پاکستان میں نوجوانوں کی سیاسی و سماجی شمولیت، طلبہ یونین کی بحالی
شیئر کریں
کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے ۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کی سب سے متحرک، توانا اور تبدیلی کی خواہش
رکھنے والی قوت ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی ایک نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے ، اس لیے قومی ترقی، جمہوری استحکام اور معاشرتی بہتری
کے لیے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ نوجوان اگر اپنی توانائی، تعلیم اور فکری صلاحیت کو مثبت سمت
میں استعمال کریں تو وہ معاشرے میں تعمیری تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
پاکستان میں نوجوانوں کی سیاسی اور سماجی شمولیت کا مطلب صرف انتخابات میں ووٹ ڈالنا یا سیاسی جلسوں میں شرکت کرنا نہیں۔ اس کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہے ۔ نوجوان اپنے تعلیمی اداروں، مقامی معاشروں، سماجی تنظیموں اور مختلف عوامی سرگرمیوں کے ذریعے بھی قومی
زندگی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ معاشرے کے مسائل کو سمجھنا، ان پر سنجیدہ گفتگو کرنا، اپنی رائے کا اظہار کرنا اور دوسروں کی رائے کا احترام کرنا بھی ایک ذمہ دار شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔
تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو سیاست میں مؤثر شمولیت کے مواقع ملنے چاہئیں تاکہ وہ اپنے مسائل اور اپنی ترجیحات کو خود بہتر
انداز میں سامنے لاسکیں۔ نوجوان صرف سیاسی جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں میں تعداد بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی تعلیم، صلاحیت اور فکری
شعور کے ذریعے قومی معاملات میں مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور فیصلہ سازی کے اداروں میں نوجوانوں کی مناسب
نمائندگی سے ان کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان کے حل کے لیے عملی تجاویز سامنے لانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ انہیں محض ووٹر یا کارکن
سمجھنے کے بجائے پالیسی سازی اور عوامی نمائندگی کے عمل میں بھی آگے آنے کے مواقع دیے جانے چاہئیں۔ نوجوانوں کی بامعنی سیاسی و
سماجی شمولیت ملک کے مستقبل کو زیادہ ذمہ دار، باشعور اور متحرک بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہوسکتی ہے ۔
جمہوری معاشرے میں ووٹ نوجوانوں کی اہم شہری ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔ نوجوان ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کے انتخاب
میں حصہ لیتے ہیں اور اس طرح ریاستی و سیاسی نظام میں اپنی آواز شامل کرتے ہیں۔ تاہم ووٹ کا استعمال محض کسی شخصیت یا جماعت کی
حمایت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ امیدواروں کے منشور، عوامی مسائل کے بارے میں ان کے مؤقف اور عملی ترجیحات کو سمجھ کر فیصلہ کرنا
بھی ضروری ہے ۔ سیاسی شعور کا مطلب یہی ہے کہ نوجوان جذبات کے بجائے معلومات اور سوچ سمجھ کر اپنی رائے قائم کریں۔
نوجوانوں کی سیاسی تربیت کا ایک اہم پہلو برداشت اور مکالمہ بھی ہے ۔ اختلاف رائے جمہوری معاشرے کا لازمی حصہ ہے ۔ کسی
نوجوان کا کسی سیاسی جماعت، نظریے یا پالیسی سے اختلاف ہونا اس کا حق ہے ، لیکن اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنا معاشرے کے
لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے ۔ تعلیمی اداروں اور معاشرتی سطح پر نوجوانوں کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ مختلف آرا رکھنے والے افراد کے ساتھ
دلیل، احترام اور تحمل کے ساتھ گفتگو کیسے کی جاتی ہے ۔
پاکستان میں نوجوانوں کی سماجی شمولیت بھی سیاسی شمولیت جتنی اہم ہے ۔ اپنے محلے ، شہر اور تعلیمی ادارے کے مسائل کو سمجھنا اور ان کے
حل کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنا شہری شعور کی علامت ہے ۔ صفائی، تعلیم، صحت، ماحول، خون کے عطیات، ضرورت مند افراد کی مدد اور
مختلف فلاحی سرگرمیوں میں نوجوانوں کی شرکت معاشرے کو مضبوط بنا سکتی ہے ۔ ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ معاشرے کی بہتری میں
شہریوں کی اپنی ذمہ داری بھی اہم ہوتی ہے ۔
نوجوان خواتین کی شمولیت بھی قومی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے ۔ تعلیم یافتہ نوجوان خواتین کو بھی سماجی، تعلیمی اور سیاسی سرگرمیوں میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے برابر مواقع ملنے چاہئیں۔ خواتین کی آواز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا معاشرے کے مختلف مسائل کو زیادہ
وسیع تناظر میں سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے ۔ نوجوان خواتین تعلیم، صحت، سماجی بہبود اور دیگر شعبوں میں مثبت کردار ادا کرسکتی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو صرف انتخابی موسم میں متحرک کرنے کے بجائے انہیں مستقل طور پر سیاسی تربیت
اور پالیسی مباحث کا حصہ بنائیں۔ نوجوانوں کو قومی اور مقامی مسائل پر گفتگو، منشور کی تیاری، تحقیق اور عوامی رابطے کے عمل میں شامل کیا
جائے تو ان میں سیاسی ذمہ داری کا احساس مزید مضبوط ہوسکتا ہے ۔ سیاست میں آنے والے نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی نمائندگی
صرف عہدہ حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ لوگوں کے مسائل سننے ، ان کی ترجیحات سمجھنے اور ان کے حل کے لیے کام کرنے کا نام ہے ۔
پاکستان کو آج تعلیم، روزگار، مہنگائی، صحت، امن و امان، ماحولیاتی مسائل اور دیگر کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ان مسائل کا تعلق براہ راست نوجوان نسل کے مستقبل سے بھی ہے ۔ اس لیے نوجوانوں کو قومی مسائل پر خاموش تماشائی بنانے کے بجائے انہیں تعمیری بحث اور حل تلاش کرنے کے عمل کا حصہ بنانا ضروری ہے ۔ تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور مقامی سطح کی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں میں قیادت، مکالمے اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور پیدا کیا جاسکتا ہے ۔
نوجوانوں کی سیاسی و سماجی شمولیت کا مقصد کسی ایک جماعت یا سیاسی نظریے کو مضبوط کرنا نہیں بلکہ ایسے باشعور شہری تیار کرنا ہونا چاہیے جو اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہوں۔ ایک ایسا نوجوان جو اپنے حقِ رائے دہی کو سمجھتا ہو، اختلاف رائے کا احترام کرتا ہو، معاشرتی مسائل میں اپنا کردار ادا کرتا ہو اور قومی معاملات پر سنجیدگی سے غور کرتا ہو، وہ ملک کے جمہوری اور سماجی نظام کے لیے ایک مثبت قوت بن سکتا ہے ۔نوجوانوں کو محض مستقبل کا سرمایہ کہنے کے بجائے آج کے پاکستان میں بھی ان کی آواز، صلاحیت اور قیادت کو مناسب جگہ دی جائے ۔ نوجوان اگر ذمہ داری کے ساتھ سیاست اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کریں تو وہ نہ صرف اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرسکتے ہیں بلکہ پاکستان کے بہتر اور مضبوط مستقبل کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
نوجوانوں کی سیاست میں بامعنی شمولیت کے لیے تعلیمی اداروں میں سیاسی اور جمہوری تربیت کے مواقع بھی اہم ہیں۔ طلباء یونین اس سلسلے میں ایک مؤثر پلیٹ فارم کا کردار ادا کرسکتی ہیں، کیونکہ تعلیمی ادارے نوجوانوں میں قیادت، تنظیم سازی، مشاورت اور اجتماعی فیصلوں کی تربیت کے ابتدائی مراکز ہوتے ہیں۔ طلباء یونین کو سیاست کی نرسریاں بھی کہا جاتا ہے ، جہاں نوجوان عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے قیادت کے بنیادی اصول سیکھ سکتے ہیں۔ ایک فعال طلباء یونین طلبہ کو اپنے تعلیمی اور انتظامی مسائل متعلقہ حکام تک منظم انداز میں پہنچانے ، اپنے ساتھی طلبہ کی نمائندگی کرنے اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا طریقہ سکھا سکتی ہے ۔ اس عمل سے نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اختلاف کے باوجود مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کیسے کیا جاتا ہے ۔ تاہم طلباء یونین کی سرگرمیوں کو تعلیمی ماحول، قانون اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے دائرے میں رہنا چاہیے تاکہ تعلیمی ادارے سیاسی کشمکش کے مراکز بننے کے بجائے نوجوانوں کی فکری اور قیادی تربیت کے مراکز رہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے بہت سے افراد گزرے ہیں جنہوں نے اپنی عملی سیاسی زندگی کا آغاز طلبہ سیاست یا تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں سے کیا۔ اس تجربے نے انہیں تنظیم سازی، عوامی رابطے ، تقریر، مذاکرات اور اجتماعی معاملات کو سمجھنے کے مواقع فراہم کیے ۔ آج بھی اگر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سیاست میں آگے لانا ہے تو انہیں محض انتخابی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے سیاسی تربیت کے باقاعدہ مواقع فراہم کرنا ہوں گے ۔
سیاسی جماعتیں بھی نوجوانوں کے لیے مطالعاتی نشستیں، پالیسی مباحث، تربیتی پروگرام اور عوامی مسائل پر مشاورتی سرگرمیاں شروع کرسکتی ہیں، تاکہ سیاست میں آنے والے نوجوان محض نعروں کے بجائے مسائل کی نوعیت، پالیسی سازی اور عوامی نمائندگی کے تقاضوں کو سمجھ سکیں۔
نوجوانوں کو سیاست میں جگہ دینے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر نوجوان کو سیاسی کارکن بننا ضروری ہے ، بلکہ مقصد یہ ہے کہ جو نوجوان سیاسی اور عوامی خدمت میں دلچسپی رکھتے ہیں، انہیں آگے بڑھنے کا منظم اور باوقار راستہ ملے ۔ اگر طلباء یونین اور نوجوانوں کی سیاسی تربیت کو مثبت، تعمیری اور جمہوری اصولوں سے جوڑا جائے تو تعلیمی ادارے مستقبل کی قیادت تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یوں نوجوان اپنی نسل کے مسائل کو خود سمجھنے ، ان کی ترجیحات طے کرنے اور ان کے حل کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے نوجوان محض مستقبل کے وارث نہیں بلکہ آج کے پاکستان کی تعمیر میں بھی فعال شریک بن سکتے ہیں۔
نوجوان نسل، خاص طور پر طلبہ، پاکستان اور جمہوریت کی بقا کے لیے اپنا اہم کردار ادا کریں۔ سیاسی جماعتوں سے نظریاتی اختلافات کو
بالائے طاق رکھتے ہوئے عدم برداشت کے بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ لسانی اور مذہبی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفادات
پر بھرپور توجہ دیں تاکہ پاکستان مزید مستحکم ہو۔ اس وقت پاکستان کو دہشت گردی کا بھی سامنا ہے ، ایسے حالات میں نوجوانوں کے درمیان
بھائی چارہ اور اتحاد قائم رہنا انتہائی ضروری ہے ۔ پاکستان کی سالمیت اور بقا میں ہی ہم سب کی بقا ہے ۔ نوجوانوں کو نفرت کی سیاست کے
بجائے امن، محبت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے ، کیونکہ مضبوط اور مستحکم پاکستان ہی ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ
مستقبل کی ضمانت ہے ۔
٭٭٭


