سندھ بلڈنگ، عمارتیں گرانے کی کارروائیاں یا محض نمائشی اقدامات؟
شیئر کریں
ناظم آباد نمبر 2میں پلاٹ نمبر E3/1پر انہدامی کارروائی کے بعد تعمیرات
مکینوں کا ڈی جی وسیم شمشاد سے تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ
کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارروائیوں کے باوجود دوبارہ تعمیرات کا معاملہ متعلقہ ادارے کی کارکردگی پر سوالات اٹھانے لگا ہے۔
ناظم آباد نمبر 2، پلاٹ نمبر E-3/1 پر واقع عمارت کی چھٹی منزل پر انہدامی کارروائی کے بعد ساتویں اور آٹھویں منزل کی تعمیر کے معاملے نے مکینوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
مکینوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر مذکورہ عمارت کی چھٹی منزل خلافِ ضابطہ قرار دے کر منہدم کی گئی تھی تو اس کے بعد مزید منزلوں کی تعمیر کیسے ممکن ہوئی؟
اگر ساتویں اور آٹھویں منزل کی تعمیر کے لیے اجازت نامہ جاری کیا گیا ہے تو اس کی منظوری کس بنیاد پر دی گئی اور کیا متعلقہ تعمیرات منظور شدہ نقشے اور بلڈنگ قوانین کے مطابق ہیں؟
مکینوں کے مطابق انہدامی کارروائی کا بنیادی مقصد غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ اور قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوتا ہے ، تاہم اگر کارروائی کے بعد اسی عمارت میں دوبارہ تعمیرات شروع ہوجائیں تو اس سے کارروائی کے نتائج اور نگرانی کے نظام کی افادیت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید سوال کیا کہ اگر عمارت میں اضافی منزلوں کی تعمیر کی اجازت دی جاسکتی تھی تو پہلے انہدامی کارروائی کیوں کی گئی؟ اس معاملے میں انہدامی کارروائی اور مبینہ طور پر مزید تعمیرات کی اجازت کے درمیان مطابقت کا تعین ضروری ہے۔
مکینوں نے ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے وسیم شمشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ ناظم آباد نمبر 2 پلاٹ E-3/1 کے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، انہدامی کارروائی کا ریکارڈ اور اضافی منزلوں سے متعلق منظوریوں کی جانچ کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ تعمیرات کے حوالے سے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے یا نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی قسم کی خلاف ورزی یا غفلت سامنے آئے تو ذمہ دار افسران اور متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی صرف عمارت کا کوئی حصہ گرانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے بعد تعمیرات کی نگرانی اور قوانین پر مستقل عمل درآمد بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
مکینوں نے زور دیا ہے کہ ایس بی سی اے اس معاملے پر اپنا واضح مؤقف پیش کرے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ انہدامی کارروائی کے بعد مزید منزلوں کی تعمیر کس قانونی بنیاد پر ہوئی اور اس حوالے سے ادارے کی ذمہ داریاں کیا تھیں۔


