میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حکومت اور اپوزیشن کے درمیا ن جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم

حکومت اور اپوزیشن کے درمیا ن جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم

جرات ڈیسک
اتوار, ۴ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

لانگ مارچ ہمارا حق ہے، سب سے کہوں گا کہ لانگ مارچ کو نہ روکیں، بیرسٹر گوہر

حکومت سے مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات کا معاملہ حل نہیں ہوسکا،علامہ ناصر عباس

کے پی حکومت دہشت گردی کیخلاف آپریشن میں فورسز کا ساتھ دینے اور کردار ادا کرنے پر یقین دہانی سے انکاری ہے، رانا ثناء اللہ

ہم نے ان کے خدشات سنے ہیں، 4مرتبہ ڈرافٹ تبدیل کیا گیا، دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، شیری رحمن کی میڈیا سے گفتگو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیا ن جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے جس کے بعد مذاکراتی کمیٹی کے ارکان اسپیکر چیمبر سے چلے گئے۔

مذاکرات کے بعد حکومتی وفد نے میڈیا سے گفتگو کی، مشیر وزیراعظم اور حکومتی مذاکرات وفد میں شامل رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرنے کو تیار نہیں، صوبائی حکومت دہشتگردی کے حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے، کے پی حکومت دہشت گردی کیخلاف آپریشن میں فورسز کا ساتھ دینے اور کردار ادا کرنے پر یقین دہانی سے انکاری ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دو تین دفعہ ڈرافٹ میں تبدیلی کی تاہم اس کے باوجود صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق تعاون کرنے پر تیار نہیں، دہشتگردی کیخلاف تعان نہ کرنے کی بات کسی طور پر قابل قبول نہیں،اس وجہ سے معاہدہ نہیں ہوسکا۔

رانا ثنا ء اللہ نے کہا کہ عمران خان کی ملاقات، علاج معالجے سے متعلق باتیں چھوٹی باتیں تھیں، انہیں یقین دلایا تھاکہ قانون اور جیل ضابطوں کے مطابق پہلے بھی عمل ہورہا ہے اور اب بھی عمل ہوگا، اگر آپ ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کریں گے تو رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔

رانا ثنا ء اللہ نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائیگا، کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے ان کے خدشات سنے ہیں، 4 مرتبہ ڈرافٹ تبدیل کیا گیا، دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، لانگ مارچ اور دوسری چیزوں پر انہوں نے ایگریمنٹ سے انکار کردیا ہے۔

دوسری جانب علامہ چیئرمین پی ٹی آئی اور اپوزیشن وفد میں شامل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کا سیشن ختم ہوا اور مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا ہے، فریقین نے کسی سیشن کی ضرورت پر اتفاق نہیں کیا، ایک دوسرے کے ساتھ کچھ چیزوں کا تبادلہ کریں گے، اگر ضرورت پڑی تو شاید سیشن ہوجائے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہم چاہتے تھے کہ مذاکرات کو کامیاب ہونا چاہیے تھا، ہمارا لانگ مارچ انٹیکٹ ہے، لانگ مارچ ہوگا، لانگ مارچ کی آڑ میں کوئی ایسا اقدام نہیں ہوناچاہیے جس سے صوبہ کی عوام میں تنا پیدا ہو، لانگ مارچ ہمارا حق ہے، سب سے کہوں گا کہ لانگ مارچ کو نہ روکیں۔

انہوں نے کہا کسی چیز کو آخری نہیں کہنا چاہیے، سیاست میں کوئی چیز آخری نہیں ہوتی، لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں، فریقین میں مذاکرات کے اگلے مرحلے پر اتفاق نہیں ہوا۔

راجہ ناصر عباس نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیڈ لاک برقرار ہے، چھوٹی چھوٹی چیزیں تھی تاہم نتائج تک نہیں پہنچ سکے۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ حل نہیں ہوسکا، خان صاحب کے ذاتی معالج تک رسائی کے معاملے پر ڈیڈ لاک ہے، ہماری کوشش تھی کسی نتیجے پر پہنچ سکیں لیکن ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے پر نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے ان کے تحفظات تھے، جن علاقوں میں آئی ڈی پیز ہیں وہاں آپریشن کے حوالے سے بھی تحفظات تھے۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات کے بعد حکومتی وفد کی جانب سے کہا گیا کہ اس وقت ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ عمران خان سے ملاقات کروادیں، انہوں نے کہا بہنوں اور وکلا کی ملاقات شروع ہوجائے گی۔

بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ بنیادی معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا، ہمارا خیال تھا کہ ہم آگے بڑھ سکیں جس پر دونوں کا اتفاق رائے ہو۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں