کالے بچھوؤں کی فروخت کے 24 ارب روپے بینکوں میں پھنس گئے
شیئر کریں
جرمن کمپنی کو بچھو فروخت کرنے والے پاکستانیوں کا سندھ ہائیکورٹ سے رجوع
عدالت عالیہ نے اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ اور چار نجی بینکوں سے ایک ماہ میں جواب طلب کرلیا
……………………………..
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کالے بچھوؤں کی فروخت کے عوض پاکستانی بینکوں میں منتقل ہونے والی مبینہ طور پر 24 ارب روپے کی رقم جاری نہ کیے جانے سے متعلق درخواستوں پر اسٹیٹ بینک سمیت دیگر فریقین کو ایک ماہ میں جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے جرمن کمپنی کو بچھو فروخت کیے، جس کے عوض قانونی بینکاری ذرائع سے رقم پاکستان منتقل کی گئی، تاہم متعلقہ بینک تاحال رقم جاری نہیں کررہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو محمد صدیق، رضی، ریاض احمد اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزاروں کے وکیل ساجد محبوب ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی شہریوں نے جرمن کمپنی کو تقریباً 23 ارب روپے مالیت کے کالے بچھو فروخت کیے تھے، جبکہ 2014کے معاہدے کے تحت کمپنی نے بارکلیز بینک کے ذریعے 24 ارب روپے پاکستانی بینکوں میں منتقل کیے۔ ان کے مطابق رقم کی منتقلی کے باوجود درخواست گزاروں کو ادائیگی نہیں کی جارہی۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بچھوؤں کی فروخت اور اس کے عوض حاصل ہونے والی رقم کی منتقلی قانونی طریقہ کار کے مطابق کی گئی اور زرمبادلہ قومی خزانے کے حوالے کیا گیا، تاہم متعلقہ بینک غیر ملکی ترسیلات کی وصولی، تصدیق اور رقم کی فراہمی کے معاملے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ رقم کی عدم ادائیگی کے معاملے پر نجی بینکوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسٹیٹ بینک کے کسی سینئر افسر کے ذریعے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ رقم کی منتقلی، وصولی اور ادائیگی میں تاخیر کی وجوہات سامنے آسکیں۔
درخواست میں اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ اور چار نجی بینکوں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے یہ بھی استدعا کی کہ تمام متعلقہ سرکاری اور نجی بینکوں کو معاملے سے متعلق دستاویزی اور برقی ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت کی جائے، تاکہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے دوران اصل حقائق کا تعین کیا جاسکے۔ سماعت کے دوران اسٹیٹ بینک سمیت متعدد بینکوں کی جانب سے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی گئی، جس پر عدالت نے فریقین کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے جواب داخل کرانے کا حکم دیا۔


