کشمیر یوں کی جدوجہد کو سلام
شیئر کریں
اکتوبر 1947ءکو کشمیر کی پہلی آزاد ریاست قائم ہوئی تو اعلان ہوا ، مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت ساری ریاست سے برطرف کر کے نئی حکومت کو انتظام و انصرام سونپا جا رہا ہے۔ 25اکتوبر کو مسلم کانفرنس نے سرینگر میں عظیم الشان جلوس نکالا جو پاکستان سے الحاق کے نعرے لگاتا تاریخی جامع مسجد کے پاس اختتام پذیر ہوا۔ بھارت اس ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوا تھا تو ساتھ ہی ساتھ وہ کشمیری مجاہدین اور قبائلی لشکر بھی سرینگر کی جانب بڑھتا دیکھ رہا تھا ،ادھر ہری سنگھ نے 26اکتوبر کو سرینگر سے بھاگ کر دلی پناہ لی۔یوںبھارت نے 27اکتوبر کو یہ کہہ کر سرینگر میں فوج اتار دی کہ اسے مہاراجہ کشمیرنے اس کی دعوت دی ہے اور فریقین میں الحاق کی دستاویز بھی طے ہو چکی ہے۔ طرفہ تماشا یہ بھی ہے کہ 70 سال بیتے لیکن بھارت آج تک الحاق کشمیر کی وہ دستاویز دنیا کو دکھا نہیں سکا اور اسلامیان کشمیر پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ گزشتہ 70سال میں کشمیری شہداءکی تعداد 6لاکھ تک جا پہنچی ہے لیکن کشمیری ہیں کہ سروں کی فصل روز کٹواتے اور بھارت کو رسوا کرتے ہی جاتے ہیں۔انصاف سے عاری دنیا دیکھ لے اور بار بار دیکھ لے کہ کشمیریوں کے سر کبھی جھکنے والے نہیں۔ہاں!بھارت بھی یہ فیصلہ ضرور کر لے کہ70سال سے ناقابل شکست کشمیریوں کے مقابل اس کے بازوﺅں میں اور کتنا دم ہے۔
علی عمران شاہین


