بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد
شیئر کریں
فیصلہ کمرہ عدالت میں آکرسنایا۔تحریری حکمنامہ تاحال جاری نہیں ہوسکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفاقی آئینی عدالت نے القادرٹرسٹ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کی معطلی کی درخواست خارج کردی۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقرنجفی پر مشتمل 2رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔ بینچ نے صبح محفوظ کیاگیا فیصلہ کمرہ عدالت میں آکرسنایا۔تحریری حکمنامہ تاحال جاری نہیں ہوسکا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کا بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صدر کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ہمارے آرڈر کا انتظار کریں ۔ بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر بطور وکیل پیش ہوئے۔
جبکہ پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، نیاز اللہ نیازی ، سید محمد علی بخاری اور خالد یوسف چوہدری کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کا کو صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ کا رکن عدالت میں موجود نہیں تھا۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ درخواست 61 دن زائدالمیعاد ہے، درخواست گزار اڈیالہ جیل میں قید ہیں اس لیے زائدالمیعاد کی معافی دی جاتی ہے۔
سلمان صفدر کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ خواتین کو تکنیکی بنیادوں پر ضمانت سے محروم نہیں کیا جا سکتا، معاملہ 13 ماہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے اور نیب نے 16 مرتبہ التوا لیا ہے،
درخواست گزار خاتون کی کل 7 سال سزا ہے، درخواست گزار پر جرم کے ارتکاب میں معاونت اور سہولت کاری کا الزام ہے۔ سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ پہلے میں اپیل سنی جائے گی،
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے فیصلہ لکھ دیا، میں اپنے دلائل 3 منٹ میں مکمل کر لوں گا، 16 میں سے 14 سماعتوں پر معطلی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دینے کے حوالے سے نیب نے دلائل دیے،
عدالت نے درخواست قابل سماعت قرار دی، جج نے کہا سزا معطلی کی درخواست میں کیس کو میرٹس پر نہیں سن سکتا۔
جسٹس علی باقرنجفی کا کہنا تھا کہ کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے مین اپیل سماعت کے لیے مقرر کی اور کیا کوئی سماعت ہوئی۔ اس پر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ نیب نے 13 ماہ میں 16 مرتبہ التوا مانگا، کیس 5 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر ہوا تھا اور پھر غیر معینہ مدت تک ملتوی ہوگیا، کیس میں ہزاروں صفحات اور 35گواہ ہیں، کیس کے دلائل میں کئی ہفتے لگیں گے۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے مئوکلان سے ملنے کی اجازت نہیں مل رہی تاکہ ہم ان سے کیس چلانے کے حوالے سے ہدایات لے سکیں کہ کون عدالت میں ان کی جانب سے بطور وکیل پیش ہوگا۔
سلمان صفدر نے دوران سماعت چیٔرمین نیب کی جانب سے میاں نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کیس کا حوالہ دیا۔ سلمان صفدر کا کہنا سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کے کیس میں 41 صفحات کا فیصلہ لکھنے کو غیر ضروری قرار دیا۔
اس دوران عدالت میں 10 منٹ کا لگیا ٹائمر بج گیا چیف جسٹس امین الدین خان کا سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ کا وقت ختم ہو گیا، اپنے پوائنٹس دے دیں۔
سلمان صفدر کا کہنا کہ درخواست گزار کو بغیر سنے سزا دی گئی۔ سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ کیس کی اپیل کی سماعت میں بہت وقت لگے گا، میرا آج ضمانت کا حق بنتا ہے ۔
جسٹس علی باقرنجفی کا سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا کہ اپنی تحریری معروضات دے دیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج ہی اپنے دلائل جمع کروادیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا ہمارے آرڈر کا انتظار کریں۔ واضح رہے کہ دوران سماعت ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب ناصر محمود مغل موجود تھے۔


