میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
شہیدِ ملت لیاقت علی خان۔۔۔۔۔۔ زندگی، سیاسی سفر اور شہادت

شہیدِ ملت لیاقت علی خان۔۔۔۔۔۔ زندگی، سیاسی سفر اور شہادت

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پروفیسر شاداب احمد صدیقی
۔۔۔۔۔

٭16 ؍اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی میں ایک عوامی اجتماع کے دوران لیاقت علی خان کو قریب سے گولی مار دی گئی، جس کے نتیجے میں وہ شہید ہو گئے

 

٭ حملہ کرنے والے سید اکبر نامی افغان شخص کو پولیس نے موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا، اس قتل کے سلسلے میں کسی شخص پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی

٭پاکستان کے پہلے وزیراعظم کا قتل سیاسی تاریخ کاالمناک واقعہ تھا، خیال تھا کہ اس کے پیچھے ان کی اپنی حکومت کے بعض ارکان کی سازش ہو سکتی تھی

٭لیاقت علی خان کے قتل کے پسِ پردہ محرکات، ممکنہ سازش میں شریک کرداروں اور واقعات کی اصل کڑیوں پر آج بھی کئی پردے پڑے ہوئے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان راول … ر رہے ہیں ، جہاں اُنہیں نشانہ بنایا گیا

برصغیر کی تاریخ میں ایسے رہنما بہت کم ملتے ہیں جنہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے بجائے
ملک کی تعمیر و ترقی کے دشوار گزار راستے کو اپنا مقصد بنایا۔ نواب زادہ لیاقت علی خان کا شمار بھی انہی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ہندوستان میں
ان کے خاندان کے پاس وسیع اراضی، جائیداد اور مالی وسائل موجود تھے۔ وہ چاہتے تو ایک آسودہ اور پُرسکون زندگی بسر کر سکتے تھے، لیکن
انہوں نے ذاتی آرام و آسائش کو پسِ پشت ڈال کر سیاسی جدوجہد اور قومی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد نومولود
ریاست کو محدود وسائل، سنگین انتظامی مسائل اور بے شمار مشکلات کا سامنا تھا۔ مستقبل کے تقاضے بھی بڑے چیلنج بن کر سامنے کھڑے
تھے۔ ایسے نازک وقت میں قائدِاعظم محمد علی جناح نے لیاقت علی خان کی صلاحیتوں اور سیاسی بصیرت پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں پاکستان کا
پہلا وزیرِاعظم مقرر کیا۔ یوں انہوں نے نئی مملکت کی بنیادوں کو مضبوط بنانے اور اس کے ابتدائی ریاستی ڈھانچے کی تشکیل میں اہم کردار ادا
کیا۔ہر سال 16 اکتوبر قوم کو یاد دلاتا ہے کہ جس ملک میں ہم آزادی کی سانس لے رہے ہیں، اس کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں ایسے
رہنماؤں کی محنت، قربانی اور سیاسی جدوجہد بھی شامل ہے جنہوں نے اپنی زندگی قومی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ لیاقت علی خان کی زندگی
اور شہادت پاکستان کی ابتدائی تاریخ کا اہم باب ہے، جس کا مطالعہ آج بھی قومی قیادت، حکمرانی اور عوامی خدمت کے تقاضوں کو سمجھنے میں
مدد دیتا ہے۔

  • ہندوستان میں ان کے خاندان کے پاس وسیع اراضی، جائیداد اور مالی وسائل موجود تھے۔ وہ چاہتے تو ایک آسودہ اور پُرسکون زندگی بسر کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے ذاتی آرام و آسائش کو پسِ پشت ڈال کر سیاسی جدوجہد اور قومی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔ 1943ء میں محمد علی جناح نے انہیں اپنا ‘‘دستِ راست’’ قرار دیا۔ 1945ء اور 1946ء میں شملہ کانفرنسوں کے دوران وہ جناح کے اہم ترین ساتھیوں میں شامل تھے۔جناح مسلمانوں کے مؤقف کے نمایاں ترجمان تھے۔ لیاقت علی خان پوری زندگی جناح کے وفادار ساتھی اور پیروکار رہے

محمد لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1895ء کو کرنال، پنجاب، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہ کرنال کے نواب کے دوسرے بیٹے
تھے۔ ان کے بڑے سوتیلے بھائی سجاد کو نوابی کا لقب اور وراثت حاصل ہوئی۔ لیاقت علی خان نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، جہاں انہیں
قرآنِ مجید اور احادیث کی تعلیم دی گئی۔ انہیں موسیقی کے اسباق بھی دلوائے گئے۔ انہیں گانا، رقص کرنا اور تھیٹر دیکھنا پسند تھا۔ وہ خوش مزاج،
نرم دل اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے، تاہم اپنی طبیعت میں قدرے محتاط اور کم گو بھی تھے۔
1910ء میں انہوں نے علی گڑھ کے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کے اسکول میں داخلہ لیا۔ 1915ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور 1918ء میں گریجویشن مکمل کی۔ اسی دوران ان کی شادی ان کی چچا زاد یا خالہ زاد کزن جہانگیرہ بیگم سے ہوئی۔ 1919ء میں ان کے ہاں
بیٹے ولایت علی خان کی پیدائش ہوئی، جو ان کی پہلی شادی سے اکلوتی اولاد تھے۔ ان کی دوسری اہلیہ رعنا لیاقت علی خان ایک مسیحی ماہرِ تعلیم اور سماجی اصلاحات کے لیے سرگرم خاتون تھیں۔ ان سے ان کے دو بیٹے اشرف اور اکبر پیدا ہوئے۔ ان کی گھریلو زندگی میں رعنا لیاقت علی خان نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ رعنا لیاقت علی خان تعلیم یافتہ خاتون تھیں اور معاشیات سے وابستہ رہیں۔ انہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد خواتین کی تنظیم سازی، سماجی بہبود اور عوامی خدمت کے میدان میں نمایاں کام کیا۔ وہ خواتین کی تعلیم، معاشرتی ترقی اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے سرگرم رہیں۔ یوں لیاقت علی خان کے گھرانے کا کردار صرف سیاسی زندگی تک محدود نہیں رہا بلکہ خواتین کی سماجی شرکت اور فلاحی خدمات سے بھی جڑا رہا۔
1920ء میں لیاقت علی خان آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایسے طالب علم کی حیثیت سے داخل ہوئے جو کسی مخصوص کالج سے وابستہ نہیں تھا۔ اگلے سال انہوں نے ایکسیٹر کالج میں داخلہ لیا۔ اگست 1921ء میں انہوں نے قانونی علوم میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ 1922ء میں لندن کے اِنر ٹیمپل سے وکالت کی سند حاصل کی۔ اسی سال کے آخر میں ہندوستان واپس آئے اور پنجاب ہائی کورٹ میں بطور وکیل اندراج کرایا۔ وہ ذاتی طور پر خوش حال اور مالی اعتبار سے خود کفیل تھے، اس لیے انہوں نے باقاعدہ وکالت کرنے کے بجائے سیاست اور تعلیم کے شعبوں میں دلچسپی لینا شروع کی۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں آئینی اصلاحات، سیاسی نمائندگی، حقوق اور مستقبل کے حکومتی نظام پر بحث جاری تھی۔ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ ایک اہم سیاسی پلیٹ فارم بن چکی تھی. وہ1923ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔اسی سال 1923ء میں انہوں نے مشرقی پنجاب سے ہندوستان کی قانون ساز اسمبلی کا انتخاب لڑا، لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ 1926ء میں متحدہ صوبہ جات، یعنی موجودہ اتر پردیش، کی قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے ضلع مظفر نگر کے مسلم حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔ اس عرصے میں انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی قائم کی اور اتر پردیش زمیندار ایسوسی ایشن کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔ 1931ء میں وہ قانون ساز کونسل کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔

سماجی معاملات میں لیاقت علی خان کے خیالات نسبتاً آزاد خیال تھے اور وہ خواتین کی تعلیم کے حامی تھے، تاہم مالیاتی امور میں محتاط اور کفایت شعار نقط? نظر رکھتے تھے۔ زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں زمین داروں اور زرعی مسائل کا گہرا ادراک تھا۔ وہ مسلمانوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے، لیکن انہیں مذہبی تعصب رکھنے والا شخص قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 1937ء میں لیاقت علی خان اتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1928ء میں وہ ان چوبیس مسلم لیگ کے نمائندوں میں شامل تھے جنہوں نے موتی لال نہرو رپورٹ پر غور کے لیے بلائے گئے آل پارٹیز کنونشن میں شرکت کی۔ اس موقع پر محمد علی جناح مسلمانوں کے مؤقف کے نمایاں ترجمان تھے۔ لیاقت علی خان پوری زندگی جناح کے وفادار ساتھی اور پیروکار رہے۔ 1933ء میں لندن میں جوائنٹ اسٹیچوٹری کمیشنStatutory Commission کے سامنے انہوں نے اپنا بیان دیا۔ اسی دور میں ان کی جناح سے دوبارہ ملاقات ہوئی، جس نے ان کے سیاسی تعلق کو مزید مضبوط کیا۔اپریل 1936ء میں محمد علی جناح نے لیاقت علی خان کو آل انڈیا مسلم لیگ کا جنرل سیکریٹری مقرر کرنے کی درخواست کی۔ وہ 1947ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس دوران وہ جناح کے قابلِ اعتماد نائب اور سیاسی مشیر بن گئے۔ جناح نے 1939ء میں اپنی وصیت میں لیاقت علی خان کو اپنا وصی اور ٹرسٹی مقرر کیا۔ مسلم لیگ کی تنظیم سازی، کمیٹیوں کی تشکیل، کانفرنسوں کے انعقاد اور جماعتی مطبوعات کی تیاری میں لیاقت علی خان نے نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ اکثر دہلی میں مسلم لیگ کے دفتر میں طویل وقت گزارتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اینگلو عربک کالج کے صدر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن بھی رہے۔
1941ء میں لیاقت علی خان ہندوستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور مسلم لیگ کی پارلیمانی جماعت کے ڈپٹی لیڈر بنے۔ جناح کی عدم موجودگی میں وہ جماعت کے مؤقف کی ترجمانی کرتے تھے۔ 1941ء میں انہوں نے ہفت روزہ اخبار ‘‘ڈان’’ کا اجرا کیا، جو 1942ء میں روزنامہ بن گیا۔

لیاقت علی خان ، قائداعظم کے ہمراہ

1943ء میں محمد علی جناح نے انہیں اپنا ‘‘دستِ راست’’ قرار دیا۔ 1945ء اور 1946ء میں شملہ کانفرنسوں کے دوران وہ جناح کے اہم ترین ساتھیوں میں شامل تھے۔1946ء میں جناح نے انہیں برطانوی وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں مالیات کا رکن نامزد کیا۔1946ء کی عبوری حکومت میں لیاقت علی خان نے وزیرِ خزانہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے 28 فروری 1947ء کو اپنا مشہور بجٹ پیش کیا، جسے برطانوی ہندوستان کی آخری سیاسی کشمکش کے دوران مسلم لیگ کی مالیاتی حکمتِ عملی کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا گیا۔ اس بجٹ میں دولت کے ارتکاز اور جنگی منافع خوری سے متعلق اقدامات نے انہیں مالیاتی اور حکومتی امور میں نمایاں مقام دلایا۔اسی سال وہ جناح کے ہمراہ آئینی معاملات پر مذاکرات کے لیے لندن گئے، جہاں انہوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی سے بھی ملاقات کی۔ 1947ء میں مالیات کے شعبے میں ان کے اقدامات کے نتیجے میں ‘‘غریب آدمی کا بجٹ’’ پیش کیا گیا، جس کا مقصد عام آدمی کی ضروریات اور مالی مشکلات کو مدنظر رکھنا تھا۔ بالآخر 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔قائدِاعظم محمد علی جناح نے گورنر جنرل اور نواب زادہ لیاقت علی خان نے پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ نئی مملکت کو ابتدا ہی سے سنگین مسائل کا سامنا تھا۔ لاکھوں مہاجرین کی آباد کاری، محدود مالی وسائل، انتظامی اداروں کی تشکیل، فوج اور سرکاری نظام کی تنظیمِ نو، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور مسئلہ کشمیر حکومت کے سامنے بڑے چیلنج تھے۔ ایسے حالات میں ریاستی ڈھانچے کو قائم رکھنا اور حکومتی امور کو آگے بڑھانا آسان کام نہیں تھا۔ لیاقت علی خان نے ان مشکلات کے دوران حکومتی نظام چلانے، مالی وسائل منظم کرنے اور پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت مستحکم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔وزیر اعظم کی حیثیت سے لیاقت علی خان نے نئی ریاست کو منظم کرنے اور اس کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل پر توجہ دی۔ تاہم، محمد علی جناح کی زندگی میں ان کا سیاسی کردار کسی حد تک جناح کی عظیم شخصیت کے زیرِ اثر رہا۔ 11 ستمبر 1948ء کو جناح کی وفات کے بعد لیاقت علی خان پر پاکستان کی قیادت اور ریاستی امور کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئیں۔
بانیِ پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناح کی وفات نے پوری قوم کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔ ان کے انتقال کے بعد وزیرِاعظم لیاقت علی خان پر ذمہ داریوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا۔ انہیں ایک جانب ملک کے انتظامی اور ریاستی امور چلانے تھے، تو دوسری جانب نئی مملکت کے آئینی مستقبل اور قومی مقاصد کے تعین کے لیے بھی کام کرنا تھا۔ اس دور میں پاکستان کے لیے ایسے آئینی نظام کی ضرورت نمایاں تھی جو ریاست کے بنیادی اصولوں، شہریوں کے حقوق اور حکومت کے اختیارات کی سمت متعین کر سکے۔لیاقت علی خان کی اہم ترین آئینی خدمات میں قراردادِ مقاصد پیش کرنا شامل ہے۔ قومی اسمبلی پاکستان کی سرکاری تاریخی معلومات کے مطابق انہوں نے 7 مارچ 1949ء کو دستور ساز اسمبلی میں قراردادِ مقاصد پیش کی، جسے 12 مارچ 1949ء کو منظور کیا گیا۔ اس قرارداد نے پاکستان کے آئینی ارتقا میں اہم مقام حاصل کیا اور آئندہ دستور سازی کے لیے بنیادی اصول فراہم کیے۔ پاکستان کی آئینی تاریخ میں اس قرارداد کی اہمیت اس وجہ سے بھی نمایاں ہے کہ اس نے ریاست کے نظریاتی تشخص، جمہوری طرزِ حکمرانی اور شہری حقوق سے متعلق بحث کو ایک مستقل آئینی حوالہ دیا۔

خارجہ تعلقات کے میدان میں بھی لیاقت علی خان کی حکومت کو اہم مسائل کا سامنا تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد دونوں ملکوں میں فرقہ وارانہ تشدد، نقل مکانی اور اقلیتوں کے تحفظ کے معاملات سنگین صورت اختیار کر چکے تھے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہوئے اور 8 اپریل 1950ء کو لیاقت نہرو معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ملکوں میں اقلیتوں کے تحفظ، مساوی شہریت، نقل مکانی کرنے والوں کے مسائل اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا تھا۔ معاہدے میں دونوں حکومتوں نے اپنی حدود میں اقلیتوں کی سلامتی، شہری حقوق، جان و مال، مذہبی آزادی اور مساوی شہریت کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کی۔ اس میں متاثرہ علاقوں میں اقلیتی کمیشنوں اور دیگر انتظامی اقدامات کا تصور بھی شامل تھا۔ اگرچہ اس معاہدے کے عملی نتائج اور نفاذ کے بارے میں تاریخی بحث موجود ہے، لیکن اس کی اہمیت ابتدائی پاک بھارت تعلقات اور اقلیتی حقوق کے تناظر میں برقرار ہے۔ معاہدے کی تاریخ اور بنیادی مقاصد نہرو آرکائیو میں محفوظ معاصر دستاویزات سے ثابت ہیں۔1950ء میں ان کے دورہ امریکہ نے دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کے قیام اور انہیں طویل مدت تک برقرار رکھنے کی بنیاد فراہم کی۔

پاکستان کے قیام کے بعد نئی حکومت کو بے شمار مشکلات کا سامنا تھا۔ ہندوستان سے لاکھوں مسلمان ہجرت کرکے پاکستان آ رہے تھے، جن کی آبادکاری اور بنیادی ضروریات پوری کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ دوسری طرف کراچی میں تقریباً ازسرِنو مرکزی حکومت قائم کرنا تھی، جس میں ایک مستحکم معاشی نظام کی تشکیل بھی شامل تھی۔ اسی دوران مسئلہ کشمیر نے فوری طور پر جنگ کی صورت اختیار کر لی۔ لیاقت علی خان نے ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے غیر معمولی کوششیں کیں، لیکن کشمیر کا تنازع ایسا مسئلہ تھا جو ان کی بھرپور جدوجہد کے باوجود مختصر وقت میں حل نہ ہو سکا۔
لیاقت علی خان ذاتی طور پر فیاض اور اصول پسند انسان تھے۔ پاکستان ہجرت کرنے کے بعد انہوں نے یہاں اپنے لیے ہندوستان میں چھوڑی گئی زمینوں کے بدلے کسی جائیداد کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کی ہندوستان میں موجود جائیداد ان کی پہلی اہلیہ اور ان کے بیٹے کو دے دی گئی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سرکاری بدعنوانی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور اپنی کابینہ میں بدعنوانی کے خلاف سخت مؤقف رکھتے تھے۔

16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی میں ایک عوامی اجتماع کے دوران لیاقت علی خان کو قریب سے گولی مار دی گئی، جس کے نتیجے میں وہ شہید ہو گئے۔ ان پر حملہ کرنے والے سید اکبر نامی افغان شخص کو پولیس نے موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس قتل کے سلسلے میں کسی شخص پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، تاہم بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ اس واقعے کے پیچھے ان کی اپنی حکومت کے بعض ارکان کی سازش ہو سکتی تھی۔ اس واقعے کے پس منظر اور ممکنہ محرکات کے بارے میں متعدد سوالات تاریخی بحث کا حصہ بنے رہے۔ پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم کا قتل ملکی سیاسی تاریخ کا نہایت اہم اور المناک واقعہ تھا، جس نے نئی ریاست کی سیاسی فضا کو گہرے طور پر متاثر کیا۔

لیاقت علی خان کے قتل کے بعد اُن کی اہلیہ رعنا لیاقت کو سفیر بنا کر روانہ کر دی گئیں

پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کی شہادت ملکی تاریخ کا ایک ایسا المناک سانحہ ہے جس کے اثرات نے ریاست کے سیاسی ارتقا کا رخ بدل دیا۔ ان کی شہادت کے بعد اقتدار کی بساط پر سرکاری اہل کاروں کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا اور سیاسی قیادت رفتہ رفتہ انتظامی قوتوں اور ان کے زیرِ اثر سیاست دانوں کے سامنے کمزور پڑتی چلی گئی۔ اس قتل کے پسِ پردہ محرکات، ممکنہ سازش میں شریک کرداروں اور واقعات کی اصل کڑیوں پر آج بھی کئی پردے پڑے ہوئے ہیں۔ اس تاریخی سانحے کا جائزہ لیتے ہوئے ان شواہد، حالات اور سیاسی تبدیلیوں کو سامنے لانا ضروری ہے جنہوں نے پاکستان میں اقتدار کے توازن اور جمہوری نظام کی سمت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

لیاقت علی خان کی زندگی پاکستان کے ابتدائی سیاسی، انتظامی اور آئینی سفر سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے محمد علی جناح کے ساتھ مل کر مسلم لیگ کی تنظیم سازی میں اہم کردار ادا کیا اور قیامِ پاکستان کے بعد ایک نئی ریاست کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی وزارتِ عظمیٰ کو مہاجرین کی آبادکاری، معاشی نظام کی تشکیل، آئینی رہنمائی اور مسئلہ کشمیر جیسے بڑے چیلنجوں کا سامنا رہا۔ 16 اکتوبر 1951ء کو ان کی شہادت نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا خلا پیدا کیا جس کے اثرات آنے والے برسوں میں بھی محسوس کیے جاتے رہے۔لیاقت علی خان کو قائد ملت ("قوم کے رہنما”) اور بعد میں "شہید ملت” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

کراچی میں مزارِ قائد کے احاطے میں ان کی تدفین کی گئی، جب کہ راولپنڈی کے اسی کمپنی باغ کو بعد میں لیاقت باغ کا نام دیا گیا جہاں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ یہ مقام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان کی شہادت کی یاد دلاتا ہے۔ ان کے قتل کے بعد خواجہ ناظم الدین نے وزارتِ عظمیٰ سنبھالی۔ تاہم لیاقت علی خان کی شہادت سے پیدا ہونے والے سوالات اور اس واقعے کی تاریخی اہمیت آج بھی زیرِ بحث رہتی ہے۔

کراچی کے ایک جلسہ عام سے منسوب اس خطاب میں لیاقت علی خان نے قومی اتحاد کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس طرح انگلیاں مل کر مکا بناتی ہیں، اسی طرح تمام پاکستانی بھی متحد ہو جائیں۔ ان کے اس پیغام کا بنیادی مفہوم یہ تھا کہ قومی یکجہتی پاکستان کی اصل قوت ہے اور متحد قوم بڑی سے بڑی طاقت کا مقابلہ کر سکتی ہے۔شہیدِ ملت لیاقت علی خان کی سادگی اور بے لوث قومی خدمت کے حوالے سے یہ روایت مشہور ہے کہ شہادت کے وقت ان کے بینک اکاؤنٹ میں صرف 32 روپے موجود تھے۔ اگرچہ اس مخصوص رقم کی مستند دستاویزی تصدیق دستیاب نہیں، تاہم ان کی ذاتی دولت اور طرزِ زندگی کے بارے میں تاریخی تحریروں میں ان کے ایثار اور سادگی کا ذکر ملتا ہے۔

لیاقت علی خان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اقتدار محض اختیار کا نام نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری اور امانت ہے۔ حکمرانوں اور سرکاری عہدے داروں کا بنیادی فرض عوام کی خدمت، قومی مفاد کا تحفظ اور ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔ دیانت داری، شفافیت، ایثار اور عوامی جواب دہی کسی بھی جمہوری ریاست کی ترقی کے اہم اصول ہیں۔ وطن سے وفا کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ذاتی اور وقتی مفادات کے مقابلے میں قومی مفاد کو ترجیح دی جائے۔
قائدِ ملت کی برسی کے موقع پر قوم کا حق ہے کہ وہ محض رسمی خراجِ عقیدت پیش کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ ان کی سیاسی جدوجہد، ابتدائی ریاستی تعمیر اور آئینی خدمات کا مطالعہ بھی کرے۔ تاریخ کے رہنماؤں کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے کارناموں کو مستند تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے اور ان کے تجربات سے موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے سبق حاصل کیا جائے۔ پاکستان کی تاریخ میں لیاقت علی خان کا مقام اس اعتبار سے اہم ہے کہ انہوں نے آزادی کے فوراً بعد ایک نئی ریاست کے انتظامی، آئینی اور سیاسی معاملات کو سنبھالنے میں مرکزی کردار ادا کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں