میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گل پلازہ کی تباہ حال عمارت گرانے کا فیصلہ، سندھ حکومت نے ٹینڈر جاری کردیا

گل پلازہ کی تباہ حال عمارت گرانے کا فیصلہ، سندھ حکومت نے ٹینڈر جاری کردیا

جرات ڈیسک
پیر, ۲ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

انہدام کے کام کی ابتدائی قیمت 4 کروڑ روپے مقرر، بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر، منتخب کمپنی کو تین ماہ میں کام مکمل کرنا ہوگا

 

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے جنوری 2026 میں آتشزدگی کے باعث تباہ ہونے والے کراچی کے معروف تجارتی مرکز گل پلازہ کو منہدم کرنے کے لیے مختلف کمپنیوں سے بولیاں طلب کرلی ہیں۔

عمارت کے انہدام کے کام کی ابتدائی قیمت 4 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 رکھی گئی ہے۔ایس بی سی اے کی جانب سے جاری اشتہار کے مطابق خواہش مند کمپنیوں سے تکنیکی اور مالی تجاویز الگ الگ طلب کی گئی ہیں اور انہدام کا کام اتھارٹی کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا۔

ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر ڈیمولیشن کے مطابق ٹھیکا محض سب سے زیادہ بولی دینے والی کمپنی کو نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کمپنیوں کو ترجیح دی جائے گی جنہیں کم از کم 20 عمارتیں منہدم کرنے کا تجربہ حاصل ہو۔منتخب کمپنی کو معاہدے کے تحت تین ماہ کے اندر عمارت گرانے کا کام مکمل کرنا ہوگا۔

معاہدے کے مطابق عمارت سے حاصل ہونے والا ملبہ اور اسکریپ کمپنی اپنے پاس رکھ سکے گی، تاہم ملبے سے برآمد ہونے والی دکانداروں کی اشیا کی تقسیم سے متعلق فیصلہ ڈپٹی کمشنر کراچی جنوبی کریں گے۔

ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کی شب آگ بھڑک اٹھی تھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے تجارتی مرکز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تقریباً 8 ہزار 128 مربع گز رقبے پر پھیلی اس عمارت میں ایک ہزار 153 سے زائد دکانیں تباہ ہوگئیں، جبکہ آگ بجھانے اور امدادی کارروائیوں میں کئی روز لگے۔

اس سانحے میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔واقعے کے بعد جنوری میں قائم کی گئی تکنیکی کمیٹی نے عمارت کو ناقابل استعمال قرار دیتے ہوئے منہدم کرنے کی سفارش کی تھی۔ سندھ حکومت اس مقام پر نئی عمارت تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی کرچکی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں