میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ میں میڈیکل داخلوں کے لیے انٹرمیڈیٹ نمبروں میں ہیر پھیر کا بڑا اسکینڈل منکشف

سندھ میں میڈیکل داخلوں کے لیے انٹرمیڈیٹ نمبروں میں ہیر پھیر کا بڑا اسکینڈل منکشف

جرات ڈیسک
جمعرات, ۵ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

دو سرکاری میڈیکل جامعات نے 53 مشکوک مارکس شیٹس کی نشاندہی کردی؛ بعض امیدواروں کے نمبروں میں اسکروٹنی کے نام پر 50 سے 100 تک اضافے کا انکشاف

 

سندھ میں ایم بی بی ایس کے داخلوں کے لیے انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل کے امتحانی نمبروں میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ردوبدل کا اسکینڈل سامنے آگیا ہے۔ صوبے کی دو بڑی سرکاری میڈیکل جامعات نے داخلوں کے لیے جمع کرائی گئی مجموعی طور پر 53 مشکوک مارکس شیٹس کی نشاندہی کی ہے، جن میں درج نمبروں اور متعلقہ تعلیمی بورڈ کے سرکاری گزٹ میں موجود نتائج کے درمیان نمایاں تضادات پائے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو نے 43 جبکہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کراچی نے سات مشکوک مارکس شیٹس کی نشاندہی کی ہے۔ ان مارکس شیٹس کا مبینہ طور پر تعلق ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ حیدرآباد سے ہے۔باخبر ذرائع نے بتایا کہ حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل گروپ کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج میں بعض امیدواروں کی مارکس شیٹس پر درج نمبروں اور بورڈ کے اصل گزٹ میں موجود نمبروں کے درمیان غیر معمولی فرق سامنے آیا ہے۔

بعض کیسز میں مبینہ طور پر اسکروٹنی کے نام پر امیدواروں کے مجموعی نمبروں میں 50 سے 100 تک اضافہ کیا گیا، جس سے میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے میرٹ پر اثر انداز ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ مبینہ طور پر نمبروں میں تبدیلی کا عمل اس وقت انجام دیا گیا جب حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے چیئرمین فقیر محمد لاکھو عمرے کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک موجود تھے۔

اس صورتحال میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ چیئرمین کی عدم موجودگی میں اتنی بڑی تعداد میں نمبروں کی تبدیلی کس کی منظوری سے کی گئی، اسکروٹنی کی درخواستوں پر کارروائی کرنے والے افسران کون تھے اور کیا اس پورے عمل میں بورڈ کے مقررہ قواعد و ضوابط کی پابندی کی گئی؟ذرائع کے مطابق حیدرآباد تعلیمی بورڈ میں انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات پہلے بھی سامنے آچکی ہیں، جن کے بعد ڈپٹی کنٹرولر ٹاپ سیکرٹ برانچ اعجاز علی کاکا کو معطل بھی کیا جاچکا ہے۔

دوسری جانب میرپورخاص تعلیمی بورڈ کی بعض مارکس شیٹس میں بھی نمبروں کی مبینہ تبدیلی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایم بی بی ایس میں داخلے دینے والی جامعات کی جانب سے اصل نتائج کے گزٹ طلب کیے جانے کے باوجود متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا جارہا، جس کے باعث امیدواروں کے تعلیمی نتائج کی آزادانہ تصدیق میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سندھ میں ایم بی بی ایس کے داخلوں سے متعلق تیسری اہم سرکاری میڈیکل جامعہ، شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ میں تاحال کسی مشکوک مارکس شیٹ کی نشاندہی کی اطلاع نہیں ملی، تاہم وہاں بھی مارکس شیٹس کی جانچ پڑتال کے نظام پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ تعلیمی حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر تمام سرکاری میڈیکل جامعات میں امیدواروں کی مارکس شیٹس کا متعلقہ تعلیمی بورڈز کے اصل گزٹ سے مکمل تقابل کیا جائے تو نمبروں میں مزید مبینہ ردوبدل اور بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آسکتے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں