ابوظبی سے ریاض تک: نیتن یاہو کی داخلی مشکلات اور مشرقِ وسطیٰ کی نئی صف بندی
شیئر کریں
نجم انوار
٭ اسرائیل کے اندر نیتن یاہو پر جتنا زیادہ سیاسی دباؤ بڑھے گا، مشرقِ وسطیٰ کی ہر بڑی سلامتی کی پیش رفت ان کی سیاسی ساکھ سے اتنی ہی زیادہ جڑتی جائے گی، یہی اس پوری کہانی کی اصل کنجی ہے
٭نتن یاہو شیخ محمد بن زاید سے ان اطلاعات کی تردید چاہتے تھے جن کے مطابق اماراتی قیادت نے 7؍اکتوبر 2023کے حماس حملے سے پہلے اسرائیل کو ممکنہ بڑی کارروائی کے بارے میں خبردار کیا تھا
٭نیتن یاہو نے طویل عرصے تک خود کو اسرائیل کے لیے ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو سلامتی کے خطرات کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے ،حماس کا غیر معمولی حملہ اس دعوے پر ایک بنیادی سوال لے آیا
٭نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات بھی جاری ہیں، جون 2026میں ان کی گواہی تقریباً 98سماعتوں کے بعد مکمل ہوئی، مقدمات میں دھوکے ، اعتماد شکنی اور رشوت کے الزامات شامل ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشرقِ وسطیٰ میں بعض ملاقاتیں اپنے اعلامیوں سے زیادہ اپنے وقت کی وجہ سے اہم ہوتی ہیں۔ بنیامین نیتن یاہو کا ابوظبی کا اچانک اور غیر اعلانیہ دورہ بھی ایسی ہی ملاقات تھی۔ اس کے فوراً بعد متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید آل نہیان کا ریاض پہنچنا اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کرنا بھی محض معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں تھا۔
دونوں واقعات کے درمیان کوئی خفیہ معاہدہ ثابت نہیں ہوا، لیکن دونوں کو الگ الگ دیکھنا بھی مشکل ہے ۔ ایک طرف اسرائیل ایران، حوثیوں اور علاقائی سلامتی کے بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے ، دوسری طرف سعودی عرب یمن میں حوثیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور باب المندب کے بدلتے ہوئے توازن سے دوچار ہے ، جبکہ ابوظبی ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں اسرائیل، ایران، سعودی عرب اور امریکہ کے مفادات ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
اس پوری تصویر کا سب سے حساس پہلو خود نیتن یاہو ہیں۔کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم کی داخلی سیاسی مشکلات اب محض اسرائیل کا داخلی مسئلہ نہیں رہی۔ جب کسی رہنما کی سیاسی شناخت قومی سلامتی کے دعوے سے قائم ہو اور اسی وقت خطے میں ایران، حوثیوں اور دوسرے مسلح خطرات کی شدت بڑھ جائے تو بیرونی بحران داخلی سیاست میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔یہ محض ایک مفروضہ نہیں کہ نیتن یاہو جان بوجھ کر بحران پیدا کر رہے ہیں۔ اس دعوے کے شواہد موجود ہیں۔ اس لیے واضح ہے کہ اسرائیل کے اندر ان پر جتنا زیادہ سیاسی دباؤ بڑھے گا، مشرقِ وسطیٰ کی ہر بڑی سلامتی کی پیش رفت ان کی سیاسی ساکھ سے اتنی ہی زیادہ جڑتی جائے گی۔ یہی اس پوری کہانی کی اصل کنجی ہے ۔
ابوظبی کی ملاقات اور ایک پرانا سوال
27 ؍ستمبر کو نیتن یاہو ابوظبی پہنچے اور شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی۔ امارات نے بعد میں اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی مسائل پر بات کی۔ رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حکام نے ایران کو ملاقات کے اہم موضوعات میں شمار کیا اور بتایا کہ ملاقات کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔لیکن اسی ملاقات کے بارے میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک زیادہ حساس پہلو رپورٹ کیا،نیتن یاہو مبینہ طور پر شیخ محمد بن زاید سے ان اطلاعات کی تردید چاہتے تھے جن کے مطابق اماراتی قیادت نے 7؍اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے پہلے اسرائیل کو ممکنہ بڑی کارروائی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔یہاں معاملہ پیچیدہ ہے ۔ مختلف رپورٹس میں ملاقات کے دورانیے اور مقصد کے بارے میں فرق ہے ، جبکہ امارات نے اس مخصوص دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اس لیے یہ کہنا کہ نیتن یاہو صرف اسی معاملے کے لیے ابوظبی گئے تھے ، دستیاب شواہد سے آگے بڑھنا ہوگا۔مگر یہ سوال اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ اگر اماراتی خفیہ معلومات واقعی 7؍اکتوبر سے پہلے اسرائیلی اداروں تک پہنچی تھیں تو انہیں کس سطح پر دیکھا گیا، کس نے ان کا جائزہ لیا اور ان پر کیا کارروائی ہوئی۔یہ سوال براہِ راست نیتن یاہو کی اس سیاسی شناخت کو چھوتا ہے جس کی بنیاد برسوں سے اسرائیل کی قومی سلامتی رہی ہے ۔ 7؍اکتوبر نے اسی بنیاد کو ہلا دیا تھا۔
نیتن یاہو نے طویل عرصے تک خود کو اسرائیل کے لیے ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو سلامتی کے خطرات کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے ۔ حماس کا غیر معمولی حملہ اس دعوے کے سامنے ایک بنیادی سوال لے آیا۔اگر ریاست کی سلامتی ان کی سب سے بڑی سیاسی شناخت تھی تو اتنی بڑی ناکامی کیسے ہوئی؟یہ سوال آج بھی ختم نہیں ہوا۔
انتخابات، مقدمات اور سلامتی کا سوال
2026 کے انتخابات قریب آتے ہوئے نیتن یاہو کے لیے یہ سوال محض تاریخ کا باب نہیں بلکہ موجودہ سیاست کا حصہ ہے۔ رائٹرز کے مطابق وہ ایک بار پھر اپنے روایتی سیاسی بیانیے پر زور دے رہے ہیں جس میں خود کو اسرائیل کا محافظ اور سلامتی کے معاملات میں تجربہ کار رہنما دکھایا جاتا ہے ۔ دوسری طرف ستمبر کے رائے عامہ کے جائزوں میں کوئی واضح پارلیمانی نقشہ سامنے نہیں آیا؛ مختلف جائزوں میں حامی اور مخالف دھڑوں کے درمیان تعطل یا معمولی فرق دکھائی دیا اور کسی ایک طرف 61 نشستوں کی واضح اکثریت نظر نہیں آئی۔ یہ اعداد انتخابی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ بتاتے ہیں کہ انتخابی مقابلہ غیر یقینی اور سیاسی صف بندی متحرک ہے۔ اس کے ساتھ نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات بھی جاری ہیں۔ جون 2026میں ان کی گواہی تقریباً 98سماعتوں کے بعد مکمل ہوئی۔ مقدمات میں دھوکے، اعتماد شکنی اور ایک مقدمے میں رشوت کے الزامات شامل ہیں، جن سے نیتن یاہو انکار کرتے ہیں۔ یوں ان کے سامنے ایک ہی وقت میں تین الگ سوال کھڑے ہیں: 7اکتوبر کی سلامتی کی ذمہ داری، عدالت میں جاری مقدمات، اور آنے والے انتخابات۔چوتھا سوال ان تینوں کو جوڑ دیتا ہے ۔کیا نیتن یاہو اب بھی وہی سیاسی شخصیت ہیں جسے اسرائیلی عوام سلامتی کے تجربے کے نام پر دیکھتے رہے ہیں؟اسی لیے ایران، حوثی حملوں، عرب حکومتوں سے رابطوں اور علاقائی سلامتی کی ہر خبر ان کے لیے خارجہ پالیسی سے بڑھ کر داخلی سیاست کا مواد بھی بن جاتی ہے ۔یہی وہ مقام ہے جہاں اسرائیل کا داخلی بحران مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر بحران سے جڑتا ہے ۔
- نیتن یاہو کو اندرونِ ملک سلامتی کے سوال، 7؍اکتوبر کی ذمہ داری، عدالتی مقدمات اور انتخابات کا سامنا ہے ۔ بیرونِ ملک اسرائیل کو ایران، حوثیوں اور وسیع تر علاقائی کشیدگی کا سامنا ہے ۔سعودی عرب کو یمن، حوثیوں اور باب المندب کا مسئلہ درپیش ہے ۔امارات کو اپنی علاقائی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے سعودی، ایرانی، اسرائیلی اور امریکی تعلقات میں توازن قائم رکھنا ہے ۔اس لیے تینوں کی ضرورتیں ایک مقام پر ملتی ہیں، مگر ان کے مقاصد ایک جیسے نہیں۔
ابوظبی کیوں اہم ہے؟
متحدہ عرب امارات اس پورے کھیل میں ایک منفرد جگہ رکھتا ہے ۔اس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔ امریکہ کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات ہیں۔ سعودی عرب اس کا تاریخی شراکت دار ہے، اگرچہ دونوں کے درمیان اختلافات بھی شدید ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ اس کے براہِ راست رابطے برقرار ہیں۔یہ آخری نکتہ خاص اہمیت رکھتا ہے ۔اسرائیل ایران کو بنیادی علاقائی خطرات میں شمار کرتا ہے ۔ امارات ایران سے براہِ راست رابطے کا ایک چینل برقرار رکھتا ہے ۔ سعودی عرب بھی ایران کے ساتھ کشیدگی اور علاقائی استحکام کے درمیان توازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس لیے ابوظبی کسی ایک خانے میں فٹ نہیں بیٹھتا۔وہ اسرائیل کا اتحادی ہو کر بھی ایران سے بات کر سکتا ہے ، سعودی شراکت دار ہو کر بھی اپنے الگ مفادات رکھتا ہے ، اور واشنگٹن سے قریبی تعلقات رکھتے ہوئے اپنی علاقائی ترجیحات بھی چلا سکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو کا ابوظبی جانا صرف دوطرفہ تعلقات کا واقعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اماراتی نائب صدر شیخ منصور ملاقات کر رہے ہیں، یمن تنازع میں یہ ملاقات اہم سمجھی جا رہی ہے
پھر ریاض کیوں؟
ابوظبی کے بعد ریاض کا واقعہ اس تصویر کو مزید واضح کرتا ہے ۔29؍ستمبر کو شیخ منصور بن زاید آل نہیان سعودی عرب پہنچے ۔ رائٹرز کے مطابق یہ ایک سال سے زیادہ عرصے میں کسی اعلیٰ اماراتی عہدیدار کا سعودی عرب کا پہلا دورہ تھا، جبکہ یہ دورہ سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی دعوت پر ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان اس سے پہلے یمن اور دوسرے علاقائی معاملات پر شدید اختلافات سامنے آ چکے تھے ۔
شیخ منصور نے خالد بن سلمان سے ملاقات کی اور بعد ازاں محمد بن سلمان سے بھی علاقائی صورتِ حال اور باہمی تعلقات پر بات کی۔ اماراتی سرکاری بیان نے ملاقات کو برادرانہ تعلقات اور مشترکہ مفادات کے تناظر میں پیش کیا۔لیکن اس ملاقات کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلاف ابھی ماضی کا قصہ نہیں۔
سعودی اماراتی دراڑ اور یمن
دونوں خلیجی طاقتیں کبھی یمن میں ایک ہی صف میں تھیں۔ مگر وقت کے ساتھ ان کے مفادات الگ ہوتے گئے ۔امارات نے جنوبی یمن کی قوتوں، بالخصوص جنوبی عبوری کونسل، کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے ۔ سعودی عرب کی ترجیحات مختلف تھیں۔ 2025کے آخر میں یہ اختلاف کھل کر سامنے آیا جب اماراتی حمایت یافتہ جنوبی قوتوں نے جنوبی یمن میں اہم پیش قدمی کی۔ سعودی عرب نے اسے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور مکلا میں ایک ایسی کھیپ کو نشانہ بنایا جسے ریاض نے امارات سے منسلک قرار دیا۔ اس کے بعد امارات نے یمن میں باقی ماندہ اپنی افواج واپس بلانے کا اعلان کیا۔اختلاف صرف یمن تک محدود نہیں تھا۔ تیل کی پالیسی، علاقائی اثر و رسوخ اور سوڈان جیسے معاملات میں بھی دونوں کے مفادات مختلف ہوئے ۔اس پس منظر میں شیخ منصور کا ریاض جانا محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھا۔سوال یہ تھا کہ کیا بدل گیا ہے ؟جواب یمن کے نئے میدان میں ملتا ہے ۔
حوثی، باب المندب اور سعودی ضرورت
حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی نے یمن کے بحران کو دوبارہ خلیجی سلامتی کا مرکزی مسئلہ بنا دیا ہے ۔رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے تیز کیے ہیں۔ دوسری طرف ایسوسی ایٹڈ پریس نے یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والی قوتوں کی تقسیم کو نمایاں کیا ہے ۔ مختلف گروہوں کے جغرافیائی مفادات، بیرونی روابط اور سیاسی مقاصد ایک جیسے نہیں۔یہ تقسیم سعودی عرب کے لیے بڑا مسئلہ ہے ۔ کیونکہ حوثیوں کا مقابلہ صرف ایک مسلح گروہ کو شکست دینے کا معاملہ نہیں رہا۔ یمن میں ان کے مقابل قوتیں خود ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جبکہ باب المندب اور بحیرۂ احمر کی اہمیت پورے معاملے کو یمنی خانہ جنگی سے نکال کر بین الاقوامی سلامتی کے مسئلے میں تبدیل کر دیتی ہے ۔روسی ادارہ برائے تزویراتی مطالعات کے مطابق باب المندب کے اطراف حوثیوں کی پیش قدمی نے خلیجی ریاستوں کے درمیان سلامتی کے مختلف تصورات اور ترجیحات کو مزید نمایاں کیا ہے ۔سعودی عرب کے لیے اس کا مطلب صاف ہے ۔اسے حوثیوں کے خطرے کا مقابلہ صرف اپنی سرحد پر نہیں بلکہ بحیرۂ احمر اور باب المندب تک پھیلے ہوئے ایک وسیع جغرافیے میں کرنا ہوگا۔اور یہاں امارات دوبارہ ضروری ہو جاتا ہے ۔
اماراتی فوج سے زیادہ اماراتی اثر
ریاض کے لیے ابوظبی سے دوبارہ قربت کا مطلب لازماً اماراتی افواج کی یمن واپسی نہیں۔اصل اہمیت امارات کے مقامی روابط، یمنی گروہوں پر اس کے اثر و رسوخ، سابقہ فوجی تجربے اور علاقائی معلومات میں ہے ۔یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والی بعض قوتیں وہی ہیں جنہیں ماضی میں امارات کی حمایت حاصل رہی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی یمنی مخالف حوثی قوتوں کی مختلف سرپرستی اور باہمی اختلافات کو نمایاں کیا ہے ۔اس لیے سعودی اماراتی مفاہمت کا اگلا مرحلہ فوجی اتحاد کی بحالی کے بجائے محدود عملی تعاون بھی ہو سکتا ہے ۔
یعنی سعودی عرب کو شاید اماراتی فوج سے زیادہ اماراتی اثر و رسوخ درکار ہو۔یہ ایک تجزیاتی امکان ہے ، ثابت شدہ پالیسی نہیں۔ مگر موجودہ حالات میں اسے نظرانداز کرنا بھی مشکل ہے ۔
ریاض میں اماراتی وفد کا پیغام
شیخ منصور کے وفد کی ساخت اس امکان کو مزید اہم بناتی ہے ۔اماراتی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وفد میں سپریم کونسل برائے قومی سلامتی کے سیکریٹری جنرل، قومی ہنگامی حالات و بحرانوں کے ادارے کے سربراہ اور دفاعی استعداد سے متعلق توازن کونسل کے سیکریٹری جنرل شامل تھے ۔یہ تفصیل معمولی نہیں۔سلامتی، بحران سے نمٹنے اور دفاعی استعداد کے ذمہ دار اعلیٰ حکام کی موجودگی اس بات کا مضبوط قرینہ ہے کہ ملاقات میں سلامتی اور دفاعی معاملات کی اہمیت تھی۔لیکن اس سے کسی خفیہ فوجی معاہدے کا نتیجہ نکالنا درست نہیں ہوگا۔
زیادہ محتاط نتیجہ یہ ہے کہ سعودی اماراتی رابطہ اب دوبارہ اس سطح پر پہنچ رہا ہے جہاں سیاسی تعلقات کے ساتھ سلامتی اور بحران سے نمٹنے کی عملی ضرورت بھی زیرِ بحث آ سکتی ہے ۔
نیتن یاہو یہاں دوبارہ سامنے آتے ہیں
اگر سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف علاقائی تعاون درکار ہے ، اگر امارات کے ایران اور یمن دونوں سے رابطے ہیں، اور اگر اسرائیل ایران اور حوثیوں کو اپنی سلامتی کے دائرے میں دیکھتا ہے تو ابوظبی کی اہمیت اچانک بڑھ جاتی ہے ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسرائیل، سعودی عرب اور امارات ایک باقاعدہ اتحاد بنا رہے ہیں۔زیادہ درست تصویر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے ۔مختلف ریاستیں مختلف خطرات کے مقابلے میں محدود تعاون کر سکتی ہیں، جبکہ دوسرے معاملات میں ایک دوسرے سے اختلاف بھی رکھ سکتی ہیں۔امارات اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے ، مگر ایران سے بھی بات کرتا ہے ۔سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ بعض سلامتی کے معاملات میں رابطہ رکھ سکتا ہے ، مگر اپنی علاقائی ترجیحات میں اسرائیل سے مختلف ہو سکتا ہے ۔اسرائیل ایران کو بڑا خطرہ سمجھتا ہے ، مگر خلیجی ریاستیں ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ سے بچنے میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔یہ اتحاد نہیں، مفادات کی متقاطع لکیریں ہیں۔
نیتن یاہو کے لیے ہر بیرونی خطرہ داخلی سوال کیوں بن جاتا ہے؟
یہاں پھر اصل سوال کی طرف واپس آنا پڑتا ہے ۔نیتن یاہو کے لیے ایران اور حوثی محض بیرونی دشمن نہیں۔ وہ ایسے خطرات ہیں جن کے مقابلے میں وہ اپنی سلامتی کی اہلیت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن یہی وہ جگہ ہے جہاں ان کی سب سے بڑی سیاسی مشکل بھی موجود ہے ۔اگر سلامتی ان کی سب سے بڑی سیاسی طاقت تھی تو 7 اکتوبر اس طاقت کا سب سے بڑا امتحان بھی بن گیا۔اگر وہ ابوظبی میں علاقائی رہنماؤں سے رابطے بحال کر رہے ہیں، ایران کے خلاف علاقائی تعاون پر بات کر رہے ہیں اور اسرائیل کے عرب تعلقات کو فعال دکھا رہے ہیں تو اس کا خارجی مطلب کچھ بھی ہو، داخلی اسرائیلی سیاست میں اس کی ایک اضافی معنویت ضرور پیدا ہوتی ہے ۔کیا نیتن یاہو اب بھی وہی علاقائی سلامتی کا مرکزی کردار ہیں جس کا دعویٰ وہ کرتے رہے ہیں؟اسی لیے ابوظبی کی ملاقات کو نیتن یاہو کی داخلی سیاست سے الگ کرنا مشکل ہے ۔لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ملاقات صرف انتخابی مقصد کے لیے ہوئی تھی۔یہ دونوں چیزیں بیک وقت درست ہو سکتی ہیں۔ملاقات کا حقیقی علاقائی سلامتی کا مقصد ہو، اور اس کا سیاسی اثر نیتن یاہو کے داخلی بیانیے پر بھی پڑے ۔
- اگر سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف علاقائی تعاون درکار ہے ، اگر امارات کے ایران اور یمن دونوں سے رابطے ہیں، اور اگر اسرائیل ایران اور حوثیوں کو اپنی سلامتی کے دائرے میں دیکھتا ہے تو ابوظبی کی اہمیت اچانک بڑھ جاتی ہے ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسرائیل، سعودی عرب اور امارات ایک باقاعدہ اتحاد بنا رہے ہیں۔زیادہ درست تصویر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے ۔مختلف ریاستیں مختلف خطرات کے مقابلے میں محدود تعاون کر سکتی ہیں، جبکہ دوسرے معاملات میں ایک دوسرے سے اختلاف بھی رکھ سکتی ہیں۔
ایک طرف اندرونی دباؤ، دوسری طرف علاقائی ضرورت
یہی تضاد موجودہ صورتِ حال کو اہم بناتا ہے ۔نیتن یاہو کو اندرونِ ملک سلامتی کے سوال، 7؍اکتوبر کی ذمہ داری، عدالتی مقدمات اور انتخابات کا سامنا ہے ۔ بیرونِ ملک اسرائیل کو ایران، حوثیوں اور وسیع تر علاقائی کشیدگی کا سامنا ہے ۔سعودی عرب کو یمن، حوثیوں اور باب المندب کا مسئلہ درپیش ہے ۔امارات کو اپنی علاقائی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے سعودی، ایرانی، اسرائیلی اور امریکی تعلقات میں توازن قائم رکھنا ہے ۔اس لیے تینوں کی ضرورتیں ایک مقام پر ملتی ہیں، مگر ان کے مقاصد ایک جیسے نہیں۔یہ فرق برقرار رہنا ضروری ہے ۔ورنہ ہر ملاقات کو ایک نئے خفیہ اتحاد کا نام دے دینا آسان ہوگا، جبکہ حقیقت شاید اس سے کہیں زیادہ عارضی، محدود اور مفاداتی ہو۔
مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر کیوں نہیں آ رہے؟احتیاط ، جنگی حکمت عملی یا کچھ اور!
اگلا مرحلہ کیا بتائے گا؟
اصل امتحان آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ہوگا۔کیا سعودی اماراتی اعلیٰ سطح کے رابطے جاری رہتے ہیں؟کیا یمن میں اماراتی روابط کو سعودی سلامتی کے نئے بندوبست میں استعمال کیا جاتا ہے ؟کیا حوثیوں کے خلاف کارروائی میں سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ یمنی قوتوں کے درمیان کوئی نئی ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے ؟کیا اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان حوثیوں یا ایران کے بارے میں اطلاعاتی تعاون کی اطلاعات کوئی باقاعدہ شکل اختیار کرتی ہیں؟ ستمبر میں علاقائی سفارت کاروں کے حوالے سے ایسی بات چیت کی خبریں سامنے آئی تھیں، تاہم اس کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق موجود نہیں۔اور سب سے بڑھ کرکیا نیتن یاہو اپنی علاقائی سفارت کاری کو اسرائیل کے اندر اپنی سلامتی کی ساکھ بحال کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، یا یہ رابطے صرف وسیع تر علاقائی ضرورت کا حصہ رہتے ہیں؟ان سوالات کے جوابات ہی بتائیں گے کہ موجودہ سرگرمی عارضی بحران کا ردِعمل ہے یا مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سلامتی بندوبست کی ابتدا۔
آخری بات
ابوظبی سے ریاض تک کا فاصلہ جغرافیائی اعتبار سے مختصر ہے ، لیکن سیاسی اعتبار سے اس کے اندر مشرقِ وسطیٰ کے کئی بحران سمٹ آئے ہیں۔ ایک طرف نیتن یاہو ہیں، جن کی سیاسی شناخت سلامتی کے دعوے پر قائم رہی ہے مگر 7؍اکتوبر نے اسی دعوے کو بنیادی سوال بنا دیا۔ ان کے خلاف عدالتی مقدمات جاری ہیں، انتخابات قریب ہیں اور داخلی سیاسی صف بندی غیر یقینی ہے ۔دوسری طرف سعودی عرب ہے ، جو حوثیوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے باعث یمن اور باب المندب کو دوبارہ اپنی قومی سلامتی کے مرکز میں دیکھ رہا ہے ۔درمیان میں امارات ہے ، جو اسرائیل سے بھی بات کر سکتا ہے ، ایران سے بھی، سعودی عرب سے بھی اور امریکہ سے بھی۔اس لیے حالیہ واقعات کو کسی ایک خفیہ منصوبے کی شکل دینا شواہد سے زیادہ ہوگا۔ لیکن انہیں محض رسمی سفارتی ملاقاتیں سمجھنا بھی حقیقت کو کم کر دے گا۔زیادہ مضبوط نتیجہ یہ ہے کہ خطے میں مفادات کی نئی صف بندی بن رہی ہے ۔ اس صف بندی کی بنیاد لازماً نظریاتی اتحاد نہیں بلکہ مشترک خطرات، مقامی ضرورتیں اور بدلتے ہوئے طاقت کے توازن ہیں۔اور اس پوری تصویر میں نیتن یاہو کی داخلی مشکل کو نظرانداز کرنا سب سے بڑی غلطی ہوگی۔کیونکہ اسرائیل میں جب سلامتی سیاسی بقا کا بنیادی سوال بن جائے ، تو ایران کا خطرہ، حوثیوں کا میزائل، ابوظبی کی ملاقات اور ریاض کا اجلاس سب صرف خارجہ پالیسی کے واقعات نہیں رہتے ۔وہ ایک ہی سیاسی سوال کے مختلف رخ بن جاتے ہیں۔کیا نیتن یاہو اب بھی اسرائیل کو درپیش علاقائی خطرات کے درمیان اپنی سلامتی کی سیاسی ساکھ برقرار رکھ سکتے ہیں؟اور اس سوال کا جواب صرف اسرائیل کے اندر نہیں ملے گا۔اس کا ایک حصہ ابوظبی میں ہے ، ایک ریاض میں، ایک یمن کے میدان میں، اور ایک باب المندب کے پانیوں میں۔
٭٭٭


