میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
دنیا روشنیوں میں اور ایک بچی اندھیرے میں مر گئی!

دنیا روشنیوں میں اور ایک بچی اندھیرے میں مر گئی!

جرات ڈیسک
جمعه, ۹ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

کرسمس کی رات تھی۔ برف آسمان سے اتر رہی تھی، شہر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا، گھروں کے اندر گرم چولہے جل رہے تھے، میزوں پر کھانے سجے تھے اور لوگ اپنے اپنے گھروں میں خوشیاں منا رہے تھے۔ مگر اسی روشن شہر کی ایک گلی میں ایک ننھی سی بچی ننگے پاؤں، پھٹے ہوئے کپڑوں میں، ہاتھ میں ماچس کی ڈبیاں لیے بھٹک رہی تھی۔ وہ سارا دن ماچس بیچتی رہی، مگر کسی نے اس سے ایک ڈبیا نہ خریدی۔ وہ
گھر واپس جانے سے بھی خوفزدہ تھی، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ خالی ہاتھ لوٹنے پر اسے مار پڑے گی۔ آخرکار سردی سے کانپتی ہوئی وہ ایک دیوار کے کونے میں بیٹھ گئی اور ایک ماچس جلائی۔ اس ننھی سی لو میں اسے گرمی دکھائی دی، دوسری میں کھانا، تیسری میں کرسمس کا درخت اور پھر اسے اپنی مرحوم دادی نظر آئیں۔ وہ ایک ایک کر کے ماچسیں جلاتی گئی، یہاں تک کہ آخری روشنی کے ساتھ اس کی زندگی بھی بجھ گئی۔صبح
لوگوں نے اسے مردہ پایا۔یہ ہانس کرسچن اینڈرسن کی کہانی ہے، مگر حقیقت میں یہ صرف ایک بچی کی کہانی نہیں؛ یہ پوری انسانی تاریخ کا
ایک مختصر مگر خوفناک خلاصہ ہے۔

انسان نے ہزاروں سال میں بے شمار چیزیں دریافت کیں۔ اس نے آگ کو قابو کیا، پہیہ ایجاد کیا، زراعت سیکھی، شہر بنائے، سلطنتیں قائم کیں، سمندر عبور کیے، آسمان کو فتح کیا، چاند تک پہنچا، ایٹم کو توڑا اور مصنوعی ذہانت تک پہنچ گیا۔ اس نے فلسفے لکھے، آئین بنائے، انسانی
حقوق کے منشور مرتب کیے، آزادی اور مساوات کے نعرے ایجاد کیے اور دنیا کو بتایا کہ انسان آزاد اور باوقار پیدا ہوتا ہے۔لیکن تاریخ کے
کسی بھی لمحے میں ایک ننھا سا سوال اس سارے غرور کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے:اگر انسان اتنا ترقی یافتہ ہوگیا ہے تو پھر ایک بچہ بھوکا کیوں ہے؟یہ سوال نیا نہیں۔ اس کی جڑیں انسانی تہذیب کے آغاز تک جاتی ہیں۔قدیم مصر کے اہرام آج بھی انسان کی تعمیراتی عظمت کی علامت ہیں، مگر ان کے سائے میں محنت کرنے والے بے شمار انسانوں کی زندگی تاریخ کے صفحات میں کہیں گم ہوگئی۔

قدیم روم نے قانون، سیاست، فن تعمیر اور فلسفے کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، لیکن اسی روم میں غلام انسانوں کی حیثیت سے خریدے اور
بیچے جاتے تھے۔ یونان نے جمہوریت اور فلسفے کے بیج بوئے، مگر اس کے سیاسی حقوق سب انسانوں کے لیے یکساں نہیں تھے۔ قرونِ وسطیٰ
نے عظیم گرجا گھر تعمیر کیے، مگر کسانوں کی زندگی بھوک، محنت اور طبقاتی بندشوں میں گھری رہی۔پھر صنعتی انقلاب آیا۔انسان نے مشین بنائی
اور پیداوار بڑھ گئی۔ دولت میں اضافہ ہوا، شہر پھیل گئے، فیکٹریاں بلند ہوئیں، مگر انہی فیکٹریوں میں بچے بھی کام کرتے رہے۔ ایک طرف
صنعتی ترقی کا جشن تھا اور دوسری طرف ننھے ہاتھ مشینوں کے پہیوں میں پس رہے تھے۔یہ انسانی تاریخ کا عجیب تضاد ہے:انسان جتنا
طاقتور ہوتا گیا، اس کے پاس دوسرے انسان کے دکھ کو نظرانداز کرنے کے اتنے ہی زیادہ طریقے پیدا ہوتے گئے۔بادشاہ کے زمانے میں
ظلم ایک محل سے نکلتا تھا؛ جدید زمانے میں ظلم کبھی قانون بن کر آتا ہے، کبھی معاشی نظام بن کر، کبھی جنگ کے نام پر، کبھی قومی مفاد کے نام پر
اور کبھی ترقی کے خوبصورت لفظوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔یہاں اینڈرسن کی بچی اچانک انسانی تاریخ کے درمیان کھڑی ہوجاتی ہے۔وہ
سوال کرتی ہے کہ تہذیب آخر کس کے لیے ہے؟کیا تہذیب صرف روشن عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف بلند شرحِ نمو ہے؟ کیا خوشحالی
صرف بڑے گھروں، شاہراہوں اور بازاروں میں موجود ہے؟ اگر ایک معاشرہ اپنے کمزور ترین انسان کو سردی، بھوک، خوف اور ذلت کے
حوالے کر دے تو کیا اسے واقعی مہذب کہا جاسکتا ہے؟فلسفہ نے اس سوال کا جواب صدیوں سے تلاش کیا ہے۔سقراط نے انسان کو اپنے
آپ کو جاننے کی دعوت دی۔ ارسطو نے اچھے معاشرے کو ایسی اجتماعی زندگی سے جوڑا جس میں انسان اپنی صلاحیتیں پوری کرسکے۔

اسٹوئک فلسفیوں نے انسانی اخوت اور مشترک انسانی فطرت کی بات کی۔ کانٹ نے کہا کہ انسان کو کبھی محض ایک وسیلہ نہیں بلکہ ہمیشہ
ایک مقصد سمجھنا چاہیے۔ روسو نے عدم مساوات کے انسانی نتائج پر سوال اٹھایا۔ مارکس نے معاشی طاقت، طبقاتی تعلقات اور استحصال کو
انسانی زندگی کے مرکز میں رکھ کر دیکھا۔ بعد کے فلسفیوں نے آزادی، وجود، اجنبیت اور انسانی ذمہ داری کو موضوع بنایا۔مگر فلسفے کی تمام
کتابوں کے باوجود انسان بار بار وہی غلطی دہراتا رہا۔جنگیں ہوئیں۔سلطنتیں پھیلیں۔نوآبادیاں بنیں۔غلام منڈیاں قائم رہیں۔نسل
کشیاں ہوئیں۔لاکھوں انسان بھوک اور بیماری سے مرے۔پھر بیسویں صدی آئی، جسے علم، سائنس اور جدیدیت کی صدی سمجھا گیا، مگر اسی
صدی نے دو عالمی جنگیں، ہولوکاسٹ، ایٹمی بم اور بے مثال انسانی تباہی بھی دیکھی۔یہاں ایک انتہائی اہم انسانی نفسیاتی حقیقت سامنے
آتی ہے: ظلم صرف ظالم کی طاقت سے قائم نہیں رہتا؛ کبھی کبھی وہ دیکھنے والوں کی خاموشی سے بھی طاقت حاصل کرتا ہے۔ایک شخص ظلم کرتا
ہے، دوسرا اسے برداشت کرتا ہے، تیسرا دیکھتا ہے، چوتھا خاموش رہتا ہے اور پانچواں اسے معمول سمجھنے لگتا ہے۔ پھر غیر معمولی چیز معمول
بن جاتی ہے۔نفسیات میں انسانی بے حسی، اجتماعی رویوں اور تماشائی اثر جیسے تصورات ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ انسان ہمیشہ ظلم کے
سامنے فوراً مزاحمت کیوں نہیں کرتا۔ خوف، مفاد، عادت، سماجی دباؤ اور یہ احساس کہ "کوئی اور کچھ کر دے گا” انسان کو خاموش کر سکتے
ہیں۔اور جب ایک پورا معاشرہ خاموش ہوجائے تو ظلم صرف جرم نہیں رہتا؛ وہ نظامِ زندگی بن جاتا ہے۔

دی لِٹل میچ گرل(The Little Match Girl) میں شاید سب سے بڑا المیہ بچی کی موت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس وقت مرتی ہے
جب دنیا زندہ ہے۔لوگ اپنے گھروں میں موجود ہیں۔کھانے موجود ہیں۔چراغ موجود ہیں۔گرمی موجود ہے۔خوشیاں موجود ہیں۔

صرف ایک چیز موجود نہیں: اس بچی کے لیے انسان۔وہ ماچس جلاتی ہے اور ہر شعلہ اسے وہ دنیا دکھاتا ہے جو حقیقی دنیا نے اسے دینے سے
انکار کردیا تھا۔ گرم چولہا اس لیے نظر آتا ہے کیونکہ حقیقی دنیا میں گرمی نہیں۔ کھانے سے بھری میز اس لیے دکھائی دیتی ہے کیونکہ اس کے پیٹ
میں بھوک ہے۔ کرسمس کا درخت اس لیے دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس کی زندگی میں خوشی نہیں۔ دادی اس لیے دکھائی دیتی ہیں کیونکہ اس کی دنیا
میں محبت باقی نہیں رہی۔یہاں کہانی غربت سے نکل کر انسانی نفسیات میں داخل ہوجاتی ہے۔انسان اکثر وہی خواب دیکھتا ہے جس سے
حقیقی زندگی اسے محروم رکھتی ہے۔پاکستان میں اس کہانی کی گونج اور بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ہم نے بھی آزادی کے بعد ایک ایسے ملک
کا خواب دیکھا تھا جہاں انسان کو عزت، تعلیم، روزگار، انصاف اور امن ملے۔ ہماری تاریخ میں بار بار ترقی، جمہوریت، خوشحالی اور عوامی
فلاح کے وعدے کیے گئے۔ آئین نے شہری حقوق کی ضمانت دی، ریاستی ادارے قائم ہوئے، حکومتیں آئیں اور گئیں، سیاسی نظریات
بدلے، مگر ایک بنیادی سوال آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے:کیا ریاست کی ترقی کا مطلب صرف ریاستی عمارتوں کی ترقی ہے یا اس
انسان کی زندگی میں بہتری بھی ہے جو ان عمارتوں کے باہر کھڑا ہے؟پاکستان کے شہروں میں بلند عمارتیں بھی ہیں اور فٹ پاتھ پر سوتے
ہوئے لوگ بھی۔ بڑے بازار بھی ہیں اور ان کے باہر بھیک مانگتے بچے بھی۔ جدید اسپتال بھی ہیں اور علاج کے لیے ترستے خاندان بھی۔
نجی اسکول بھی ہیں اور ایسے بچے بھی جو تعلیم کے بجائے محنت پر مجبور ہیں۔ سیاسی تقریریں بھی ہیں اور ان تقریروں کے درمیان خاموش کھڑی
ہوئی غربت بھی۔یہ تضاد صرف معاشی نہیں؛ یہ اخلاقی سوال ہے۔جب ایک معاشرہ مسلسل غربت، بے روزگاری، ناانصافی، بدعنوانی اور
محرومی دیکھتا ہے تو اس کی نفسیات بھی تبدیل ہوتی ہے۔ انسان پہلے حیران ہوتا ہے، پھر پریشان، پھر عادی اور آخرکار بے حس۔یہی وہ
مرحلہ ہے جہاں قومیں خطرناک حد تک خاموش ہوجاتی ہیں۔

ہم اعداد سنتے ہیں، خبریں پڑھتے ہیں، چند لمحوں کے لیے افسوس کرتے ہیں، پھر اپنی روزمرہ زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک اور
بچہ، ایک اور خاندان، ایک اور حادثہ، ایک اور بھوک اور معاشرہ آگے بڑھ جاتا ہے۔مگر تاریخ کبھی آگے نہیں بڑھتی؛ وہ اپنے سوالات ساتھ
لے کر چلتی ہے۔اینڈرسن کی بچی آج بھی اسی سوال کے ساتھ ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔وہ پوچھ رہی ہے:اگر تمہارے پاس روشنی تھی تو
مجھے اندھیرے میں کیوں چھوڑا؟اگر تمہارے پاس روٹی تھی تو میں بھوکی کیوں تھی؟اگر تمہارے پاس گھر تھے تو میں سڑک پر کیوں تھی؟اگر
تمہارے پاس محبت تھی تو میں خوف میں کیوں جی رہی تھی؟اگر تمہارے پاس قانون تھا تو کمزور ہمیشہ بے بس کیوں رہا؟اور اگر تم واقعی
انسان تھے، تو میرے مرنے سے پہلے تمہیں میری چیخ سنائی کیوں نہیں دی؟
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں