میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جامعہ کراچی کے ملازمین کا دورانِ ڈیوٹی رکشے چلانے کا انکشاف، رجسٹرار کا سخت نوٹس

جامعہ کراچی کے ملازمین کا دورانِ ڈیوٹی رکشے چلانے کا انکشاف، رجسٹرار کا سخت نوٹس

جرات ڈیسک
جمعرات, ۵ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

کیمپس میں رکشوں کو تجارتی سرگرمی کے طور پر استعمال کرنے والے ملازمین کو فوری طور پر یہ عمل بند کرنے کی ہدایت؛ خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی ہوگی

 

جامعہ کراچی کے بعض ملازمین کی جانب سے دفتری اوقات کے دوران اپنی سرکاری ذمہ داریاں انجام دینے کے بجائے کیمپس میں آٹو رکشے چلانے اور انہیں کاروباری سرگرمی کے طور پر استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر رجسٹرار ڈاکٹر عمران احمد نے نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس عمل میں کئی درجن ملازمین ملوث ہیں۔ رجسٹرار ڈاکٹر عمران احمد، جو گزشتہ وائس چانسلر کے دور سے اس عہدے پر تعینات ہیں، نے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی کے دور میں اس معاملے پر کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ بات نہایت تشویش کے ساتھ مشاہدے میں آئی ہے کہ جامعہ کراچی کے مختلف ملازمین دفتری اوقات کے دوران کیمپس کے احاطے میں رکشے چلاتے اور انہیں تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے ان کی سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی متاثر ہوتی ہے، ادارہ جاتی کارکردگی میں کمی آتی ہے اور یہ بدانتظامی و سروس ڈسپلن کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

نوٹیفکیشن میں ایسے تمام ملازمین کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دفتری اوقات کے دوران رکشے چلانے یا انہیں کاروباری سرگرمی کے طور پر استعمال کرنے کا عمل فوری طور پر بند کردیں اور اپنے تمام دفتری اوقات تفویض کردہ سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے مختص کریں۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے یا خلاف ورزی جاری رکھنے کی صورت میں معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیا جائے گا اور متعلقہ ملازمین کے خلاف جامعہ کے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ انجمنِ اساتذہ جامعہ کراچی کے حالیہ سالانہ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی بھی اس صورتِ حال کا ذکر کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دفتری اوقات میں رکشے چلانے والے ملازمین کو متعلقہ شعبوں کے سربراہوں کی جانب سے این او سی جاری کی گئی ہے اور وہ اس اجازت نامے کے عوض ماہانہ 6 ہزار روپے جمع کراتے ہیں۔وائس چانسلر نے مزید بتایا تھا کہ جامعہ کے کئی درجن مالی یونیورسٹی میں اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے بجائے بعض افسران یا اساتذہ کے گھروں پر کام کررہے ہیں، تاہم ایسے ملازمین کو اب واپس یونیورسٹی میں ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں