ویب ڈیسک
هفته, ۱۳ مارچ ۲۰۲۱

شیئر کریں

چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں حکومتی امیدواروں نے اپوزیشن امیدواروں کو شکست دے دی۔حکومت کے نامزد کردہ صادق سنجرانی ایک بار پھر چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے جبکہ اپوزیشن امیدوار یوسف رضا گیلانی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں مرزا محمد آفریدی نے کامیابی حاصل کی جبکہ مولانا عبدالغفور حیدری کو شکست ہوئی۔سینیٹ کا اجلاس مظفر حسین شاہ کی سربراہی میں ہوا جس میں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کی گئی اور اس ضمن میں جے یو آئی کے رہنما اور پی ڈی ایم کی طرف سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار عبدالغفور حیدری نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔ارکان کو حرف تہجی کے اعتبار سے ووٹنگ کے لیے بلایا گیا۔چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے 98 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا جبکہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق خان نے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا جس کے بعد ان کا 5 بجے تک انتظار کیا گیا۔ووٹنگ کے عمل کے دوران جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کا نام دو مرتبہ پکارا گیا لیکن وہ ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں آئے۔ووٹنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد گنتی ہوئی اور پھر پریذائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے نتائج کا اعلان کیا۔نتائج کے مطابق چیئرمین سینیٹ کیا نتخاب میں صادق سنجرانی کو 48 اور یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے جبکہ 8 ووٹ مسترد ہوئے۔ 7 ووٹرز نے یوسف رضا گیلانی کے نام کے اوپر مہر لگائی جس کی وجہ سے یہ ووٹ مسترد ہوئے جبکہ ایک ووٹر نے دونوں امیدواروں کے آگے مہر لگائی۔چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے بعد صادق سنجرانی نے عہدے کا حلف اٹھالیا۔چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے بعد صادق سنجرانی نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدے کیلئے انتخابی عمل شروع کرایا۔ڈپٹی چیئرمین شپ کیلئے حکومت کی جانب سے مرزا محمد آفریدی اور اپوزیشن کی جانب سے عبدالغفور حیدری کے درمیان مقابلہ تھا۔پولنگ کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے نتائج کا اعلان کیا جس کے مطابق حکومتی امیدوار مرزا محمد آفریدی نے 54 اور پی ڈی ایم کے امیدوار مولانا عبدالغفور حیدری نے 44 ووٹ حاصل کیے۔یوں اکثریتی ووٹ حاصل کرنے کی بنا پر مرزا محمد آفریدی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے اور صادق سنجرانی نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔اس سے قبل سینیٹ میں چیئرمین کا عہدہ حکومتی حمایت یافتہ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا کے پاس تھا۔اجلاس کے آغاز پر پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے اراکین کو ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار بتایا اور غلطی کی صورت میں ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے سیکرٹری سینیٹ کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ موبائل فون، کیمرہ اور کوئی بھی الیکٹرانک ڈیوائس کے ساتھ پولنگ بوتھ میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا گیا۔اپوزیشن اتحاد کے پاس 51 ارکان کی اکثریت جب کہ حکومتی اتحاد کے پاس 47 اراکین کی حمایت تھی اور جماعت اسلامی نے کسی کو بھی ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا تھا۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں