میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
انسان کی سب سے بڑی شکست کب شروع ہوتی ہے ؟

انسان کی سب سے بڑی شکست کب شروع ہوتی ہے ؟

جرات ڈیسک
هفته, ۲۴ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسان کی تاریخ میں سب سے خوفناک موت وہ نہیں جو قبرستانوں کو آباد کرتی ہے، بلکہ وہ ہے جو زندہ انسانوں کے اندر اترتی ہے، ان
کے ضمیر کو خاموش کرتی ہے، ان کی آنکھوں سے احساس چھین لیتی ہے اور انہیں اپنے ہی جیسے انسانوں کی تکلیف سے بے نیاز کر دیتی ہے۔

جسم کی موت ایک حیاتیاتی حقیقت ہے، لیکن روح کی موت ایک اخلاقی سانحہ ہے،ایسا سانحہ جس کے بعد انسان چلتا پھرتا، بولتا، کھاتا، پیتا
اور اپنے معمولات انجام دیتا رہتا ہے، مگر اس کے اندر سے انسانیت کا آخری چراغ بجھ چکا ہوتا ہے۔ البرٹ کامیو کی تحریر Death in the Soulاسی تنہائی، داخلی اضطراب، انسانی بے معنویت اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کے سامنے انسان کے برہنہ وجود کو سمجھنے کا ایک اہم
ادبی تجربہ ہے۔ پراگ کے اجنبی ماحول میں تنہا مسافر کی بے چینی اور پھر اٹلی کی روشنی میں زندگی سے دوبارہ تعلق کا احساس اس تحریر کو محض مایوسی کی داستان نہیں رہنے دیتا۔ یہ انسان کے اپنے وجود سے تصادم کی کہانی بھی ہے۔

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ انسان نے تہذیبیں تعمیر کیں، مگر اپنی وحشت کو مکمل طور پر شکست نہ دے سکا۔ اس نے پتھر کے ہتھیار سے ایٹمی بم تک کا سفر طے کیا، غاروں سے فلک بوس عمارتوں تک پہنچا، بیماریوں کے علاج دریافت کیے، سمندروں کی گہرائیوں اور خلا کی وسعتوں کو چھوا، لیکن اپنے اندر موجود نفرت، لالچ، تعصب اور ظلم کے خلاف اس کی جنگ آج بھی نامکمل ہے۔ ترقی کے پیمانے بدلتے رہے، مگر بنیادی سوال اپنی جگہ قائم رہا۔ کیا انسان واقعی اخلاقی طور پر ترقی کر رہا ہے، یا صرف اپنی تباہ کرنے کی صلاحیت کو زیادہ مؤثر بناتا جا رہا ہے؟قدیم تہذیبوں نے قانون، مذہب، فلسفے اور اجتماعی نظم کے ذریعے انسانی زندگی کو محفوظ بنانے کی کوشش کی۔ حمورابی کے قوانین نے معاشرتی معاملات کو ضابطوں میں باندھنے کی ایک تاریخی مثال پیش کی، یونانی فلسفے نے انصاف، فضیلت اور اچھی زندگی پر سوال اٹھائے، جبکہ سقراط نے اپنے زمانے کے معاشرے کو یہ سکھانے کی کوشش کی کہ غیر آزمودہ زندگی انسان کو اپنی حقیقت سے محروم رکھتی ہے۔ مگر سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑا۔ یہ واقعہ محض ایک فلسفی کی موت نہیں تھا۔ یہ اس حقیقت کی علامت بھی تھا کہ معاشرے اکثر اس آواز کو برداشت نہیں کرتے جو ان کے اجتماعی خود فریبی کے پردے چاک کرتی ہے۔افلاطون نے انصاف پر مبنی ریاست کا تصور پیش کیا، ارسطو نے انسان کو سماجی مخلوق قرار دیا، اور اسٹوئک فلسفیوں نے سکھایا کہ انسان بیرونی حالات پر مکمل اختیار نہ رکھنے کے باوجود اپنے کردار اور ردعمل کی ذمہ داری اٹھا سکتا ہے۔ لیکن تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ اخلاقیات کے عظیم نظریات اکثر طاقت کے ایوانوں کے دروازے پر دم توڑ دیتے ہیں۔

حکمران انصاف کے نام پر اقتدار حاصل کرتے ہیں، مذہب کے نام پر اطاعت طلب کرتے ہیں، قومی سلامتی کے نام پر آزادی محدود
کرتے ہیں اور عوام کی بھلائی کے نام پر عوام ہی کو قربانی کا ایندھن بنا دیتے ہیں۔یہیں کامیو کے فکری تناظر میں انسانی وجود کا بنیادی مسئلہ سامنے آتا ہے۔ انسان ایک ایسی دنیا میں معنی تلاش کرتا ہے جو ہمیشہ اس کی خواہشات کے مطابق جواب نہیں دیتی۔ وہ انصاف چاہتا ہے، مگر ناانصافی دیکھتا ہے؛ دائمی زندگی کی خواہش رکھتا ہے، مگر موت کی یقینی حقیقت سے واقف ہے؛ محبت کرتا ہے، مگر جدائی سے بچ نہیں سکتا۔

کامیو کے ہاں اس تصادم کو بے معنویت کا مسئلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں محبت، انصاف یا انسانی جدوجہد کی کوئی قدر نہیں، بلکہ یہ کہ کائنات کی خاموشی کے باوجود انسان کو اپنی زندگی اور اپنے اعمال کی ذمہ داری خود قبول کرنا پڑتی ہے۔انسان کی سب سے بڑی شکست اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے دکھ کو سمجھنے کے بجائے دوسروں کے دکھ سے لاتعلق ہونا سیکھ لیتا ہے۔ ہولوکاسٹ کے دوران لاکھوں یہودیوں کی منظم نسل کشی، نازی جرمنی کے حراستی کیمپوں اور دوسری عالمی جنگ کی اجتماعی تباہ کاریوں نے دکھایا کہ جدید تعلیم، سائنس، بیوروکریسی اور صنعتی نظم لازماً اخلاقی انسان پیدا نہیں کرتے۔ ایک منظم ریاست بھی ظلم کو انتظامی کارروائی میں تبدیل کر سکتی ہے، اور ایک تعلیم یافتہ شخص بھی غیر انسانی نظام کا پرزہ بن سکتا ہے۔ جب انسان دوسرے انسان کو نام، چہرے اور احساس رکھنے والی ہستی کے بجائے محض عدد، نسل یا دشمن کی علامت سمجھنے لگے تو اخلاقی زوال اپنی انتہائی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ہنّا آرنٹ نے نازی عہد کے مجرم ایڈولف آئخ مین کے مقدمے کے مطالعے میں ‘‘شر کی معمولیت’’ کا تصور پیش کیا۔ اس تصور کا بنیادی سبق یہ ہے کہ ہولناک برائی ہمیشہ کسی غیر معمولی عفریت کی صورت میں نہیں آتی؛ کبھی وہ ایسے شخص کے ذریعے بھی انجام پاتی ہے جو سوچنے، سوال کرنے اور اپنے اعمال کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے سے دست بردار ہو چکا ہو۔ حکم ماننا، منصب بچانا، ملازمت جاری رکھنا اور ذاتی مفاد محفوظ رکھنا بظاہر معمولی فیصلے دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن جب یہ سب انسانی ضمیر سے آزاد ہو جائیں تو اجتماعی تباہی کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔اسٹینلے ملگرام کے اطاعت سے متعلق تجربات نے بھی یہ سوال اٹھایا کہ اختیار کی موجودگی میں عام لوگ کس حد تک دوسروں کو تکلیف پہنچانے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔
اس تحقیق کو ہر تاریخی جرم کی مکمل وضاحت نہیں سمجھنا چاہیے، مگر یہ انسانی نفسیات کے ایک خطرناک پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے، بعض حالات میں لوگ اپنے اخلاقی فیصلے کی ذمہ داری کسی مقتدر شخصیت کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یوں ضمیر ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس کی آواز کو حکم، خوف اور اجتماعی اطاعت کے نیچے دبا دیا جاتا ہے۔فریڈرک نطشے نے اقدار، اخلاقیات اور طاقت کے باہمی تعلق پر سوال اٹھائے، جبکہ میکیاولی نے سیاسی اقتدار کی عملی حقیقتوں کا تجزیہ کیا۔ ان دونوں کو ایک ہی نظریے میں ضم نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان کے مطالعے سے ایک اہم سوال ضرور پیدا ہوتا ہے، کیا طاقت انسان کے کردار کو بدل دیتی ہے، یا پہلے سے موجود خواہشات کو بے نقاب کرتی ہے؟ اقتدار جب جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو انسان دوسروں کو اپنے ارادوں کی تکمیل کا وسیلہ سمجھنے لگتا ہے۔ اسے اپنی کامیابی نظر آتی ہے، مگر اس کامیابی کی قیمت ادا کرنے والے چہرے دکھائی نہیں دیتے۔فرانسیسی انقلاب نے آزادی، مساوات اور اخوت کے نعرے بلند کیے، لیکن اسی انقلاب کے ایک مرحلے میں گیلوٹین نے سیاسی مخالفین کے سروں کی فصل کاٹی۔ روسی انقلاب نے استحصال سے پاک معاشرے کا وعدہ کیا، مگر بعد کے سوویت نظام میں جبر، سیاسی تطہیر اور ریاستی تشدد نے لاکھوں زندگیوں کو متاثر کیا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ان انقلابات کے تمام مقاصد یا نتائج یکساں تھے، تاہم ان کی تاریخ ایک بنیادی انتباہ دیتی ہے، جب کوئی نظریہ خود کو انسان سے بڑا سمجھنے لگے تو انسان کی آزادی اور زندگی اس نظریے کی قربانی بن سکتی ہے۔ جو لوگ کل انصاف کے نام پر ظلم کے خلاف کھڑے تھے، وہ بھی کل اپنی طاقت بچانے کے لیے انصاف کی آواز دبانے لگ سکتے ہیں۔

فیوڈور دوستوئیفسکی نے انسانی باطن کی تاریکی، جرم، ندامت اور اخلاقی کشمکش کو ادب کا موضوع بنایا۔ کافکا نے ایسی دنیا کی تصویر پیش کی جس میں فرد نامعلوم اختیارات، ناقابلِ فہم قوانین اور بے چہرہ اداروں کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ جارج آرویل نے 1984 میں
دکھایا کہ جب ریاست زبان، تاریخ اور سچائی پر قبضہ کر لے تو انسان صرف آزادی ہی نہیں کھوتا، حقیقت کو پہچاننے کی صلاحیت بھی کھونے لگتا ہے۔ ان ادبی تخلیقات کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ظلم کو صرف اعدادوشمار میں نہیں بلکہ انسانی شعور، خوف اور تنہائی کے تجربے میں تبدیل کرتی ہیں۔ اخلاقیات کی اصل آزمائش اس وقت نہیں ہوتی جب سچ بولنے پر کوئی خطرہ نہ ہو، بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب سچ بولنے کی قیمت ملازمت، سماجی تعلق، سیاسی وابستگی یا ذاتی تحفظ کی صورت میں ادا کرنا پڑے۔ اسی طرح انسان دوستی کا امتحان اپنے دوستوں سے محبت نہیں، بلکہ اس شخص کے بنیادی حقوق تسلیم کرنا ہے جس کے نظریات، زبان، مذہب یا شناخت سے ہم اتفاق نہیں کرتے۔ اگر انصاف صرف اپنے گروہ کے لیے ہو، آزادی صرف اپنے پسندیدہ لوگوں کے لیے ہو اور انسانی وقار صرف اپنے ہم خیال افراد کے لیے ہو تو یہ اخلاقیات نہیں، مفاد کی ایک خوش نما شکل ہے۔کامیو کی فکر میں زندگی کی بے معنویت کا سامنا کرنے کا مطلب ہتھیار ڈال دینا نہیں۔ انسان موت کی ناگزیریت جانتے ہوئے بھی محبت کر سکتا ہے، ناانصافی کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہے اور کسی اجنبی کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ زندگی کا محدود ہونا اس کی قدر ختم نہیں کرتا؛ بعض اوقات یہی محدودیت ہر لمحے کو زیادہ قیمتی بنا دیتی ہے۔ کامیو کے نزدیک بغاوت کا ایک اخلاقی پہلو بھی ہے: انسان ظلم کو اس لیے قبول نہ کرے کہ دنیا کامل نہیں، بلکہ اس لیے مزاحمت کرے کہ نامکمل دنیا میں بھی انسان کی تکلیف حقیقی ہے۔ پاکستان کی تاریخ بھی اس سوال سے الگ نہیں۔ قیامِ پاکستان نے آزادی، مساوات اور شہری وقار کی امیدیں پیدا کیں، مگر جمہوری عدم استحکام، آمریتوں، سیاسی انتقام، جبری گمشدگیوں، معاشی نابرابری اور کمزور اداروں نے ان امیدوں کو بار بار زخمی کیا۔ جب شہری کی آواز کو خطرہ سمجھا جائے، قانون طاقت ور اور کمزور کے لیے مختلف ہو اور غربت انسان کو بنیادی ضرورتوں سے محروم کر دے تو ریاستی بحران صرف سیاسی نہیں رہتا؛ وہ انسانی وجود اور اخلاقی ضمیر کا بحران بن جاتا ہے۔ پاکستان کی نجات کسی ایک شخصیت یا جماعت میں نہیں، بلکہ انصاف، جواب دہی، آزادی اور انسانی وقار کے احترام میں ہے۔بالآخر سوال یہ نہیں کہ انسان کب مرے گا؛ سوال یہ ہے کہ موت آنے سے پہلے وہ اپنے اندر کتنا انسان باقی رکھ سکے گا۔ اگر ہم ظلم دیکھ کر خاموش رہیں، جھوٹ کو مفاد کے لیے قبول کریں، دوسروں کی محرومی پر خوش ہوں اور طاقت کو اخلاقیات سے بالاتر سمجھیں تو ہماری سانسیں جاری رہنے کے باوجود ہماری روح مر چکی ہوگی۔ تہذیبوں کی اصل عظمت ان کی عمارتوں، ہتھیاروں یا دولت سے نہیں، اس بات سے ناپی جانی چاہیے کہ وہ اپنے کمزور ترین انسان کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہیں۔

کامیو کی تحریر ہمیں مایوسی کی اندھی کھائی میں دھکیلنے کے بجائے اپنے وجود کی حقیقت سے آنکھ ملانے کی دعوت دیتی ہے۔ کائنات شاید ہمارے سوالوں کا جواب نہ دے، تاریخ شاید ہمارے جرائم کو معاف نہ کرے، اور موت شاید کسی کے لیے انتظار نہ کرے؛ لیکن ہمارے پاس ابھی انتخاب کی گنجائش موجود ہے۔ ہم بے حسی کا انتخاب کر سکتے ہیں یا ہمدردی کا، اطاعت کا یا ضمیر کا، نفرت کا یا انسانیت کا۔ اور شاید یہی ہماری زندگی کا سب سے بڑا فلسفیانہ سچ ہے: انسان کی روح اس دن مرتی ہے جب وہ ظلم کرنے سے پہلے نہیں، ظلم دیکھنے کے بعد بھی اپنے ضمیر کی آواز سننے سے انکار کر دیتا ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں