میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حکومت کو کون دیکھ رہا ہے؟ریاست خبر کی نگران، مگر سرکاری فیصلوں کا احتساب برسوں فائلوں میں دفنن

حکومت کو کون دیکھ رہا ہے؟ریاست خبر کی نگران، مگر سرکاری فیصلوں کا احتساب برسوں فائلوں میں دفنن

جرات ڈیسک
بدھ, ۷ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

نجم انوار
۔۔۔۔
قسط سوم

 

(فیک نیوز کے نام پر نگرانی)

٭حکومت کو خبر کی نگرانی کا حق ہے ۔لیکن خبر کو حکومت کی نگرانی کا حق بھی ہے ۔اور دونوں کے درمیان فیصلہ طاقت سے نہیں ہونا چاہیے ۔
دستاویز سے ہونا چاہیے

٭ریاست کہتی ہے ،ہم خبر کو دیکھ رہے ہیں۔آڈٹ کہتا ہے ،ہم ریاست کے حساب کو دیکھ رہے ہیں۔مجلسِ حسابات کہتی ہے ،ہم محکمہ سے جواب مانگ رہے ہیں۔شہری پوچھتا ہے ،پھر آخر جواب دہ کون ہے ؟

٭ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں مختلف نوعیت کے آڈٹ مشاہدات کے تحت درج مالی اثرات میں تقریباً 97.865ارب روپے کے معاملات کا قابلِ جانچ ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا

٭آڈٹ میں1.089ارب کے ایسے رپورٹ شدہ معاملات شامل ہیں جنہیں فراڈ، غبن یا خردبرد کی نوعیت کے طور پر درج کیا، 32.123؍ ارب روپے انسانی وسائل سے متعلق بے قاعدگیوں کے تحت آئے

٭سندھ کے بعض مالی معاملات کی تعمیلی صورتِ حال دیکھیں تو آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں ایسے معاملات موجود ہیں جن پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایات کے باوجود محکمانہ تعمیل ‘‘صفر’’درج کی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذرا دُہرا لیتے ہیں!
پہلی قسط میں سوال تھا:جعلی خبر کیا ہے ، اور فیصلہ کون کرے گا کہ کون سی خبر جعلی ہے ؟
دوسری قسط میں سوال آگے بڑھا:اگر کسی خبر کو جرم بنا کر تفتیش، گرفتاری اور مقدمے تک لے جانے کا اختیار ریاست کے پاس ہو تو اس اختیار کی حد کہاں ہے ؟
اب تیسری قسط میں سوال اس سے بھی زیادہ بنیادی ہے :اگر ریاست عوام کو دیکھ سکتی ہے تو ریاست کو کون دیکھ رہا ہے ؟
یہ سوال کسی جماعت کے خلاف نہیں۔کسی فرد کے خلاف بھی نہیں۔یہ سوال ریاستی اختیار اور عوامی نگرانی کے درمیان توازن کا ہے ۔کیونکہ ایک طرف حکومت کے پاس ذرائع ابلاغ کی نگرانی کا باقاعدہ انتظام موجود ہے ۔ دوسری طرف اسی حکومت کے مالی، انتظامی اور ترقیاتی معاملات کی جانچ کے لیے آئینی ادارہ بھی موجود ہے ۔فرق صرف یہ ہے کہ دونوں نظاموں کا مقصد ایک جیسا نہیں۔ایک نظام یہ دیکھتا ہے کہ حکومت کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے ۔دوسرا یہ دیکھتا ہے کہ حکومت نے کیا کیا۔اور یہیں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے ۔

حکومت خود بتاتی ہے :ہم ذرائع ابلاغ کو دیکھتے ہیں
سندھ حکومت کے محکمہ اطلاعات کے مطابق اس کا برقی ذرائع ابلاغ کا شعبہ اور فوری ردِعمل مرکز 2013سے کام کر رہا ہے ۔سرکاری ویب گاہ کے مطابق یہ شعبہ روزانہ صبح 9 بجے سے رات 11بجے تک کام کرتا ہے اور اس وقت 16بڑے خبری و حالاتِ حاضرہ کے ٹیلی وژن چینلزکی نگرانی کی جاتی ہے ۔اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے :۔
٭ٹیلی وژن چینلز پر نشر ہونے والی معلومات کی نگرانی
٭حکومت کی پالیسیوں، حکمت ِعملی اور روزمرہ فیصلوں کے بارے میں نشر ہونے والے ردِعمل کا جائزہ
٭ایسی خبر کی صورت میں سرکاری تردید، وضاحت یا حقائق پر مبنی سرکاری مؤقف جاری کرانے میں مدد جسے حکومت بگڑی ہوئی، مبالغہ آمیز یا سیاق سے ہٹی ہوئی سمجھے
ٔ٭حکومتی اقدامات اور کامیابیوں کی تشہیر کی نگرانی
٭متعلقہ مواد کو فوری طور پر متعلقہ حکام تک پہنچانا
یہ نظام بذاتِ خود کوئی غیر قانونی چیز نہیں۔حکومت کو حق ہے کہ اگر اس کے بارے میں غلط خبر نشر ہو تو وہ جواب دے ۔اگر کسی سرکاری منصوبے کے بارے میں غلط عدد دیا جائے تو حکومت کو درست عدد دینا چاہیے ۔اگر کسی خبر میں حقائق مسخ ہوں تو حکومت کو وضاحت دینی چاہیے ۔اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت جواب کیوں دیتی ہے ؟اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کے جواب کو کون جانچتا ہے ؟اور اس کے فوراً بعد حکومت کے اپنے دعوؤں کو کون جانچتا ہے ؟یہی وہ مقام ہے جہاں آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹیں ہماری تحقیق کا دوسرا سرا بنتی ہیں۔

ریاست کے مالی معاملات کو کون دیکھتا ہے ؟
آڈیٹر جنرل پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے جو سرکاری مالیات، اخراجات، وصولیوں، ضابطوں کی پابندی اور داخلی نگرانی کے نظام کا جائزہ لیتا ہے ۔سندھ کے لیے آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ 2024-25میں مالی سال 2023-24کے معاملات کی جانچ شامل ہے ۔
اور اس رپورٹ کے اعداد ایک بہت اہم تصویر بناتے ہیں۔رپورٹ میں مختلف نوعیت کے آڈٹ مشاہدات کے تحت درج مالی اثرات میں تقریباً97.865ارب روپے کے ایسے معاملات شامل ہیں جہاں قابلِ جانچ ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔1.089ارب روپے کے ایسے رپورٹ شدہ معاملات شامل ہیں جنہیں آڈٹ نے فراڈ، غبن یا خردبرد کی نوعیت کے طور پر درج کیا۔32.123ارب روپے انسانی وسائل سے متعلق بے قاعدگیوں کے تحت آئے ۔55.408؍ارب روپے سرکاری خریداری سے متعلق بے قاعدگیوں میں آئے ۔ 42.101 ؍ارب روپے تجارتی بینک کھاتوں سے متعلق بے قاعدگیوں کے تحت آئے ۔19.406ارب روپے وسائل کے مؤثر استعمال اور خدمات کی فراہمی سے متعلق مشاہدات میں آئے ۔494.780ارب روپے عملیاتی نااہلی سے متعلق مشاہدات کے مالی حجم کے طور پر درج ہوئے ۔28.655؍ارب روپے ریکارڈ رکھنے اور اعداد و شمار کی درستگی سے متعلق معاملات میں آئے ۔ 65.013 ؍ ارب روپے داخلی نگرانی کے کمزور نظام سے متعلق مشاہدات میں آئے ۔اور تقریباً 29.632ارب روپے کی وصولی سے متعلق معاملات بھی رپورٹ ہوئے ۔یہ اعداد آپس میں جمع نہیں کیے جاسکتے ، کیونکہ ایک ہی معاملہ ایک سے زیادہ زمروں میں شامل ہوسکتا ہے ۔یہ تو درست بات ہے کہ آڈٹ مشاہدہ، بدعنوانی کا عدالتی فیصلہ نہیں ہوتا۔اگر آڈٹ کہتا ہے کہ رقم وصول نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ رقم چوری ہوگئی۔اگر آڈٹ کہتا ہے کہ خریداری قواعد کے خلاف ہوئی تو اس کا مطلب خود بخود یہ نہیں کہ متعلقہ افسر نے ذاتی فائدہ حاصل کیا۔ اگر آڈٹ ذمہ داری متعین کرنے یا تحقیقات کی سفارش کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے کسی کو مجرم قرار دے دیا۔لیکن اس کے برعکس بھی ایک حقیقت ہے ،آڈٹ اعتراض کو نظرانداز کرنا بھی شفافیت نہیں۔پھر یہ سندھ ہے پیارے جہاں پیپلزپارٹی حکومت کرتی ہے، جہاں سندھ حکومت کے بالکل متوازی ایک نظام کام کرتا ہے، جس نے مختلف ادوار میں مختلف شکلیں اختیار کیں۔ذوالفقار مرزا سے لے کر ٹپی تک جس کی گونج سنائی دیتی رہی۔ سہیل بابو سے لے کر اے جی مجید تک جس کے نقوش عدالت میں ثابت کیے جانے کے قابل حالت میں موجود ہیں۔ مگر یہاں اسے نظرانداز

آڈٹ کی فائل جب شہر کی زمین اور عمارتوں تک پہنچتی ہے تو سوال محض کاغذ کا نہیں رہتا

کرتے ہیں، جو چیز نظرانداز نہیں ہوسکتی ، وہ ہے ، آڈٹ اعتراض۔ اور یہی ہماری اصل بحث ہے ۔

اصل خبر رقم نہیں، اس کے بعد کا سوال ہے
سرکاری آڈٹ رپورٹ پڑھتے ہوئے سب سے آسان کام یہ ہے کہ ایک بڑا عدد اٹھائیں اور سرخی بنا دیں:اربوں روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آگئیں۔لیکن یہ مکمل صحافت نہیں۔اصل سوال ہے :پھر کیا ہوا؟محکمہ نے کیا جواب دیا؟محکمانہ حسابات کمیٹی کب بیٹھی؟کیا جواب قبول ہوا؟کیا اعتراض ختم ہوا؟کیا رقم واپس ہوئی؟کیا ذمہ داری متعین ہوئی؟کیا معاملہ مجلسِ حساباتِ عامہ تک پہنچا؟اس مجلس نے کیا حکم دیا؟اور سب سے اہم۔حکم پر عمل ہوا یا نہیں؟یہ آخری سوال ہماری پوری قسط کا مرکزی سوال ہے ۔کیونکہ آڈٹ اعتراض صرف فائل کا آغاز ہے ۔احتساب اس کے بعد شروع ہوتا ہے ۔

سب سے چونکا دینے والا عدد:صفر
سندھ کے بعض سابقہ مالی معاملات کی تعمیلی صورتِ حال دیکھیں تو آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں ایسے معاملات موجود ہیں جن پر
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایات کے باوجود محکمانہ تعمیل ‘‘صفر’’درج کی گئی۔رپورٹ کے ایک تعمیلی جدول میں مختلف سابقہ برسوں کے معاملات کے مقابلے میں، مثلاً:1992-93کے 19معاملات،1998-99کے 4معاملات، 1999-2000کے 7معاملات اور
2001-02کے 9معاملات میں تعمیل کا ہندسہ صفر درج ہیں۔یہاں صفر کسی الزام کا استعارہ نہیں۔یہ آڈٹ رپورٹ میں درج محکمانہ تعمیل کی صورتِ حال ہے ۔اور یہی چیز اسے اہم بناتی ہے ۔سوچئے ۔ایک آئینی ادارہ اعتراض اٹھاتا ہے ۔منتخب ایوان کی مجلسِ حسابات معاملہ دیکھتی ہے ۔ہدایات جاری ہوتی ہیں۔اور پھر بعض معاملات میں تعمیل صفر رہ جاتی ہے ۔تو این این سی آئی سے جان کی امان پاکر یہ سوال تو بنتا ہے کہ اگر ریاست کے اندر احتساب کی ایک کڑی حکم جاری کردے اور اگلی کڑی اس پر عمل نہ کرے تو اس حکم کا آخری نگہبان کون ہے ؟یہ سوال کسی سیاسی جماعت سے زیادہ بڑا ہے ۔یہ ادارہ جاتی جواب دہی کا سوال ہے ۔

آڈٹ سے حسابات کی مجلس تک پہنچنا بھی ایک مرحلہ ہے
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ آڈٹ رپورٹ شائع ہوجانا احتساب کی تکمیل نہیں۔اس کے بعد کئی منزلیں ہیں۔آڈٹ۔ محکمانہ جواب۔محکمانہ حسابات کمیٹی۔ مجلسِ حساباتِ عامہ۔ تعمیل ۔ وصولی یا ذمہ داری کا تعین۔ اگر درمیان میں کوئی مرحلہ رک جائے تو پوری زنجیر کمزور ہوجاتی ہے۔
مقامی حکومت اور شہری منصوبہ بندی کے محکمے کی آڈٹ رپورٹ میں بھی مختلف برسوں کے معاملات کے بارے میں ایسی تعمیلی صورتِ حال موجود ہے جہاں کئی معاملات ابھی مجلسِ حسابات کے سامنے مؤثر طور پر زیرِ بحث آنے تک نہیں پہنچے تھے ۔یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اعتراض ہوا یا نہیں۔مسئلہ یہ بھی ہے کہ اعتراض کے بعد ادارہ جاتی سفر کہاں تک پہنچا؟اور اگر سفر ہی مکمل نہ ہو تو آڈٹ رپورٹ عوامی اطلاع تو بن جاتی ہے ، مگر لازماً ‘‘عوامی احتساب’’نہیں بنتی۔

مثال اول: 27.868ارب روپے کے بجلی محصول
اب ایک ایسی مثال دیکھتے ہیں جہاں اعتراض، جواب اور بعد کی کارروائی تینوں دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔آڈیٹر جنرل نے توانائی کے محکمے میں 27,867.651؍ملین روپے یعنی تقریباً 27.868؍ارب روپے کی بجلی محصول کی عدم وصولی کی نشاندہی کی۔جون 2023 تک واجب الادا رقم کی تفصیل یہ تھی:
کے الیکٹرک:26,378.665ملین روپے
سیپکو: 244.607ملین روپے
حیسکو:1,244.379ملین روپے
آڈٹ نے کہا کہ ان واجبات کی وصولی میں ناکامی مالی نظم و نگرانی میں نمایاں کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے ۔لیکن یہاں رک جانا غلط ہوگا۔
فروری 2025میں محکمانہ حسابات کمیٹی کا اجلاس ہوا۔محکمہ نے بتایا کہ حیسکو سے 200ملین روپے اور سیپکو سے 235ملین روپے وصول کیے گئے تھے ۔باقی رقم کے لیے متعلقہ تقسیم کار کمپنیوں کو ادائیگی کی ہدایت دی گئی، جبکہ کے الیکٹرک کے معاملے میں واجب الادا رقم کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج ادارے کے واجبات کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز سامنے آئی۔یہ مثال ہمیں ایک بنیادی سبق دیتی ہے ، یعنی خبر صرف 27.868؍ارب روپے نہیں ملے ، نہیں ہے ۔مکمل خبر یہ ہے کہ اتنی رقم کی عدم وصولی رپورٹ ہوئی ، محکمہ جواب دیتا ہے، کمیٹی بیٹھتی ہے ،کچھ رقم وصول ہوتی ہے، باقی رقم کا سوال برقرار رہتا ہے ۔یہی مکمل احتسابی صحافت ہے ۔

مثال دوم:کراچی ترقیاتی ادارے کے 2.710 ارب روپے
کراچی ترقیاتی ادارے کے مالی معاملات میں آڈیٹر جنرل نے 2,710.143ملین روپے یعنی تقریباً 2.710ارب روپے کے بقایا کرایوں کی نشاندہی کی۔یہ رقم مختلف سرکاری اور نجی اداروں سے وصول ہونی تھی اور بعض واجبات 2016سے چلے آرہے تھے ۔ان میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ذمے 1,801.338ملین روپے ،اسی ادارے کے ایک دوسرے زیرِ استعمال حصے کے 536.870ملین روپے ،ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے کے ذمے 187.440ملین روپے،ڈائریکٹر جنرل ملیر ترقیاتی ادارے کے مزید 22.369 ملین روپے ،محکمہ صحت کے ایک دفتر کے ذمے 155.760 ملین روپے سمیت دیگر رقوم شامل تھیں۔آڈٹ نے کہا کہ واجبات کی عدم وصولی سے ممکنہ آمدنی کا نقصان ہوا اور آمدنی کے انتظام میں کمزوری ظاہر ہوئی۔محکمہ نے بتایا کہ مختلف سرکاری اداروں سے مذاکرات جاری ہیں اور بعض کو نوٹس بھی جاری کیے گئے ۔2؍جنوری 2025کو محکمانہ حسابات کمیٹی نے وصولی تیز کرنے اور واجب الادا رقم کی تطبیق کی ہدایت کی۔اب اصل سوال2.710؍ارب روپے کی یہ رقم آج کہاں کھڑی ہے ؟کتنی وصول ہوئی؟کتنی باقی ہے ؟کس ادارے نے ادا کی؟کس نے نہیں کی؟اور اگر کسی سرکاری ادارے پر دوسرے سرکاری ادارے کا واجب الادا کرایہ برسوں تک باقی رہ سکتا ہے توسرکاری آمدنی کی نگرانی کا نظام کہاں تھا؟

مثال سوم: 211.040ملین روپے کی خریداری
زراعت، رسد و قیمتوں کے محکمے میں آڈٹ نے 211.040ملین روپے کی ایسی خریداری کی نشاندہی کی جو بغیر مسابقتی بولی کے اور سرکاری خریداری کے قواعد کی خلاف ورزی میں ہوئی۔رقم کی تفصیل بھی رپورٹ میں موجود ہے :
٭بلڈوزر کے پرزے :105.600ملین روپے
٭زمین ہموار کرنے کے آلات: 93.110ملین روپے
٭کمپیوٹر اور پرنٹر:5.375ملین روپے
٭مشینری:3.398ملین روپے
٭فرنیچر:2.762ملین روپے
٭اطلاعاتی آلات:0.795ملین روپے
آڈٹ کے مطابق قواعد کی خلاف ورزی کے باعث مسابقتی نرخ حاصل نہیں کیے جاسکے اور حکومت کو مالی نقصان کا امکان پیدا ہوا۔ لیکن اس معاملے میں ایک اور بات زیادہ اہم ہے ،محکمے کی طرف سے جواب موصول نہیں ہوا۔اور رپورٹ کی تکمیل تک محکمانہ حسابات کمیٹی کا اجلاس بھی نہیں بلایا گیا۔اس سے بھی اہم،آڈٹ نے بتایا کہ اسی نوعیت کا اعتراض 2022-23اور 2021-22کی آڈٹ رپورٹس میں بھی سامنے آچکا تھا، جہاں مالی اثر تقریباً 21.896ملین روپے بتایا گیا تھا۔یعنی یہاں سوال صرف 211.040ملین روپے نہیں۔ اصل سوال ہے ،اگر ایک ہی نوعیت کی بے قاعدگی پہلے بھی سامنے آچکی تھی تو دوبارہ کیوں ہوئی؟یہ سوال کسی افسر کو مجرم قرار نہیں دیتا۔لیکن یہ ضرور پوچھتا ہے ۔پہلے اعتراض کے بعد اصلاحی نظام کہاں تھا؟

یہی اصل لفظ ہے :تکرار
ایک مضبوط احتسابی نظام میں ایک ہی غلطی بار بار سامنے نہیں آنی چاہیے ۔اگر آڈٹ ہر سال ایک ہی نوعیت کی خامی کی نشاندہی کرتا ہے تو سوال رقم سے آگے بڑھ جاتا ہے ۔پھر سوال بنتا ہے ،کیا مسئلہ کسی ایک افسر کا ہے یا پورے نظام کا؟کیا ضابطہ کمزور ہے ؟کیا نگرانی نہیں؟کیا سابقہ سفارش پر عمل نہیں ہوا؟کیا ذمہ داری طے نہیں ہوئی؟یہاں سے آڈٹ ایک محض مالی دستاویز نہیں رہتا۔یہ حکمرانی کے معیار کا آئینہ بن جاتا ہے ۔

مثال چہارم: 596غیر مجاز تعمیرات
اب مالیات سے نکل کر کراچی کی عمارتوں کی طرف آئیے ۔آڈیٹر جنرل کی کارکردگی جانچ میں 20؍نومبر 2020سے 6؍اپریل 2021کے درمیان کراچی میں 596غیر مجاز یا غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی ہوئی۔رپورٹ میں منظوری کے بغیر تعمیرات،اضافی منزلیں،بعض عمارتوں میں 8منزلوں تک اضافی تعمیر،لازمی کھلی جگہ کے قواعد کی خلاف ورزی کا ذکر ہے ۔صرف جمشید ٹاؤن دوم میں 148، نارتھ ناظم آباد میں 72، لیاقت آباد میں 56اور گلبرگ میں 56تعمیرات درج ہوئیں۔لیکن اس رپورٹ کا سب سے اہم جملہ اعداد سے بھی زیادہ سخت ہے :آڈٹ نے کہا کہ متعلقہ ادارے نے ان 596تعمیرات کے خلاف قانونی کارروائی شروع نہیں کی۔آڈٹ کے مطابق یہ صورتِ حال شہری سہولیات پر منفی اثر ڈالنے کے ساتھ رہائشیوں کی جان کو خطرے میں ڈال سکتی تھی۔اور یہاں ایک اور اہم بات ،آڈٹ ٹیم کو کئی اہم ریکارڈ بھی مکمل طور پر فراہم نہیں کیے گئے ، جبکہ متعلقہ محکمانہ حسابات کمیٹی کا اجلاس بھی آڈٹ کی پیروی کے باوجود منعقد نہیں ہوا۔اب سوال یہاں یہ بنتا ہے کہ ریاست اگر ذرائع ابلاغ میں غلط معلومات کا سراغ لگانے کے لیے روزانہ نگرانی کا نظام رکھتی ہے ، تو کیا ریاستی اداروں کے اپنے ریکارڈ میں موجود 596غیر مجاز تعمیرات کے انجام کا سراغ رکھنے کا بھی اتنا ہی مضبوط نظام ہے ؟یہ سوال حکومت

اصل سوال آڈٹ اعتراض نہیں؛ اصل سوال ہے: اعتراض کے بعد کیا ہوا؟

کے خلاف الزام نہیں۔یہ ‘ریاستی نگرانی کے معیار کا تقابل’ہے ۔

یہاں ایک اور چونکا دینے والی بات ہے
اسی کارکردگی جانچ میں کراچی کے ضلع ملیر اور مشرقی علاقے میں 146غیر قانونی رہائشی منصوبوں اور آبادیوں کا حوالہ بھی آیا۔رپورٹ کے مطابق 17ی؍فروری 2019کو سندھ کے انسدادِ بدعنوانی کے ادارے کی ایک رپورٹ میں ان 146رہائشی منصوبوں یا آبادیوں کو قانونی تقاضوں کی عدم تکمیل کے باعث غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔لیکن آڈٹ کے موقع پر بھی ان میں سے بیشتر میں تعمیرات جاری پائی گئیں، جبکہ ان کے خلاف کی گئی قانونی کارروائی کا مکمل ریکارڈ آڈٹ کو فراہم نہیں کیا گیا۔آڈٹ نے ذمہ داری متعین کرنے اور کارروائی کی سفارش کی۔ایک بار پھر ہم یہا ں آڈٹ کی سفارش کو جرم کا فیصلہ نہیں کہتے۔لیکن یہ سوال ضرور پوچھیں گے کہ اگر کسی سرکاری ادارے کے پاس غیر قانونی قرار دی گئی 146 آبادیوں کی اطلاع موجود تھی تو اس کے بعد کیا ہوا؟اور یہی پھر کیا ہوا؟ ہماری تحقیق کا مستقل سوال ہے ۔

سرکاری ادارے خود بھی ایک دوسرے کے محتاج ہیں
کراچی ترقیاتی ادارہ رقم وصول نہیں کرپاتا۔بلڈنگ کنٹرول ادارہ تعمیرات کی نگرانی کرتا ہے ۔توانائی محکمہ محصول وصول کرتا ہے ۔ زراعت محکمہ سرکاری خریداری کرتا ہے ۔ہر جگہ الگ قانون، الگ افسر، الگ فائل اور الگ ذمہ داری ہے ۔لیکن آخر میں پیسہ ایک ہی جگہ سے آتا ہے ،عوام کے خزانے سے ۔اسی لیے احتساب کا اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا محکمہ قصوروار ہے ۔اصل سوال ہے ، کیا پورا انتظامی نظام اپنی غلطی کو پکڑتا، درست کرتا اور دوبارہ ہونے سے روکتا ہے ؟

  • آڈیٹر جنرل کی کارکردگی جانچ میں 20؍نومبر 2020سے 6؍اپریل 2021کے درمیان کراچی میں 596غیر مجاز یا غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی ہوئی۔رپورٹ میں منظوری کے بغیر تعمیرات،اضافی منزلیں،بعض عمارتوں میں 8منزلوں تک اضافی تعمیر،لازمی کھلی جگہ کے قواعد کی خلاف ورزی کا ذکر ہے ۔صرف جمشید ٹاؤن دوم میں 148، نارتھ ناظم آباد میں 72، لیاقت آباد میں 56اور گلبرگ میں 56 تعمیرات درج ہوئیں۔لیکن اس رپورٹ کا سب سے اہم جملہ اعداد سے بھی زیادہ سخت ہے :آڈٹ نے کہا کہ متعلقہ ادارے نے ان 596تعمیرات کے خلاف قانونی کارروائی شروع نہیں کی۔

حق ِمعلومات:شہری کے ہاتھ میں اصل ہتھیار
یہاں ایک بہت اہم ادارہ سامنے آتا ہے ،سندھ اطلاعاتی کمیشن۔سندھ کے حقِ معلومات کے قانون کا مقصد شہری کو سرکاری معلومات تک رسائی دینا ہے ۔کمیشن کی سرکاری ویب گاہ پر اس وقت محمد سلیم خان ،اطلاعاتی کمشنر اوّل، نور محمد ڈایو ، اطلاعاتی کمشنر دوم، ذوالفقار علی شیخ ، انتظامی سربراہ درج ہیں۔لیکن ‘چیف اطلاعاتی کمشنر کا عہدہ خالی’دکھایا گیا ہے ۔یہ خالی عہدہ بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ شہریوں کا حقِ معلومات متاثر ہو رہا ہے ۔لیکن یہ ایک جائز تحقیقی سوال ضرور ہے ،صوبے میں سرکاری معلومات تک عوام کی رسائی کے لیے قائم ادارے کی سربراہی کا عہدہ کب سے خالی ہے ، اور اس کا عملی اثر کیا ہے ؟اس سوال کا جواب بھی دستاویز سے ہی ملنا چاہیے ۔قیاس سے نہیں۔

ایک دلچسپ تضاد
ریاست کے پاس ذرائع ابلاغ کی نگرانی کے لیے، 16بڑے خبری چینلز کی نگرانی کا باقاعدہ نظام موجود ہے ۔لیکن شہری کو حکومت کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنے کے لیے حقِ معلومات کی درخواست، سرکاری ریکارڈ، آڈٹ رپورٹ، مجلسِ حسابات، عدالتی فیصلے اور صحافتی تحقیق کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ ریاست کو زیادہ وسائل کیوں حاصل ہیں۔ریاست کے پاس انتظامی مشینری ہونا فطری ہے ۔اصل سوال یہ ہے :کیا شہری کی معلومات تک رسائی بھی اسی تناسب سے آسان، بروقت اور مؤثر ہے ؟اگر حکومت کسی خبر کا جواب چند گھنٹوں میں دے سکتی ہے ، تو کیا شہری کو اس خبر کے اصل سرکاری ریکارڈ تک بھی اتنی ہی تیزی سے رسائی ملتی ہے ؟ اگر حکومت کسی خبر کو غلط کہہ سکتی ہے ، تو کیا شہری کے پاس سرکاری دستاویز مانگنے اور اس دعوے کو جانچنے کا فوری راستہ ہے ؟اگر کسی آڈٹ اعتراض پر برسوں کارروائی مکمل نہ ہو تو کیا شہری کو اس تاخیر کی وجہ معلوم کرنے کا حق ہے ؟یہی ہے ،‘معلوماتی طاقت کا عدم توازن’۔
اس تحقیق کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ حکومت کی ہر تردید غلط ہے ۔ایسا کہنا اتنا ہی غیر ذمہ دارانہ ہوگا جتنا یہ کہنا کہ ہر تنقیدی خبر درست ہوتی ہے ۔ایک ذمہ دار نظام میں فیک نیوز کی تردید ہونی چاہیے ۔صحیح خبر کی تصدیق ہونی چاہیے ۔نامکمل خبر کی تکمیل ہونی چاہیے ۔غلط عدد کی اصلاح ہونی چاہیے ۔اورسرکاری دعوے کی بھی تصدیق ہونی چاہیے ۔اصل سوال یہ ہے کہ دونوں طرف ایک ہی معیار لاگو ہو یا نہیں۔اگر صحافی سے کہا جائے ،ثبوت دکھاؤ۔تو حکومت سے بھی پوچھا جانا چاہیے ،آپ کی تردید کا ثبوت کہاں ہے ؟اگر صحافی سے کہا جائے ، اصل دستاویز دکھاؤتو حکومت سے بھی کہا جاسکتا ہے ،اصل فائل، حکم، وصولی یا کمیٹی کا فیصلہ دکھائیے ۔یہ کسی کے خلاف امتیاز نہیں۔یہ ایک ہی پیمانے کا مطالبہ ہے ۔

فیک نیوز کا مضبوط توڑ گرفتاری نہیں، شفافیت ہے
یہاں پوری بحث کا ایک اہم نتیجہ نکلتا ہے ۔اگر کسی خبر کو جھوٹا کہا جائے اور حکومت فوراً اصل دستاویز سامنے رکھ دے تو جھوٹ زیادہ دیر نہیں چلتا۔اگر کسی سرکاری دعوے کے ساتھ اصل اعداد، سرکاری حکم نامہ، آڈٹ کا جواب اور کارروائی کا نتیجہ عوام کے سامنے ہو تو افواہ کے لیے جگہ کم ہوجاتی ہے ۔لیکن اگر اصل معلومات مشکل سے ملیں، ریکارڈ ادھورا ہو، پرانے اعتراضات کا انجام معلوم نہ ہو، وصولی کی آخری صورتِ حال سامنے نہ آئے ، اور سرکاری اداروں کے جوابات عوام تک آسانی سے نہ پہنچیں تو معلوماتی خلا پیدا ہوتا ہے ۔اورمعلوماتی خلا افواہ کی بہترین زمین ہے ۔اس لیے جعلی خبر کے خلاف سب سے مضبوط ریاستی پالیسی صرف سزا نہیں۔شفافیت ہے ۔
سندھ حکومت کو یاد رہنا چاہئے کہ آڈٹ اعتراضات کاغذی کارروائی کبھی نہیں رہتے، پاکستان ایسے ملک میں ہواؤں کا رخ تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگتی ، تب کرم خوردہ مسلیں اچانک احتساب کے قیمتی اوراق میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ اس لیے آڈٹ اعتراض کو محض کاغذی کارروائی سمجھنا غلط ہے ۔اگرایک ہی اعتراض دوبارہ سامنے آئے ،محکمہ جواب نہ دے ،محکمانہ حسابات کمیٹی نہ بیٹھے ،مجلسِ حسابات کی ہدایت پر عمل نہ ہو،وصولی برسوں باقی رہے ،مطلوبہ ریکارڈ پیش نہ کیا جائے ،تو یہ صرف حساب کتاب کا مسئلہ نہیں رہتا۔یہ انتظامی جواب دہی کا مسئلہ بن جاتا ہے ۔

اصل سوال:حکومت کو کون دیکھ رہا ہے؟
پوری تصویر سامنے رکھیں۔حکومت کے پاس ذرائع ابلاغ کی نگرانی ہے ۔فوری ردِعمل کا مرکز ہے ۔سرکاری تردید کا نظام ہے ۔ سرکاری معلوماتی ذرائع ہیں۔اپنا سرکاری بیانیہ سامنے لانے کی مکمل انتظامی صلاحیت ہے ۔ریاست کے مالی معاملات کے لیے آڈیٹر جنرل ہے ۔ منتخب ایوان کے اندر،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ہے ۔شہری کے لیے حقِ معلومات ہے ۔عدالتی نگرانی کے لیے عدالتیں ہیں۔تو بظاہر نگرانی کا پورا نظام موجود ہے ۔پھر مسئلہ کہاں ہے ؟مسئلہ نگرانی کے وجود کا نہیں، نگرانی کے انجام کا ہے ۔

پوری بحث کا سب سے بڑا تضاد
ریاست کہتی ہے ،ہم خبر کو دیکھ رہے ہیں۔آڈٹ کہتا ہے ،ہم ریاست کے حساب کو دیکھ رہے ہیں۔مجلسِ حسابات کہتی ہے ،ہم محکمہ سے جواب مانگ رہے ہیں۔شہری پوچھتا ہے ،پھر آخر جواب دہ کون ہے ؟یہ سوال صرف سندھ کا نہیں۔یہ ہر جمہوری نظام کا بنیادی سوال ہے ۔
کیونکہ حکومت عوام سے اختیار لیتی ہے ۔عوام سے محصول لیتی ہے ۔عوام کے نام پر بجٹ بناتی ہے ۔عوام کے نام پر منصوبے بناتی ہے ۔عوام کے نام پر زمین، پانی، سڑک، عمارت، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں کے فیصلے کرتی ہے ۔اس لیے عوام کا سوال کسی حکومت کے خلاف سازش نہیں۔عوامی نگرانی حکومت کے اختیار کی بنیادی شرط ہے ۔

فیک نیوز کی پوری بحث اپنے نئے معنی میں داخل
اگر ایک شہری کسی سرکاری محکمے کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے تو حکومت کو حق ہے کہ وہ جواب دے ۔اگر خبر غلط ہے تو اسے غلط ثابت کرے ۔اگر عدد غلط ہے تو درست عدد دے ۔اگر آڈٹ اعتراض ختم ہوچکا ہے تو اس کا ثبوت دے ۔اگر رقم واپس ہوچکی ہے تو وصولی کا ریکارڈ دے ۔اگر افسر کے خلاف کارروائی ہوچکی ہے تو نتیجہ سامنے لائے ۔اگر مقدمہ ختم ہوچکا ہے تو عدالتی حکم دکھائے ۔پھر عوام بھی فیصلہ کرسکتے ہیں۔اس کے برعکس اگر کسی دعوے کے جواب میں صرف یہ کہا جائے ‘‘یہ فیک نیوز ہے ’’۔تو سوال ابھی ختم نہیں ہوا۔اصل سوال وہیں سے شروع ہوتا ہے ،کیوں؟ اصل دستاویز دکھائیے ۔

ریاست کو بھی وہی معیار قبول کرنا ہوگا جو وہ صحافت سے مانگتی ہے
اگر صحافی سے کہا جاتا ہے ،ثبوت دو۔تو حکومت سے بھی پوچھا جانا چاہئے ،ثبوت دو۔اگر صحافی سے کہا جاتا ہے اصل دستاویز دکھاؤ۔تو حکومت سے بھی پوچھا جانا چاہئے، اصل دستاویز دکھاؤ۔اگر صحافی سے کہا جاتا ہے ، تمہاری خبر کا ماخذ کیا ہے ؟تو حکومت سے بھی پوچھا جانا چاہئے،تمہاری تردید کا ماخذ کیا ہے ؟اگر صحافی سے کہا جاتا ہے ،خبر مکمل نہیں۔تو حکومت سے بھی پوچھا جانا چاہئے ،مکمل سرکاری صورتِ حال کیا ہے ؟یہی برابری ہے ۔یہی شفافیت ہے ۔اور یہی وہ معیار ہے جو فیک نیوز کے خلاف جنگ کو اختلافِ رائے کے خلاف جنگ بننے سے روک سکتا ہے ۔

آخری سوال
ریاست کے پاس ذرائع ابلاغ کو دیکھنے کے لیے ادارہ ہے ۔ریاست کے پاس اپنی وضاحت جاری کرنے کا اختیار ہے ۔ریاست کے پاس اپنے مؤقف کو عوام تک پہنچانے کے وسائل ہیں۔اور اب جھوٹی معلومات کے خلاف فوجداری قانون بھی موجود ہے ۔دوسری طرف عوام کے پاس آڈٹ رپورٹ ہے ۔حقِ معلومات ہے ۔مجلسِ حسابات ہے ۔عدالت ہے ۔صحافت ہے ۔سوال ہے ۔لیکن سوال یہ ہے :کیا عوام کے یہ ذرائع ریاستی معلوماتی طاقت کے مقابل اتنے ہی مؤثر ہیں؟اور اگر کسی آڈٹ اعتراض پر برسوں بعد بھی تعمیل صفر درج ہو تو نگرانی کی نگرانی کون کرے گا؟اگر 27.868ارب روپے کی عدم وصولی رپورٹ ہو اور برسوں بعد بھی باقی رقم کا سوال موجود ہو تواس سوال کا آخری جواب کون دے گا؟اگر 2.710ارب روپے کے واجبات برسوں سے سرکاری اداروں پر باقی ہوں توسرکاری آمدنی کی حفاظت کا آخری ذمہ دار کون ہے ؟اگر ایک ہی نوعیت کی خریداری کی بے قاعدگی بار بار رپورٹ ہو تونظام اپنی غلطی سے سیکھ کیوں نہیں رہا؟
اگر 596غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی ہو توان تعمیرات کے خلاف کارروائی کا انجام عوام کو کون بتائے گا؟اور اگر حکومت کسی نیوز کو فیک قرار دے توکیا وہ بھی اسی معیار پر اپنا ثبوت پیش کرے گی جس معیار پر وہ صحافی سے ثبوت مانگتی ہے ؟

پوری بحث کا سب سے اہم جملہ
حکومت کو خبر کی نگرانی کا حق ہے ۔لیکن خبر کو حکومت کی نگرانی کا حق بھی ہے ۔اور دونوں کے درمیان فیصلہ طاقت سے نہیں ہونا چاہیے ۔
دستاویز سے ہونا چاہیے ۔کیونکہ تردید ایک دعویٰ ہے ۔جواب ایک مؤقف ہے ۔آڈٹ ایک مشاہدہ ہے ۔مجلسِ حسابات کا حکم ایک مرحلہ ہے ۔لیکن مکمل احتساب تب بنتا ہے جب آخر میں ہمیں یہ معلوم ہوپھر کیا ہوا؟اور شاید یہی وہ سوال ہے جو کسی بھی حکومت کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ نہیں، بلکہ سب سے زیادہ ضروری ہے ۔کیونکہ ریاست کی طاقت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہ اختلافی آواز کتنی جلد سن لیتی ہے ۔ریاست کی مضبوطی اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں اٹھنے والے درست سوال کا جواب کتنی جلد، کتنی مکمل دستاویز اور کتنی شفافیت کے ساتھ دیتی ہے ۔اور اگر سب ادارے سب کو دیکھ رہے ہوں تو آخر میں ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے ،حکومت کو کون دیکھ رہا ہے ؟ (جاری ہے)
٭٭٭

 


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں