میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تماشائی

تماشائی

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱۵ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

کیا طاقت کے بل بوتے پر گورنر راج طاقت و اختیار کا ننگا ناچ نہیں جس نے ہماری رہی سہی قانونی و آئینی اخلاقیات کی بھی دھجیاں بکھیر دیں؟کیا یہ اختیار کی رعونت نہیں، ایک نام نہاد اصول جس کی خودساختہ عدالت میں شنوائی نہیں ہو سکتی، کیا یہ بذات خود قانون کی غیر قانونی تعبیر نہیں کہ کسی بھی آمر کا ‘‘ہرکارہ’’ اپنا من پسند ‘‘مہرہ’’ کہیں بھی متعین کردے؟

ہمارے ہاں اختیارات ہونے کا مطلب فسطائیت کے ننگے ناچ کی آزادی ہے ،جس کا اظہار ایک منتخب وزیر اعلیٰ کو غیر آئینی طریقے سے ہٹاکر پوری ڈھٹائی سے کیا جارہا ہے ،یہ سوچ صرف ذہنی طور پر نابالغ معاشروں میں ہوتی ہے ۔بالغ معاشروں میں یہ قدغنیں ہوتی کہ منتخب عوامی نمائندے غیرآئینی اختیارات و طاقت کے خوف سے آزاد ہوکر اپنی ذمہ داریاں ادا کرپائیں۔ لامحدود اور غیر آئینی اختیارات کے استعمال پر کم از کم نگرانی رکھنے کے ساتھ سب سے اہم اصول ہے کہ اسے خوش عقیدگی یعنی ہم آپ سے اس توقع میں سوال و جواب نہیں کریں گے آپ اپنے اختیارات بغیر کسی لالچ و مفاد کے استعمال کریں گے۔
ہم اسے غیر آئینی اختیار کہہ سکتے ہیں جس کو اندھی طاقت کے زعم میں ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا گیا، جہاں خوش عقیدگی کا اصول ٹوٹا ، اس صورت میں تاویل کی گنجائش کہیں باقی نہیں رہی لیکن جس وقت اندھی طاقت کے بل بوتے پرلامحدود اختیار کو آئین و قانون کی اعلانیہ دھجّیاں بکھرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اعلیٰ ترین عدالتوں کے لیے خاموش تماشائی بننا ممکن نہیں رہتا ،مگر کونسی عدالتیں ؟ ہم اسے نام نہاد فلسفے کی چھتری سے تعبیر کریں گے جس کے تلے ایوان ہی نہیں وطن عزیز کی جمہوریت ہمیشہ بوٹوں تلے پامال کی جاتی رہی ،مذاق اڑایا گیا گیا کہ ‘روک سکو تو روک لو’ہم اسے ایک سانحے سے تعبیر کرتے ہیں۔ ‘‘20،20 کروڑ میں بکنے والے اور 20،20 کروڑ میں خریدنے والے بھی کہہ رہے ہیں کہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

ماشاء اللہ ۔۔کیسی زبردست منطق ہے’’ افسوس اس بات کا ہے کہ احباب بھی اس سامری کے مسحور ہیں۔ ایک طرف وہ بھی کہتے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہاں‘‘دونمبری کی ہے ’’لیکن پھر بھی بغلیں بجاتے ہیں۔مجھے اس اخلاقیات کے جنازے پر رونا بھی مشکل لگ رہا ہے کہ زیادہ بات کرنے پر اخلاقیات ہی نہیں دوستیوں، رشتوں و تعلقات کے جنازے پر بھی رونا پڑے گا۔عجب گھٹن کا عالم ہے۔

نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے
گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے

یہ معاشرے کے رہے سہی ضمیر کے قتل کی سازش ہے۔ ہم طاقت و اختیار کے ننگے مظاہرے کے سامنے بند باندھنے کی طاقت نہیں رکھتے لیکن کم از کم اپنی نحیف آواز تو اُٹھا سکتے ہیں۔لیکن جس وقت اس اختیار کو آئین و قانون کی اعلانیہ دھجیاں بکھرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ تو اعلیٰ ترین عدالتوں کے لیے خاموش تماشائی بننا ممکن نہیں رہ سکتا۔ کیا وہ آئین کے دفاع میں اپنا کردار انجام دیں گی ؟

مقتدرہ نے اس مملکت ِخداداد کے قلوب و اذہان سے سب سے پہلے شمعِ حبُّ الوطنی کو ا فسردہ و خاموش کیا کہ جب ریاست ہی اپنے آبنائے وطن کی حرمتِ نفس، حریتِ ضمیر اور حقوقِ شہریہ کی پامالی پر کمر بستہ ہو، جب ایوانِ اقتدار ہی مسندِ جَور و استبداد میں مبدّل ہو جائیں، تو خاکِ وطن سے والہانہ وابستگی بھی ایک جان گداز استفہامیہ بن کر رہ جاتی ہے ،مگر صد حیف کہ اس طوائفُ الملوکیِ اقتدار کا ایک ایسا متعفّن ناسور بھی ہے جس کے خمیرِ سرشت میں نہ 12 اکتوبر 1999 کی وہ تذلیل و تخفیفِ انسانیت کوئی ارتعاش پیدا کر سکی، نہ برف کے سِلّوں پر برہنگی کی وہ رُسوائی دماغِ متحجّر میں کوئی چراغِ ادراک فروزاں کر سکی۔ گویا خوئے استبداد لوحِ ضمیر پر ایسی ثبت ہو چکی ہے کہ گردشِ لیل و نہار بھی نقوشِ سیاہ کو محو کرنے سے قاصر ہے۔اور اس پر مستزاد، اس کے آستان اقتدار پر جبینِ نیاز خم کیے ہوئے درباری کتوروں کا وہ ٹولہ ِ خوشامد پیشہ ہے جس کی بصیرت پر مصلحت اندیشی کے دبیز پردے پڑے ہیں، جن کی زبانوں پر قصیدہ خوانی کے اقفال ہیں اور جن کے ضمیر زرِ مصلحت کے عوض گروی رکھے جا چکے ہیں۔ان کو کون سمجھائے کہ جبر و قہر کی شمشیر سے سکوتِ لب تو مستعار لیا جا سکتا ہے، مگر قلب کی گہرائیوں میں مہرِ وفا ثبت نہیں کی جا سکتی۔ تازیان استبداد بدن کو لرزاں، زبان کو گنگ اور نگاہ کو سرافگندہ تو کر سکتا ہے، مگر روحِ حریت کو تا بہ ابد مسخر نہیں کر سکتا۔
یاد رہے حبُّ الوطنی کسی مقتدرہ کی عطا کردہ سندِ وفاداری نہیں، نہ شہریوں کی خاموشی مظالم کی توثیق ہے۔ جس دیار میں حق گوئی موجبِ تعزیر، حریتِ فکر باعثِ عتاب، اور استفسارِ حق عنوانِ بغاوت ٹھہرے، وہاں وفاداری کے وعظ محض فریبِ نظر اور حبُّ الوطنی کے نعرے محض نقابِ استبداد بن جاتے ہیں۔

وطن پرستی کا تقاضا اربابِ اقتدار کی مدح سرائی نہیں، بلکہ ان کے جَور کا احتساب ہے، کیونکہ خاکِ وطن سے وفا اور مسند نشینوں کی غلامی دو متضاد قضیے ہیں، جنہیں صرف وہی ذہن خلطِ مبحث کا شکار کرتا ہے جس کی لوحِ ضمیر پر مصلحت کی سیاہی جم چکی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں