سندھ ، سینیٹ انتخابات پیپلز پارٹی ،پی ٹی آئی، ایم کیو ایم،جی ڈی اے نے حکمت عملی طے کرلی
شیئر کریں
سندھ میں پیپلز پارٹی ،پی ٹی آئی، ایم کیو ایم،جی ڈی اے نے حکمت عملی طے کرلی۔پیپلز پارٹی کو 7، پی ٹی آئی کو 2، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کو ایک ایک نشست ملنے کا امکان ہے،سیاسی پارٹیزکو اپنے ایم پی ایز کے اعداد و شمار کے تحت اپنے حصے کی سیٹیں مل سکتی ہیں۔ جرأت کوباخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سینیٹ انتخابات سے 2 ماہ قبل ہارس ٹریڈنگ کا شور ایم پی ایز اور ایم این ایز کی خرید و فرخت کے خدشے کے باعث کیا ، وزیراعظم نے جلسوں میں الزام بھی اسی وجہ سے عائد کیے، خیبر پختونخوا میں ایم پی ایز کے سامنے نوٹوں کی گڈیاں سامنے موجود ہونے کی وڈیوز منظرعام پر لانا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، سندھ سمیت کسی بھی صوبے یا اسلام آباد سے اگر کسی پارٹی نے اپنی ارکان سے زیادہ سیٹیں حاصل کی تو اس کی ہارس ٹریڈنگ ظاہر ہوجائے گی، مقتدر حلقوں کے اشارے پر پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے ارکان اپنے پارٹی امیدواروں کو ہی ووٹ دینگے، اپنی نشستیں حاصل کرنے کے فارمولے کے تحت وفاق میں حکمران جماعت پی ٹی آئی نے اپنی سیٹوں کے حساب سے امیدوار نامزد کیے، پی ٹی آئی ایم پی ایز کریم بخش گبول، شہریار شر اور اسلم ابڑو کے علاوہ بھی کچھ ارکان ناراض ہیں، جبکہ حکمراں جماعت پیپلز پارٹی میں بھی کچھ ایم پی ایز ناراض ہیںاس لیے دونوں پارٹیوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ایم کیو ایم ممبران دو دن سے اسمبلی سے غیر حاضر ہوتے ہیں ۔ سندھ اسمبلی میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ کے خدشے کے باعث مقتدر حلقوں کی کوشش ہے کہ تمام پارٹیز کے ایم پی ایز اپنی امیدواروںکو ہی ووٹ دیں۔


