میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارتی مظاہروں میں ہزاروں افراد گرفتار

بھارتی مظاہروں میں ہزاروں افراد گرفتار

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱۵ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

بھارتی دارالحکومت میں کاکروچ پارٹی کا احتجاج زور پکڑ گیا ، جنتر منتر میں کرفیو لگا دیا گیا۔بھارت میں کروڑوں ووٹرز کے ووٹرز لسٹوں سے اخراج کا معاملہ سامنے آنے پر چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ لینے کے لیے کاکروچ پارٹی کا شروع ہونے والا احتجاج زور پکڑ گیا ہے اور جین زی کی قیادت میں کاکروچ پورے شہر میں پھیل گئے ہیں۔کاکروچ پارٹی کے بانی ابھیجیت اور معروف یوٹیوبر کی گرفتاری اور رہائی کے بعد بھی جین زی الیکشن کمشنر کا استعفیٰ لینے کے مطالبے پر ڈٹ گئے ہیں۔ حالات کشیدہ ہونے پر جنتر منتر پر کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور پولیس نے ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی جنہیں پولیس نے رات بھر حراست میں رکھا وہ کہتے ہیں کہ کسی جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا، مودی اتنا نہ دبائیں کہ سارا ڈر ہی ختم ہو جائے۔دوسری جانب پولیس کے بے دریغ لاٹھی چارج پر مظاہرین مشتعل ہو گئے ہیں اور پورا دہلی شہر مکمل طور پر مفلوج ہو گیا ہے۔ میٹرو اسٹیشن بند، انٹرنیٹ معطل اور شہری گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔مظاہرین کا کہنا ہے بھارتی الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو گھر جانا پڑے گا جب کہ الیکشن کمیشن میں اصلاحات کرنی پڑیں گی۔

راہول گاندھی سمیت اپوزیشن رہنما پہلے ہی اس احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے نہ صرف خود شریک ہو رہے ہیں بلکہ سول سوسائٹی کو بھی احتجاج میں شریک ہونے کی اپیل کی ہے۔ جنتر منتر سمیت پورے شہر میں 30 ہزار پولیس اہلکار اور نیم فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ پولیس طلبہ، کسانوں اور دلت تنظیموں کے ارکان سمیت 10 ہزار کے قریب افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔ دہلی میں پولیس کریک ڈاؤن پر ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی بول اٹھی ہے اور اس نے غیر قانونی گرفتار کیے گئے تمام افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج پر پولیس نے بد ترین کریک ڈاؤن کرتے ہوئے پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے سمیت 3000 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔پارٹی رہنما اجنکیا شنڈے کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشنر کے استعفے تک احتجاج نہیں رکے گا، فورسز نے طاقت کے ذریعے احتجاج ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ اختتام نہیں نئی شروعات ہے، مودی سرکار عوام سے خوف زدہ ہے۔کارکنوں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نوجوانوں سے خوف زدہ ہے، مظاہرین پر تشدد کیا جا رہا ہے، کھانا دیا جا رہا ہے نہ پانی۔ نوجوان انتخابی فہرستوں سے ووٹر غائب کرنے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مظاہرین کے مطابق ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کے دوران 13 کروڑ افراد کے نام حذف کیے گئے ہیں، اس سے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔پارٹی نے کہا ہے کہ وہ جنتر منتر پر اپنے پرامن احتجاج کے لیے تاریخ مقرر کرنے کا مطالبہ کرنے تھانے جا رہے ہیں۔ ‘دہلی پولیس ہمیں 24 گھنٹوں کے اندر تاریخ دے سکتی ہے، ورنہ ہم خود اپنے احتجاج کا اعلان کریں گے۔’اس سے قبل انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں احتجاج کے باعث میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پیر کے روز تقریباً 10 گھنٹوں کے لیے 6 میٹرو سٹیشن بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 12 اکتوبر 2026 کو صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک ان سٹیشنوں پر مسافروں کے داخلے اور اخراج پر پابندی رہے گی۔ادارے نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ شام 4 بجے کے بعد سکیورٹی ادارے صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیں گے اور ضرورت کے مطابق نئی ہدایات جاری کی جائیں گی۔ تاہم ان تمام سٹیشنوں پر میٹرو لائن تبدیل کرنے کی سہولت دستیاب رہے گی۔

بھارت میں نریندر مودی کے اقتدارمیں رہنے کے جنون نے ملک کی معیشت اور عوام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔کولکتہ سے شائع ہونے والے اخبار دی ٹیلی گراف نے رپورٹ کیا ہے کہ بھارتی معیشت بکھر چکی ہے، کرنسی کی قدر میں کمی ہو رہی ہے اور سرمایہ ملک سے باہر جا رہا ہے۔ ترسیلاتِ زر میں کمی کے باعث بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔مودی حکومت ذاتی مفاد کے لیے الیکشن کمیشن جیسے اداروں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ میڈیا پر دباؤ نے بھی مودی اور امیت شاہ کے اقتدار میں برقرار رہنے میں اہم کردار ادا کیا۔بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اس وقت ایک ایسے نظام کے تحت کام کر رہا ہے جہاں اشرافیہ کا ایک چھوٹا طبقہ حکمرانوں کو سہارا دے رہا ہے۔ مودی نے ووٹ بٹورنے کیلئے ہندؤں میں یہ خوف پیدا کیا ہے کہ مسلمان ان پر حکمرانی کرنا شروع کر دیں گے۔

مودی حکومت کا ساتھ دینے کیلئے بھارتی میڈیا بھی جین زی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے خلاف ہو گیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے منشور میں مختلف اداروں سمیت بھارت کے میڈیا کو بھی نشانہ بنایا۔ سی جے پی نے اڈانی اور امبانی کے میڈیا گروپس کے لائسنس ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جین زی تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے بھارتی میڈیا گروپس سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔بھارتی صحافی ابھجیت دیپکے نے کہا کہ اگر بھارتی میڈیا ہمیں دہشت گرد ہی کہتا رہے گا تو پھر ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، بھارت میں پچھلے 12 سال سے مودی حکومت پر سوال کرنے والوں کو میڈیا ملک دشمن کہتا رہا ہے۔جین زی تحریک کے مشہور ہونے کے بعد مودی حکومت نے سی جے پی کا ایکس اکاونٹ بھی بند کردیا۔

بھارتی گودی میڈیا مسائل سے توجہ ہٹا کرجھوٹ اورپراپیگنڈے کی مشین بن چکا ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران نوجوانوں نے گودی میڈیا کی قلعی کھول دی۔ بھارتی نوجوانوں نے بھارتی گودی میڈیا کو دلال اور چورقراردیدیا ۔ نوجوانوں نے گودی میڈیا کوآئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اتنا دلال میڈیا پوری دنیا میں نہیں ہے جتنا بھارت میں گودی میڈیا ہے۔ گودی میڈیا صرف مودی کی تشہیر اوراس کو بہتر دکھانے کیلئے ساری کوششیں کرتا ہے۔ گودی میڈیا بی جے پی حکومت کے پیسوں پرچلنے والا میڈیا ہے جس کاعوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما ابجیت دیپکے نے کہا کہ نوجوانوں کے بھرپورمطالبہ پرمیں نے گودی میڈیا پرنہ جانے کا وعدہ کیا ہے۔گودی میڈیا کو صرف سنسنی خیزی اور شرانگیزی سے مطلب ہے اوروہ نوجوانوں کے مسائل پر توجہ نہیں دیتے۔..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں