میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اجڑتے حیدرآباد کا نوحہ

اجڑتے حیدرآباد کا نوحہ

جرات ڈیسک
هفته, ۲۴ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

تاریخ کی عظیم تہذیبوں کا مَسکَن اور وادئ سندھ کی قدیم روایت کا پاسبان شہر حیدرآباد، جو کبھی اپنی ٹھنڈی ہواؤں، سرمئی شاموں اور
پاکیزہ فضاؤں کی وجہ سے ‘‘پکھیوں کا شہر’’کہلاتا تھا، آج اپنی ہی تاریخ کی زبوں حالی پر ماتم کناں ہے ۔ وہ شہر جو کسی دور میں اپنی خوبصورتی اور طرزِ تعمیر کی بنیاد پر یگانہ روزگار تھا، آج بلدیاتی اداروں کی مجرمانہ غفلت، بے حسی اور نااہلی کے باعث اک مقتلِ آرزو بن چکا ہے ۔

سڑکوں، چوراہوں اور گلی محلوں میں پھیلی ابتری کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس تاریخی شہر کا کوئی والی وارث ہی نہ رہا ہو۔بلدیاتی نظام کا بنیادی مقصد شہریوں کو صاف ستھرا ماحول، پینے کا پاکیزہ پانی، صحت مند فضائیں، بہتر ترسیل و آمدورفت کی سہولیات اور بنیادی تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے ، مگر حیدرآباد کے بلدیاتی ادارے اس کے تمام تر برعکس شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنانے کے مرکز بن چکے ہیں۔ شہر کا کوئی ایک کونہ یا محلہ ایسا نہیں جہاں مسائل کے انبار نے عوام کا جینا محال نہ کر رکھا ہو۔

حیدرآباد کا سب سے بڑا اور بھیانک مسئلہ یہاں کا درہم برہم اور ناکارہ سیوریج کا نظام ہے ۔ شہر کی مرکزی شاہراہیں ہوں یا گلی محلے ، ہر
جگہ سیوریج کا گندا پانی جھیل کی شکل اختیار کیے کھڑا نظر آتا ہے ۔ تھوڑی سی بارش تو دور کی بات، عام دنوں میں بھی نالیاں اور گٹر ابلنا معمول بن چکا ہے ۔ لطیف آباد، قاسم آباد، حیدرآباد شہر اور پھلیلی کے اہم تجارتی و رہائشی علاقوں میں سیوریج کا تعفن زدہ پانی سڑکوں پر بہتا ہے جو نہ صرف پیدل چلنے والوں بلکہ گاڑیوں اور بائیک سواروں کے لیے بھی شدید مشکلات کا باعث بنتا ہے ۔ مسجدوں کو جانے والے نمازیوں کے کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں، اسکول جانے والے بچے ناپاک و بدبودار پانی سے گزرنے پر مجبور ہیں اور دکانداروں کا کاروبار اس غلاظت کی نذر ہو چکا ہے ۔ یہ سیوریج کا پانی محض سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ زنگ آلود اور بوسیدہ پائپ لائنوں کے باعث پینے کے پانی کی لائنوں میں شامل ہو کر گھروں کے نلوں تک پہنچ رہا ہے ، جس کی وجہ سے شہری پیٹ اور جلدی بیماریاں سمیٹنے پر مجبور ہیں۔ بلدیاتی ادارے محض کاغذی کارروائیوں اور کھوکھلے دعوؤں تک محدود ہیں اور عملی طور پر سیوریج کے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔

بدبو اور غلاظت کا یہ سفر صرف سیوریج تک ختم نہیں ہوتا، بلکہ شہر بھر میں لگے کچرے اور گندگی کے ڈھیر حیدرآباد کا نیا پہچان بن چکے ہیں۔ ہر گلی کے موڑ، تعلیمی اداروں کے قریب، ہسپتالوں کے اطراف اور سڑکوں کے کنارے کچرے کے پہاڑ کھڑے ہیں۔ صفائی کا نظام اس قدر ناقص اور ناپائیدار ہے کہ ہفتوں تک کچرا اٹھانے والی گاڑیاں نظر نہیں آتیں۔ صفائی کے نام پر خطیر رقم بجٹ میں مختص کی جاتی ہے مگر وہ فنڈز کہاں استعمال ہوتے ہیں، اس کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔ جگہ جگہ لگے غلاظت کے انبار نے پورے شہر کو تعفن زدہ کر دیا ہے ، جس کے باعث مکھیاں اور مچھر بے تحاشا بڑھ چکے ہیں اور ڈینگی، ملیریا اور ٹائفائیڈ جیسی مہلک بیماریاں وبا کی صورت اختیار کر رہی ہیں۔ بلدیاتی عملہ اور صفائی کے نگران تمام صورتِ حال سے باخوبی واقف ہونے کے باوجود آنکھیں موندے بیٹھے ہیں، جیسے عوام کو اس عذاب میں مبتلا رکھنا ہی ان کی ترجیح ہو۔

شہر کی سڑکوں کی حالتِ زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ کبھی جو سڑکیں شہر کے حسن کا باعث تھیں، آج وہ کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ ہر چند قدم کے فاصلے پر گہرے اور جان لیوا گڑھے موجود ہیں جو حادثات کو دعوت دیتے نظر آتے ہیں۔ سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور عدم مرمت کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوتی ہے اور آئے روز گاڑیاں اور موٹر سائیکلوں کے حادثات پیش آتے ہیں۔ دھول اور
گرد و غبار کے مرغولے فضائی آلودگی کو اس حد تک بڑھا چکے ہیں کہ شہریوں کے لیے سانس لینا بھی دوبھر ہو چکا ہے ۔ رہی سہی کسر
انکروچمنٹ یعنی ناجائز تجاوزات نے پوری کر دی ہے ۔ شہر کے مرکزی بازاروں جیسے شاہی بازار، ریشم گلی، تلک چاڑی اور گاڑی کھاتہ، گول بلڈنگ، جامع کلاتھ مارکیٹ یونٹ نمبر 8، لطیف آباد کے بیشتر مقامات سے لے کر رہائشی علاقوں تک، سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر قبضہ مافیا کا راج ہے ۔ سڑکوں پر ٹھیلے ، پتھارے اور ناجائز دکانیں سجائی گئی ہیں جس کے باعث سڑکیں سکڑ کر تنگ ہو چکی ہیں۔ پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ بچے ہی نہیں اور گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے کوئی جگہ دستیاب نہیں۔ بلدیاتی اداروں کے اہلکار ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی کا محض ڈرامہ رچاتے ہیں ، جس کے نتیجے میں تجاوزات کا یہ اژدہا روز بروز مزید پھیلتا چلا جا رہا ہے ۔اس ہمہ گیر تباہی اور بد نظمی کے بیچ ایک اور خوفناک المیہ کتوں کی بے تحاشا بھر مار اور ان کے کاٹنے کے خونخوار واقعات ہیں۔ حیدرآباد کا شاید ہی کوئی ایسا محلہ ہو جہاں آوارہ کتوں کے جھنڈ نہ گھوم رہے ہوں۔ شام ڈھلتے ہی یا صبح سویرے شہریوں بالخصوص بچوں اور بزرگوں کے لیے گھروں سے نکلنا خطرے سے خالی نہیں رہا۔ آئے روز کتوں کے کاٹنے کے دردناک واقعات اخبارات کی زینت بنتے ہیں اور ہسپتالوں میں اینٹی رے بیز ویکسین کی عدم دستیابی اس المیے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے ۔ بلدیاتی اداروں کی جانب سے آوارہ کتوں کی تلفی یا ان کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی مہم نہیں چلائی جاتی، اور عوام کو ان خونخوار کتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ کئی مائیں اپنے معصوم بچوں کو گلیوں میں بھیجنے سے ڈرتی ہیں اور لوگ اپنے ہی شہر میں خوف و ہراس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
شہری زندگی میں تفریح، تازگی اور سکون کا ذریعہ بننے والے پارک بھی بلدیاتی اداروں کی مجرمانہ عدم توجہی کی بھیٹ چڑھ چکے ہیں۔ کبھی جو پارک سبزے ، پھولوں اور بچوں کی ہنسی سے مہکتے تھے ، وہ آج اجڑے ، ویران اور بدبودار بن چکے ہیں۔ پارکوں کے جھولے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، چمن سوکھ چکے ہیں، روشنی کا کوئی انتظام نہیں اور پانی کے فوارے کچرا دان بن چکے ہیں۔ دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یہ تفریحی گاہیں اب مخدرات کے عادی افراد اور جرائم پیشہ عناصر کا مسکن بن چکی ہیں، جہاں شریف خاندانوں کا جانا ناممکن ہو چکا ہے ۔ بچوں کے لیے کھیل کود کے سائے تک ختم کر دیے گئے ہیں اور شہر کا پورا ماحول حبس و بیزاری کا شاہکار بن چکا ہے ۔اسٹریٹ لائٹس کا فقدان شاہراہیں تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

اس تمام تر ابتری اور تباہی کا سب سے تکلیف دہ پہلو بلدیاتی رہنماؤں اور انتظامی افسران کی مجرمانہ خاموشی اور عدم توجہ ہے ۔ ووٹرز سے
ووٹ مانگتے وقت جو بڑے بڑے دعوے اور وعدے کیے جاتے ہیں، الیکشن جیتنے کے بعد وہ سب ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ بلدیاتی نمائندے
اور اعلیٰ حکام اپنے ائیر کنڈیشنڈ دفاتر اور گاڑیوں میں بیٹھ کر شہر کی اس ابتر صورتِ حال کا تماشا دیکھتے ہیں مگر عملی طور پر کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہر ادارہ اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہے اور اس انتظامی کھینچ تان اور بے حسی کی قیمت حیدرآباد کے بے بس اور بدحال شہری چکا رہے ہیں۔

حیدرآباد کے عوام اس وقت انتہائی پریشان، بدحال اور مایوس ہیں۔ وہ ٹیکس بھی دیتے ہیں اور تمام سرکاری واجبات بھی ادا کرتے ہیں،
مگر بدلے میں انہیں ملتی ہے تو صرف غلاظت، بیماریاں، خوف اور کھنڈر نما شہر۔ بلدیاتی ادارے شہریوں کی بنیادی انسانی ضرورتوں کی
فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ اگر اب بھی حیدرآباد کی اس دم توڑتی حالتِ زار پر رحم نہ کھایا گیا اور بلدیاتی نظام میں بنیادی،
شفاف اور سخت اصلاحات نہ لائی گئیں، تو یہ شہر مکمل طور پر رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکام بالا اور اربابِ اختیار فوری طور پر حیدرآباد کی زبوں حالی کا سنجیدہ نوٹس لیں، کرپٹ اور نااہل بلدیاتی عناصر کا احتساب کریں اور شہر کو اس کے جائز حقوق دے کر ایک بار پھر رہنے کے قابل بنائیں۔ حیدرآباد کے شہری اب محض کھوکھلے وعدوں اور کاغذی تسلیوں سے بہلنے والے نہیں، انہیں عملی اقدامات اور صاف ستھرا، محفوظ حیدرآباد چاہیے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں