سندھ بلڈنگ، ضلع کورنگی میں رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پلازے
شیئر کریں
ماڈل کالونی، شیٹ نمبر 5کے پلاٹ نمبر 40پر عمارت تعمیر، ضوابط نظرانداز
اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمران رمضان آرائیں، بلڈنگ انسپکٹر کاشف خان ملوث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضلع کورنگی کی ماڈل کالونی میں رہائشی پلاٹوں پر کمرشل نوعیت کی تعمیرات کا معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ماڈل کالونی، شیٹ نمبر 5 کے پلاٹ نمبر 40 پر مبینہ طور پر تعمیراتی ضوابط کے برعکس عمارت کی تعمیر کے حوالے سے علاقے کے رہائشیوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے معاملے کی فوری جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا ہے۔
مکینوں کے مطابق رہائشی علاقوں میں تعمیراتی قوانین اور منظور شدہ نقشوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں علاقے کا بنیادی رہائشی تشخص متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ شہری سہولتوں پر بھی اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ رہائشی پلاٹوں پر کسی بھی قسم کی کمرشل تعمیرات سے قبل متعلقہ اداروں سے قانونی اجازت، منظور شدہ نقشے اور مقررہ تعمیراتی ضوابط کی پابندی یقینی بنانا ضروری ہے۔
ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ماڈل کالونی کے مذکورہ پلاٹ پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کی قانونی حیثیت، عمارت کے منظور شدہ نقشے اور تعمیراتی اجازت ناموں کی جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔ تاہم، اس حوالے سے متعلقہ محکمے کا باضابطہ مؤقف اور سرکاری ریکارڈ کی تصدیق سامنے آنا ضروری ہے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔
دوسری جانب اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمران رمضان آرائیں اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف خان پر تعمیراتی ٹھیکیداروں کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے متعلقہ ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر 40 پر تعمیر ہونے والی عمارت کے منظور شدہ نقشے ، تعمیراتی اجازت ناموں، زمین کے مجاز استعمال اور موقع پر جاری تعمیراتی کام کا ریکارڈ چیک کیا جائے۔
اگر کسی قسم کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے ۔مکینوں نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرتے ہوئے یہ بھی معلوم کیا جائے کہ آیا تعمیراتی کام متعلقہ قوانین اور منظور شدہ منصوبے کے مطابق جاری ہے یا نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ رہائشی علاقوں کی منصوبہ بندی، شہری سہولتوں اور قانون کی بالادستی کے تحفظ کے لیے متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے حقائق منظر عام پر لائے جائیں اور اگر کسی اہلکار یا تعمیراتی ذمہ دار کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔


